• 425
    Shares

اعظم شہاب

سال قبل 16؍ دسمبر 2012 کو دہلی میں اپنے مرد دوست کے ساتھ رات میں تفریح کی غرض سے نکلنے والی اونچے طبقے کی ایک لڑکی کے ساتھ کچھ درندوں نے عصمت دری کے بعد اسے اور اس کے دوست کو چلتی بس سے پھینک دیا تھا۔ اسے بغرض علاج سنگاپور لے جایا گیا لیکن 29 دسمبر کو وہ جان کی بازی ہار گئی۔ اس واقعے کے خلاف پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا تھا۔ دہلی سے لے کر ممبئی تک لکھنؤ سے لے کر بنگلور تک ہر جگہ مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ متاثرہ لڑکی کو انصاف دلانے کی مہم کچھ اس شدت سے شروع ہوئی تھی کہ اس واقعے کے محض 2 دن بعد ہی پولیس نے 6 لوگوں کو گرفتار کرلیا تھا۔ ان میں سے ایک نے جیل میں ہی خودکشی کرلی تھی، ایک کو نابالغ ہونے کی بناء پر تین سال بعد رہائی مل گئی تھی جبکہ بقیہ 4 لوگوں کو پھانسی دیدی گئی تھی۔ اس لڑکی کا نام یوں تو کچھ اور تھا لیکن اسے ’نربھیا‘ کا نام دیا گیا، جس کے بعد سے ’نربھیا‘ ملک بھر میں جنسی بربریت کا ایک علامتی نام بن گیا۔

تازہ ترین واقعہ دہلی کے سنگم وہار کی رہنے والی رابعہ سیفی کا ہے جس کے ساتھ بھی حیوانیت و درندگی کا نربھیا کی ہی مانند مظاہرہ ہوا ہے۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ ظلم وناانصافی اسی وقت ظلم وناانصافی قرار پاتی ہے جب وہ اپنے جیسوں کے ساتھ ہو۔ چونکہ نربھیا اعلیٰ تعلیم یافتہ، ماڈرن اور اونچے طبقے سے تعلق رکھتی تھی اس لئے پہلے میڈیا، پھر طبقۂ اشرافیہ اور پھر ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے فریضے کے طور پر پورے ملک نے اس کو انصاف دلانے کی مہم میں حصہ لیا۔ مگر کشمیر، ہاتھرس، جھارکھنڈ و دہلی کی متاثرہ لڑکیوں کا تعلق چونکہ اونچے طبقے سے نہیں تھا، اس لئے اول تو ان کے خلاف آواز نہیں اٹھی، اور اگر اٹھی بھی تو حکومت وانتظامیہ کے ذریعے اسے دبا دیا گیا اور پھر بھی نہیں دبی تو پولیس کے ذریعے اس طرح کے واقعات سے ہی انکار کر دیا گیا۔ یہ صورت حال اس ملک کی ہے جہاں عورتوں کو دیوی کا درجہ دیا جاتا ہے اور جہاں بیٹی بچاؤ اور بیٹی پڑھاؤ کی مہم چلائی جاتی ہے۔

رابعہ سیفی کے معاملے میں حکومت و انتظامیہ کی سرد مہری کا سب سے بڑا سبب اس کے علاوہ کیا کچھ اور ہوسکتا ہے کہ وہ ایک غریب خاندان کی اقلیتی طبقہ کی لڑکی ہے؟ اگر یہی رابعہ کوئی ریکھا یا سریتا ہوتی، کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں کسی اونچے عہدے پرفائز ہوتی تو کیا حکومت وانتظامیہ کا یہی رویہ ہوتا؟ خبروں کے مطابق اس معاملے میں کوئی مہرا نامی آفیسر بھی ملوث ہے، لیکن اسے شوہر کی انتقامی کارروائی بتاکر پیش کیا جا رہا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ مقتولہ کا شوہر بھی عین موقع پر سامنے آگیا۔ جبکہ رابعہ کے والدین اس بات سے ہی انکار کر رہے ہیں کہ ان کی بیٹی کی شادی ہوئی تھی۔ اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ شوہر نامدار جن کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ بھی ڈیفنس میں ہی کام کرتے ہیں، اس وقت سامنے آئے جب رابعہ کے ساتھ ہوئی بربریت نے لوگوں کو جنجھوڑنا شروع کر دیا تھا۔

پولیس کے ذریعے اس معاملے میں جو کہانی سامنے آرہی ہے وہ یہ ہے کہ نظام الدین نے رابعہ سے شادی کرلی تھی، لیکن رابعہ نے اس کی ساتھ بیوفائی کی جس سے دلبرداشتہ ہوکر ملزم نے اس کو قتل کر دیا اور خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ اگر اس کہانی پر یقین بھی کرلیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ملزم کو خود کو پولیس کے حوالے ہی کرنا تھا تو اس کے لیے اسے دہلی سے باہر سورج کنڈ تک جانے کی کیا ضرورت آن پڑی؟ اس طرح کے جرم اضطراری کیفیت میں انجام پاتے ہیں نہ کہ منصوبہ بند طریقے سے۔ اور ایسی صورت میں اس کا امکان مزید کم ہو جاتا ہے جب ملزم خود کو قانون کے حوالے کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ اس کے علاوہ اس معاملے میں پولیس اس آڈیو ریکارڈنگ کے بارے میں بھی ابھی تک کوئی خاطرخواہ جواب نہیں دے سکی ہے جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ رابعہ کے ساتھ کام کرنے والی کسی خاتون دوست کا ہے اور جس نے اپنے سینئر روندر مہرا کو اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ کیا یہ سب باتیں اس درندگی وقتل کو منصوبہ بند قرار دینے کی چغلی نہیں کھا رہے ہیں؟

یہاں سوال یہ نہیں ہے کہ رابعہ سیفی نے شادی کرلی تھی اور شوہر نے اس کی بیوفائی کی وجہ سے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ سوال ہماری حکومتوں، انتظامیہ اورخاص طور سے سماج کی بے حسی کا ہے۔ کیا اس طرح کے جرائم پر اسی وقت انصاف کی گہار لگائی جائے گی جب جرم کی شکار ہونے والی لڑکی اونچے طبقے سے تعلق رکھتی ہو؟ کیا رابعہ کے ساتھ ہوئی دردنگی اور قتل کو یہ کہہ کر ہم جواز فراہم نہیں کر رہے ہیں کہ قاتل نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے؟ اگرایسا ہے تو پھر معاف کیجئے نربھیا اور حیدرآباد کے وٹرنری ڈاکٹر کے انصاف کے لیے ہم نے جو گہار لگائی تھی وہ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں تھا۔ رابعہ کے والدین بار بار اس کی آزادانہ تفتیش کا مطالبہ کر رہے ہیں مگر تفتیش کرانا تو دور اس واقعے کو دہلی تک میں منتقل نہیں کیا جا رہا ہے۔

نربھیا کے گنہگاروں کو انصاف دلانے کی مہم کی شدت کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ اب دوبارہ اس طرح کی درندگی کی ہمت کوئی نہیں کرسکے گا، کیونکہ اسی دوران پارلیمنٹ میں اس طرح کے واقعات کے خلاف سخت ترین قانون بھی بنایا گیا تھا جسے نربھیا قانون کہا جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے ان احتجاجات اور قوانین کے باوجود بھی اس طرح کے واقعات نہیں رکے اور کبھی حیدرآباد تو کبھی کشمیر، کبھی بہار تو کبھی اترپردیش سے اس طرح کی درندگی کی خبریں آتی رہیں اور آج بھی آرہی ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان احتجاجات کے پسِ پشت اسی طرح کے سیاسی مقصد کا حصول کارفرما تھا جس طرح اناہزارے کی بدعنوانی مخالف مہم میں کار فرما رہا۔ شاید اسی لئے جو حشر بدعنوانی مخالف مہم کا ہوا وہی نربھیا مہم کا بھی ہوا یعنی کہ نہ بدعنوانی رکی اور نہ ہی نربھیا جیسی درندگی۔ البتہ ان کا اتنا فائدہ ضرور ہوا کہ اس وقت کی مرکزی حکومت کے خلاف ایک ایسا ماحول تیا ر ہوگیا جس نے 2014 میں حکومت کی تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔