لکھنو:17جون(یواین آئی) الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو ڈویژن نے آئے دن داخل کی جارہی مفاد عامہ کی عرضیوں پر ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایک دو لوگوں و گروپوں کے درمیان ان کے ذاتی تنازعات سے متعلق کسی مسئلے کومفاد عامہ کی عرضی کے طورپر قبول نہیں کیا جاسکتا ہے اور نہ اس قسم کے مسئلے پر کوئی مفاد عامہ کی عرضی داخل کی جاسکتی ہے۔

ہائی کورٹ نے اس آرڈر آف لاء کے ساتھ ریاست میں ایمبولنس کی دستیابی کے ٹینڈر تنازع کے سلسلے میں داخل مفاد عامہ کی عرضی کو خارج کردیا۔یہ حکم جسٹس رمیش سنہا اور جسٹس جسپریت سنگھ کی ڈویژن بنج نے وکیل گرمیت سنگھ سونی کی مفاد عامہ کی عرضی پر دیا۔ عرضی گذار کا کہنا تھا کہ کورونا بحران میں سہولیت بڑھانے کو ایمبولنس خدمات کی دستیابی کے لئے ٹینڈر نکالے گئے۔ اس کے لئے متعلقہ افسر نے ایک فریق کی تکنیکی بڈ منظور کرلی جبکہ اسی فریق کو مدھیہ پردیش کی نیشنل ہیلتھ مشن اسکیم میں ایمبولنس دستیابی کے لئے بلیک لسٹ کیا گیا تھا۔

ایسے میں ٹینڈر سے متعلق اس کی بولی کو منظور نہیں کیا جانا چاہئے تھا۔ اس کی اندیکھی کرتے ہوئے سرکاری افسروں نے گذشتہ 21مئی کو فریق کی بولی منظور کرلی۔
عرضی گذار نے ٹینڈر متعلق 26مئی کی سمری رپورٹ کو منسوخ کرنے اور فریق کو ٹینڈر کو’لیٹر آف انٹینٹ‘ جاری نہ کئے جانے کی گذارش کی تھی کیونکہ وہ معاملہ کورونا کے دوران طبی خدمات سے وابستہ تھا۔ دوسری جانب عرضی گذار کی سخت مخالفت کرتےہوئے سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ یہ عرضی ایک ناکام بولی لگانے والے کی طرف سے ٹینڈر عمل میں روکاوٹ ڈالنے کی کوشش لگتی ہے۔ جس سے مفاد عامہ کےطور بنا کر دائر کیا گیا۔ جو مفاد عامہ کے مبارک مقصد کو تارتار کرنے والی ہونے کی وجہ سے خارج کئے جانے لائق ہے۔
عدالت نے مفاد عامہ کی عرضی کے سلسلے میں کئی نظیروں کا حوالہ دےکر کہا کہ دو مخالف گروپوں کے درمیان ذاتی تنازع سے متعلق کسی مسئلے کو مفاد عامہ کی عرضی کے طور پر قبول نہیں کا جاسکتا ہے۔اور عرضی کو خارج کردیا۔