دنیا بھر میںٹ ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ سامنے آگئی ہے۔ درحقیقت فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس کے قریب رہائش ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ امپرئیل کالج بزنس اسکول کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ہمارے ارگرد کا غذائی ماحول خوراک کے انتخاب اور موٹاپے پر اثر انداز ہوتا ہے، مگر اس سے پہلے ترقی پذیر ممالک میں اس تعلق پر زیادہ کام نہیں ہوا۔

اسی مقصد کے لیے محققین نے جنوبی ایشیا کے مختلف ممالک میں کے رہائشیوں کی غذا اور ذیابیطس یا بلڈ شوگر ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کسی فرد کے گھر کے قریب فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس کی تعداد زیادہ ہونے پر ذیابیطس کی تشخیص کا امکان 8 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق گھر کے پاس ایک فاسٹ فوڈ مرکز ہونے پر بھی بلڈ گلوکوز میں اوسطا 2.14 ایم جی/ ڈی ایل اضافہ ہوجاتا ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ خواتین اور زیادہ کمانے والے افراد میں ہائی بلڈ شوگر کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
محققین نے تسلیم کیا کہ تحقیق کافی حد تک محدود تھی جیسے ذیابیطس کے خود رپورٹ کیے گئے ڈیٹا پر انحصار کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ نتائج کی تصدیق کے ساتھ یہ معلوم ہوسکے کہ غذائی ماحول کس حد تک لوگوں کی خوراک اور صحت پر اثرانداز ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ اس طرح کے ماحول کو ہدف بنانا ذیابیطس کی روک تھام میں مؤثر ہوسکتا ہے، مگر اس حوالے سے مخصوص طریقوں کی ضرورت ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی ایشیا میں ہر 11 میں سے ایک بالغ فرد ذیابیطس سے متاثر ہے اور وہاں ہر سال 7 لاکھ 47 ہزار اموات ہورہی ہیں جن کی روک تھام کی جاسکتی ہے۔محققین نے کہا کہ ہماری تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ گھر کے قریب ایک فاسٹ فوڈ مرکز بھی ذیابیطس کی تشخیص کا امکان 16 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے پلوس میڈیسین میں شائع ہوئے۔