دینی مدرسے کی معلمہ کا قتل، ملزم گرفتار

1,352

’وہ دینی مدرسے کی معلمہ تھی، اپنے بہنوئی کے بھائی سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی اور ایک ہفتے پہلے والدین نے اس کا رشتہ کہیں اور طے کر دیا تھا جس کا بظاہر معلمہ کے بہنوئی کو دکھ تھا۔ پھر بہنوئی نے تشدد کر کے معلمہ کو قتل کر دیا۔‘

یہ کہنا تھا ایس ایس پی آپریشنز کاشف عباسی کا جو ضلع پشاور کے گاؤں بڈھ بیر میں ہونے والے اس واقعے کے حوالے سے پریس کانفرنس کر رہے تھے۔

ان کے مطابق پولیس نے معلمہ کے بہنوئی کو گرفتار کر لیا ہے اور آج مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا ہے جہاں عدالت نے ملزم کو تفتیش کے لیے تین دن کے لیے پولیس کی تحویل میں دینے کا حکم دیا ہے۔

معلمہ کی عمر 24، 25 سال بتائی گئی ہے اور وہ بڈھ بیر کے مدرسہ عائشہ صدیقیہ میں درس و تدریس سے وابستہ تھیں۔

ایس ایس پی آپریشنز کاشف عباسی کے مطابق ’یہ قتل ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا تھا اور بظاہر ملزم نے اپنی طرف سے بہترین پلاننگ کی تھی لیکن پولیس نے جیو فینسنگ، سی سی ٹی وی کیمروں اور موقع پر موجود شواہد کی بنیاد پر ملزم کو وقوعہ کے چند روز کے اندر گرفتار کر لیا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس قتل کے بعد خاتون کا بہنوئی بڈھ بیر کے علاقے میں احتجاج میں پیش پیش رہا اور پولیس اور مدرسے کی انتظامیہ کے خلاف نعرے لگانے میں بھی اس نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ’تاکہ اس پر کسی کو شک نہ گزرے لیکن ملزم کہیں نہ کہیں اپنے جرم کے نشان چھوڑ جاتا ہے۔‘

خیال رہے کہ بڈھ بیر میں گذشتہ جمعہ کی صبح معلمہ کی لاش ملی تھی جس کے بعد اہلِ علاقہ نے احتجاج کیا تھا اور انڈس ہائی وے کو بلاک کر دیا تھا۔

قتل کی منصوبہ بندی کیسے کی گئی؟

یہ دن 14 ستمر کا تھا جب معلمہ صبح اپنے مدرسے گئی تھیں اور اس دن انھیں مدرسے کے لاؤڈ سپیکر کا مائیک چاہیے تھا اور معلمہ نے بھائی سے کہا تھا کہ وہ مائیک اسے مدرسے پہنچا دیں۔

اس روز ملزم بہنوئی نے ایک گاڑی کا انتظام کیا اور یہ کہہ کر گاڑی ساتھ لے گیا کہ انھیں ڈرائیور نہیں چاہیے کیونکہ ان کے ساتھ خواتین ہیں۔

پولیس کے مطابق ملزم مدرسے کے سامنے پہنچا جہاں سے برقعے میں ایک خاتون ملزم کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی اور بظاہر وہ مائیک لینے کے لیے جا رہے تھے لیکن ملزم کے ارادے کچھ اور تھے۔

پولیس حکام نے بتایا کہ مدرسے سے نکلنے والی خاتون بغیر کسی مزاحمت کے گاڑی میں بیٹھ گئی جس سے یہ واضح ہو گیا تھا کہ ملزم ضرور خاندان سے ہے یا واقف بندہ ہے جس کے ساتھ خاتون روانہ ہو گئی ہے۔

ملزم گاڑی انڈس ہائی وے سے قلعہ بند روڈ پر لے گیا۔ پولیس نے پریس کانفرنس میں اس روڈ کی ویڈیو بھی صحافیوں کو دکھائی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تقریباً چار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد گاڑی ایک ویرانے میں رک جاتی ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم نے باہر نکل کر لڑکی کو باہر آنے کا کہا اور باہر لڑکی کو دو گولیاں ماریں۔ ملزم نے لڑکی پر تشدد کیا اس کے بال نوچے یا کاٹے اور بعد میں لڑکی کے جسم پر متعدد زخموں کے نشان بھی ملے۔

پولیس نے بتایا کہ فائرنگ کے بعد لڑکی گر گئی تھی جس کے بعد ملزم نے لڑکی کا گلا دبایا اور لاتیں ماریں اور اس کے چہرے کو نوچا یا اس پر تشدد کیا جس کے نشان ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔

اس کے بعد جب ملزم کو یقین ہو گیا کہ لڑکی مر گئی ہے تو اسے اٹھا کر کوڑا کرکٹ میں پھینک دیا اور اس کے اوپر گھاس پھوس ڈال دی۔

کاشف عباسی نے بتایا کہ ’ملزم نے وہاں سے اپنے دوست کو فون کیا کہ وہ اپنے کپڑوں کا ایک جوڑا لے کر وہاں آئے اور اسے یہ بتایا کہ اس کو حادثہ ہو گیا ہے اور یہ کہ اس کپڑوں پر سارا خون لگا ہوا ہے ملزم نے یہ بھی تنبیہ کی کہ جس کے ساتھ بھی آئے وہ مقامی شخص نہیں ہونا چاہیے۔

’لیکن چونکہ دوست جلدی میں روانہ ہوا تو مقامی رکشہ ڈرائیور کے ساتھ آیا جس پر ملزم نے اپنے دوست پر غصہ بھی کیا۔‘

پولیس نے ملزم کے دوست اور ڈرائیور کے بیان بھی ریکارڈ کر لیے ہیں جبکہ ڈی این اے کے لیے مواد بھی متعلقہ لیبارٹری کو بھیج دیے گئے ہیں۔

ایس ایس پی آپریشنز کاشف عباسی نے بتایا کہ ’ڈی این اے رپورٹ کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا کہ لڑکی کی موت کس وجہ سے ہوئی اور کیا لڑکی سے کوئی زیادتی کی کوشش بھی کی گئی تھی۔‘

اس دوران معلمہ کے والد نے پولیس کو رپورٹ درج کروا دی تھی۔ 16 ستمبر جمعے کی صبح قریبی علاقے سے لڑکی کی تشدد زدہ لاش ملی جس پر علاقے میں لوگ مشتعل ہو گئے تھے۔

پولیس کے مطابق صبح کے وقت انھیں اطلاع ملی تھی کہ جانے خوڑ مقام پر ایک خاتون کی لاش پڑی ہے جس پر پولیس موقع پر پہنچ گئی۔

بڈھ بیر کے اس علاقے میں اس سے پہلے بھی تشدد کے کچھ واقعات پیش آ چکے تھے جس پر اہل علاقہ نے احتجاج شروع کر دیا اور پشاور کو جنوبی علاقوں سے ملانے والی شاہراہ انڈس ہائی وے کو بند کر دیا۔

مظاہرین نے پولیس اور انتظامیہ کے خلاف سخت نعرے لگائے اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا، اس احتجاج میں ملزم بھی شامل تھا۔

وجہ کیا بنی؟
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تفتیش میں جو معلومات انھیں حاصل ہوئی ہیں ان کے مطابق ملزم چاہتا تھا کہ معلمہ کا رشتہ اس کے بھائی کے ساتھ ہو لیکن لڑکی نے اس رشتے سے انکار کر دیا تھا۔ ملزم کو اس کا دکھ تھا اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ملزم نے اس کارروائی کا فیصلہ اپنے دل میں کر لیا تھا۔

پولیس نے بتایا کہ کوئی ایک ہفتہ پہلے اس لڑکی کے والدین نے رشتہ کہیں اور طے کر دیا تھا اور یہ بات ملزم کو قبول نہیں تھا۔

پولیس کے مطابق مجسٹریٹ نے ملزم کو پولیس کی تحویل میں تین دن کے لیے دیا ہے اور اس میں ملزم سے پوچھ گچھ کی جائے گی جس میں اس کیس کے بارے میں مزید تفصیلات بھی سامنے آ سکتی ہیں۔(عزیز اللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور)