دیوبندمیں شادی شدہ خاتون کے ساتھ چھیڑ خانی پر بی جے پی اور ۤآر ایس ایس کارکنوں کا ہنگامہ

دیوبند، 20 مئی (یو این آئی) دیوبند میں کل رات ایک شادی شدہ خاتون کے ساتھ چھیڑ خانی کے واقعہ کے خلاف احتجاج میں دو بقوں کے درمیان مار پیٹ اور زبردست ہنگامہ ہوا۔راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور دیگر تنظیموں کے لوگ دیر رات تک دیوبند کوتوالی میں کھڑے ہو کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے۔ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سہارنپور کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آکاش تومر نے رات ہی میں ایس پی دیہات سورج کمار رائے کو دیوبند بھیج دیا۔ پولیس نے پانچ نامزد ملزمان میں سے چار کو رات ہی گرفتار کر لیا اور پانچویں ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس کی تین ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں۔ واقعہ کے بعد امن و امان کی صورتحال خراب ہوسکتی تھی تاہم پولیس کی موثر کارروائی سے حالات قابو میں رہے۔

کوتوالی انچارج پربھاکر کنٹورا نے جمعہ کو بتایا کہ عبداللہ نامی نوجوان نے کل رات 8.30 بجے اناج منڈی علاقہ میں ایک دوسری کمیونٹی کی شادی شدہ لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کی جس کا متاثرہ نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ لڑکی کے والد اور دیگر قریبی رشتہ داروں کی دکانیں جائے وقوعہ کے قریب ہیں۔ ہنگامہ کو دیکھتے ہی موقع پر لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی۔ پولیس کے مطابق ملزم عبداللہ کے دو بھائیوں آفتاب اور گلزار اور ان کے والد امتیاز اور ایک اور شخص سلمان ولد بھورا نے لڑکی کی حمایت کرنے والوں کو زدوکوب کیا۔
اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاٹھی چارج کرکے حالات کو قابو میں کیا۔ لڑکی کے سسر نے آفتاب، گلزار، عبداللہ اور ان کے والد امتیاز اور سلمان ولد بھورا کے خلاف چھیڑ خانی، ہنگامہ آرائی، قتل کی کوشش اور ڈکیتی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرایا۔ پولیس نے امتیاز کے علاوہ باقی تمام ملزمان کو گرفتار کر کے جمعہ کو جیل بھیج دیا۔

اس واقعہ کی مخالفت میں سٹی بی جے پی، آر ایس ایس اور کچھ ہندو تنظیموں کے کارکنان کوتوالی پہنچے اور پولیس افسران سے ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ اطلاع ملنے پر سی او/ایڈیشنل ایس پی درگا پرساد تیواری کوتوالی پہنچے اور لوگوں کی شکایات سننے کے بعد حل کا یقین دلایا۔ایس ایس پی آکاش تومر نے مقامی پولیس کو معاملے کو سنجیدگی سے لینے اور موثر کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔ احتجاج کرنے والی تنظیموں نے جمعہ کو ملک بند بازار بند کرنے کا بھی انتباہ دیا تھا۔ اس کے پیش نظر نماز جمعہ کے دوران خصوصی احتیاط برتی گئی۔