Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

دیوبند: عیدگاہ میدان پر خواتین کا احتجاج جاری، ’بھارت بند‘ کا بڑے پیمانے پر اثر

دیوبند: شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دیوبند کے عیدگاہ میدان میں جاری خواتین کے احتجاج نے دہلی کے شاہین باغ کی صورت اختیار کرلی ہے اور گزشتہ تین دن سے سخت سردی اور بارش کے باوجود مسلسل کھلے میدان میں ڈٹی خواتین کو چاروں طرف سے زبردست حمایت مل رہی ہے۔

بدھ کے روز ’بھارت بند‘ کی کال کے سبب یہاں تاریخی بھیڑ دیکھنے کو ملی۔ عیدگاہ میدان سے ہزاروں مردو خواتین نے بیک آواز سی اے اے، این آرسی اور این پی آر کو واپس لینے کی مانگ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک یہ کالا قانون اور ناجائز عمل واپس نہیں ہونگے اس وقت تک ہماری تحریک بدستور جاری رہے گی۔

متحدہ خواتین کمیٹی کے زیر اہتمام دیوبند کے عیدگاہ میدان میں گزشتہ تین دنوں سے سی اے اے، این آرسی اور این پی آر کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ چل رہا ہے۔ خواتین عیدگاہ کے میدان میں دن رات جمع ہیں اور وہ مسلسل حکومت کو وقت نشانہ بنارہی ہے۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ اس احتجاج میں دیوبند کے اکثرو بیشتر گھروں سے باپردہ خواتین شامل ہورہی اور اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ اس تحریک میں اپنا تعاون دے رہی ہیں۔ منگل کی رات اور بدھ کے روز کی بھیڑ اور خواتین کا جوش خروش قابل دید تھا۔ سخت سردی و بارش بھی ان باہمت خواتین کے حوصلوں کو پست نہیں کرسکی۔

بہوجن کرانتی مورچہ کے سیکڑوں مرد و خواتین نے بدھ کے روز احتجاج گاہ پہنچ کر خواتین کو اپنی حمایت دی اور کہا کہ جب تک یہ کالا قانون واپس نہیں ہوگا اس وقت تک بہوجن کرانتی مورچہ کااحتجاج بھی جاری رہے گا۔ مورچہ کی خواتین ونگ کی عہدیدان رنجنا لہری نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ’’موجودہ مودی حکومت ہندوستان کے لوگوں کو مذہب کے نام پر تقسیم کر رہی ہے۔ سی اے اے آئین کے خلاف ہے، جس کے لئے سیکولر ہندوستان میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ حکومت مسلم، دلت، پسماندہ اور دیگر دبے کچلے طبقات کے استحصال میں پیش پیش ہے لیکن اب ان کی یہ سازشیں کامیاب نہیں ہوگی۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’اس حکومت کے پاس روزگار، معیشت، مہنگائی، کسان، تعلیم، صحت جیسے بنیادی سوالات کے جواب نہیں ہیں اور یہی سبب ہے کہ وہ لوگوں کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنا چاہتے لیکن یہاں کے عوام اب ان کی پالیسی کو سمجھ چکے ہیں، حکومت کو اس قانون کو واپس لینا ہی ہوگا، کیونکہ یہ ملک گاندھی، ڈاکٹر امبیڈکر اور مولانا ابولکلام آزاد کے قائم کردہ راستوں پر چلے گا۔‘‘

پروگرام کی نظامت کر رہی فوزیہ سرور نے کہا کہ جب تک سی اے اے واپس نہیں ہوگا اس وقت تک ہمارا احتجاجی مظاہرہ بدستور جاری رہے گا کیونکہ ہم یہاں آئین ہند کے تحفظ کے لئے بیٹھے ہیں۔

انقلابی نعروں کے ساتھ قومی پرچم ہاتھوں میں لیکر خواتین عیدگاہ کے میدان میں شدید سردی اور بارش کے باوجود ٹینٹ میں راتیں گزاررہی ہے، خواتین کی ہمتوں کو دیکھ کرلوگ رشک کررہے ہیں اور ان کی اس تحریک میں تعاون کررہے ہیں۔ حالانکہ انتظامیہ مسلسل اس تحریک کو ختم کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن باہمت خواتین اس تحریک کو طویل مدت تک چلانے کے لئے پر عزم نظر آرہی ہیں۔

شہر سے مسلسل ٹولیوں میں ترنگے جھنڈوں کے ساتھ خواتین عیدگاہ میدان پہنچ رہی ہیں۔ خواتین نے قومی ترانہ اور آئین کی تمہید پڑھ کر مرکزی حکومت سے سی اے اے کو واپس لینے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہندوستانی خواتین حجاب میں بھی اپنی آواز بلند کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

میرٹھ سے آئیں قمر جہاں نے کہا کہ حکومت وقت ملک کے مشترکہ ور ثہ اور گنگا جمنی تہذیب کو تباہ کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے لیکن ملک کے عوام حکومت کی اس منشا کو پورا نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ یہ قانون ہر طبقہ کو ہراساں کرنے والا ہے اسلئے ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں وہ فوری طورپر یہ قانون واپس لے۔

متحدہ خواتین کمیٹی کی صدر آمنہ روشی، عنبر ملک، نازیہ پروین، عذرا خان اور سلمہ احسن نے کہا کہ سی اے اے اور این آرسی کی وجہ سے گھروں میں پردہ میں رہنے والی خواتین کوسڑکوں پر دن رات دھرنا اور احتجاجی مظاہرہ کرنے کے لئے حکومت نے مجبور کردیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اکثریت کے زعم میں غلط قوانین پاس کررہی ہے لیکن عوامی اکثریت ایسے قوانین کو کبھی برداشت نہیں کریگی۔

بھارت بند کے دوراندیوبند کا بند بازار ۔ فوٹو ایم افسر

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف بہوجن کرانتی مورچہ کے ’بھارت بند‘ کااثر دیوبند میں بھی دیکھنے کو ملا۔ یہاںمسلم علاقوں میں بند پوری طرح کامیاب رہا، حالانکہ مخلوط آبادی میں بند کا اثر جزوی طور پر نظر آیا۔ دریں اثنا، اکثریتی فرقہ کے علاقوں میں دکانیں مکمل طور پر کھلی رہیں۔

بھارت بند کی اپیل کے سبب بدھ کے روز شہر کے مسلم علاقوں میں پوری طرح بازار بند رہا، جبکہ ملی جلی آبادی میں بند ملا جلا ہی رہا اور خاص طورپر اکثریتی فرقہ کے لوگوںمیں حسب دستور کھلی نظر آئی۔ بازار بند کے سبب صبح سے ہی پولیس انتظامیہ اور ایس پی دیہات ودھیا ساگر مشر نے فورس ساتھ بازاروں میں گشت کیا۔ شہر میں بند کا باقاعدہ کوئی اعلان نہیں تھا اس کے باوجود صبح سے ہی مسلم علاقوں میں بند کا چرچہ تھا۔ تاجروں نہ صرف اپنے کاروباری اداروں کو بند رکھا بلکہ عیدگاہ کے میدان میں جاری خواتین کے احتجاج میں شامل بھی ہوئے۔

ایس پی دیہات ودھیا ساگر مشر نے بتایا کہ بند میں کسی بھی طرح کی کوئی شکایت نہیں ملی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنہوں نے اپنا احتجاج درج کرانا ہے انہوں نے پر امن طریقے سے اپنی دکانیں بند رکھی اور دیگر لوگوں نے حسب دستور اپنی دکانیں بھی کھولی ہیں۔حالانکہ ہفتہ واری بدھ بازار میں بھی آج رونقیں نہیں تھیں۔ اس کے علاوہ سہارنپور اور مظفرنگر میں بند کا کافی اثر دیکھنے کو ملا اور یہاں بھی مسلم علاقوں میں پوری طرح بند رہا حالانکہ اکثریتی فرقہ کے لوگوں نے اپنی دکانیں حسب دستور کھولے رکھے مگر خریدار کم ہی نظر آئے۔

خواتین کی اس تحریک کے سبب دیوبند میں چپہ چپہ پر پولیس فورس تعینات ہے، خاص طور پر عیدگاہ میدان کے اطراف، ہائی وے اور دیوبند حدودی علاقوں میں فورسس کو تعینات کیاگیا ،اتنا ہی نہیں خفیہ محکمہ او راعلیٰ افسران نہایت باریکی کے ساتھ احتجاج پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس دھرنے کو ختم کرنے کی تک و دو میں بھی لگے ہوئے ہیں۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو