بھوپال:(ایجنسیز ) فلم ’دی کشمیر فائلس‘ لگاتار سرخیوں میں ہیں۔ اب اس فلم کے تعلق سے گزشتہ دنوں ٹوئٹ کرنے والے آئی اے ایس افسر نیاز خان کو مدھیہ پردیش حکومت کے ذریعہ نوٹس بھیجے جانے کی خبریں سامنے آ رہی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق مدھیہ پردیش حکومت نے آئی اے ایس افسر نیاز خان کو حال ہی میں ریلیز ہوئی فلم ’دی کشمیر فائلس‘ پر متنازعہ ٹوئٹ کرنے کے لیے وجہ نوٹس جاری کیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق مدھیہ پردیش حکومت نے نیاز خان کے فلم سے متعلق تبصروں کو نفرت پھیلانے والا اور آل انڈیا پبلک سروسز کے اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے یہ نوٹس جاری کیا ہے۔ نیاز خان نے ایک خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے وجہ بتاؤ نوٹس ملنے کی بات کو درست ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ حکومت نے ان سے سات دنوں میں جواب مانگا ہے۔ حالانکہ انھوں نے نوٹس کے بارے میں بہت زیادہ تفصیل دینے سے منع کر دیا۔واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کے محکمہ عوامی تعمیرات میں ڈپٹی سکریٹری نیاز خان نے گزشتہ ہفتے ایک ٹوئٹ میں ’دی کشمیر فائلس‘ بنانے والوں سے کہا تھا کہ ہندوستان میں کئی ریاستوں میں بڑی تعداد میں ہوئے مسلمانوں کے قتل کو دکھانے کے لیے ایک فلم بنانی چاہیے۔

انھوں نے کہا تھا کہ مسلمان کیڑے-مکوڑے نہیں، بلکہ انسان ہیں اور ملک کے شہری ہیں۔ اپنے ٹوئٹ میں نیاز خان نے یہاں تک لکھا تھا کہ الگ الگ مواقع پر مسلمانوں کے قتل عام کو دکھانے کے لیے وہ ایک کتاب لکھنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں تاکہ ’دی کشمیر فائلس‘ کی طرح کوئی فلمساز اس پر بھی فلم بنا سکے اور اقلیتوں کے درد اور تکلیف کو ہندوستانیوں کے سامنے لایا جا سکے۔