قاہرہ۔ نہر سوئز میں پھنسا ہوا دیو ہیکل بحری جہاز اب تک نکالا نہیں جاسکا ہے جس سے یوروپ سے ایشیا سامان پہنچانے کا بحری راستہ بند ہوگیا۔ کئی بحری جہاز راستے میں ہی رک گئے جبکہ آئل ٹینکرز کے شپنگ ریٹس دوگنے ہوگئے ہیں۔ دنیا بھر میں تیل کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔ حکام کے مطابق جہاز کا رخ موڑ کر نہر میں راستہ بنانے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق بچاؤ کاری ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ رکاوٹ چند دنوں یا ہفتوں تک بھی جاری رہ سکتی ہے جس سے ممکنہ طور پر عالمی سطح پر سپلائی نیٹ ورک کو دھچکا لگے گا اور کاروباریوں کو افریقہ کے جنوبی سرے کے آس پاس کارگو جہازوں کو بھیجنا پڑے گا۔ ایک بڑے آپریٹر ہپگ لائیڈ نے بتایا کہ اس کے پانچ جہازوں کو روکا گیا ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں