نواب علی اختر

بنگال کے بعد اب دہلی میں ہندو مفاد والی سیاست بھی تیز ہوگئی ہے۔ جس میں دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے ایک نیا باب شامل کر دیا ہے۔ کیجریوال نے دہلی اسمبلی میں لیفٹیننٹ گورنر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کرتے ہوئے لوگوں کو بتایا کہ وہ ہنومان کی طرح رام کے بھی بھگت ہیں اور دہلی میں رام راج لانا چاہتے ہیں۔ کیجریوال یہیں نہیں رکے انہوں نے آگے کہا کہ ’رام راج‘ ایک تصور ہے، ان کی حکومت رام راج کے جذبے سے ہی کام کر رہی ہے۔ کیجریوال نے اعلان کیا کہ ایودھیا میں شاندار مندر کی تعمیر ہونے پر ان کی حکومت دہلی کے بزرگوں کو رام مندر کے مفت درشن کرائے گی۔ سوال یہ ہے کہ دوسری بار دہلی میں بی جے پی کو مات دے چکے کیجریوال کے لئے خود کو بھگت بتانے کی کون سی مجبوری ہے؟

 بھگوان شری رام، جن کے راج کو ’رام راج‘ کہا جاتا ہے۔ وہ محبت و قربانی اور ہمدردی کا اتھاہ سمندر ہیں۔ جن کے یہاں ذرہ برابر بھی عداوت، تعصب، شدت پسندی، تفریق، فریب اور کرسی کی لالچ کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی ہے۔ پھر انّا تحریک سے دہلی کا اقتدار لپکنے والے اروند کیجریوال اپنے ’رام راج‘ کا موازنہ ’شری رام کے رام راج‘ سے کیسے کرسکتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب کہ کیجریوال کے رام راج میں ’تعصب کا زہر‘ پھیلا ہوا ہے، جس کے لئے شری رام کے راج میں کوئی جگہ نہیں تھی۔

6 مارچ کو کیجریوال حکومت کی کابینہ نے ’دہلی بورڈ آف اسکول ایجوکیشن‘ کے قیام کی منظوری دی۔ کیجریوال نے بورڈ بنانے کے تین اہم اہداف بیان کیے پہلا، دہلی کے اسکولوں میں کٹر دیش بھگت طلبہ کی فوج تیار کی جائے گی۔ بچے نیک انسان بنیں اور رٹ کر پاس ہونے کے امتحان سے آزادی ملے۔ تین میں پہلے ہدف ’کٹر دیش بھگت‘ پر غور کریں تو ایسا لگتا ہے کہ بچے پہلے دیش بھگت نہیں تھے اور اگر تھے تو کیجریوال اب انہیں کون سی دیش بھگتی کا پاٹھ پڑھانے کی سوچ رہے ہیں؟ اس سوال کے ساتھ، کیا شدت پسندی کسی سماج میں اچھے اور نیک انسان بنا سکتی ہے؟ چونکہ 10 مارچ کو کیجریوال نے رام راج کے تصور پر عمل کرنے کی بات کہی ہے۔

اس لئے یہ سوال اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ رام راج میں شدت پسندی کی کوئی جگہ ہوسکتی ہے؟ کیجریوال نے بڑی چالاکی کے ساتھ شدت پسندی کو دیش بھگتی کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ جس پر اپوزیشن بھی سوال اٹھانے کی ہمت نہیں دکھا سکتا، لیکن جب رام راج اور جمہوری نظام میں کسی بھی طرح کی شدت پسندی کا سوال اٹھتا ہے تو نیت کو سمجھنا ضروری ہوجاتا ہے۔ یہاں کیجریوال حکومت کی نیت میں کھوٹ ہے۔ وہ اپنے سیاسی فوائد کے لئے بی جے پی کے’راشٹر واد‘ کی کاٹ میں ’کٹر دیش بھگت‘ کی تعلیم لے کر آ رہی ہے۔ بی جے پی کے ساتھ مقابلے میں ہی وہ رام راج کے تصور کا داؤں لائی ہے۔

 

سال 2011 کی انّا ہزارے کی تحریک جس نے بی جے پی کے مردہ جسم میں جان ڈال دی تھی، کیجریوال اسی تحریک سے نکل کر دہلی کے اقتدار پر قابض ہیں۔ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد کئی بڑی شخصیات کیجریوال سے کنارہ کشی اختیار کرچکی ہیں، جن میں سینئر ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن، یوگیندر یادو، شاعر کمار وشواس اور دیگر کئی بڑے نام شامل ہیں۔ کیجریوال پر پارٹی پر اجارہ داری کے الزام بھی لگتے رہے ہیں جس طرح وزیراعظم مودی اور وزیرداخلہ امت شاہ پر بی جے پی کو ہائی جیک کرنے کے الزام لگائے جاتے ہیں۔ کیجریوال 2013 سے دہلی کے وزیر اعلیٰ ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے سرکاری تعلیمی نظام میں بہترین کام کیا ہے۔ پھر اچانک کیجریوال نے کیسے یہ سمجھ لیا کہ دہلی کے اسکولوں کے طلبہ میں حب الوطنی کی کمی ہے۔

کیا کیجریوال حکومت نے دہلی میں ایسا کوئی سروے کرایا ہے، جس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دہلی والے ملک کی دوسری ریاستوں کے مقابلے کم محب وطن ہیں۔ اس لئے ان کے بچوں کو کٹر دیش بھگتی کی ڈوز دینا ضروری ہوگیا ہے۔ کپل مشرا، جنہیں کیجریوال نے سیاست کی گھٹی پلا کر لیڈر بنایا اور پھر وہ عام آدمی پارٹی سے ایم ایل اے منتخب ہوئے تھے۔ بعد میں پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوگئے۔ فروری 2020 میں دہلی فساد بھڑکانے میں ان کا کردار سامنے آیا تھا۔ کچھ ویڈیوز میں وہ مسلسل اشتعال انگیز باتیں کرتے سنے گئے تھے۔ کیا کیجریوال اپنے پرانے ساتھی کپل مشرا کی طرح کٹر دیش بھگت تیار کرنا چاہتے ہیں۔

کیجریوال نے اعلان کیا ہے کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے بعد وہ دہلی کے بزرگوں کو مفت درشن کرائیں گے۔ اس اعلان کے بعد ہی سوشل میڈیا پر لوگوں نے اروند کیجریوال کو ان کے پرانے ’پاپ‘ یاد دلاتے ہوئے ان تمام ٹوئٹس کی یاد دلائی جس میں انہوں نے نہ صرف ہندو مذہب کا مذاق اڑایا تھا بلکہ ہندوؤں کی توہین بھی کی تھی۔ کیجریوال نے پہلے اسی رام مندر کی تعمیر پر سوال اٹھائے تھے جہاں انہوں نے دہلی کے بزرگوں کو مفت درشن کرانے کا وعدہ کیا ہے۔ 2019 کے عام انتخابات سے پہلے کیجریوال نے ایک تصویر شیئر کی تھی جس میں ایک شخص کو ہندوؤں، بودھوں اور جینوں کی مقدس نشانی ’سواستک‘ کو جھاڑو سے مارتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

 سوشل میڈیا صارفین نے یہ بھی مذاق اڑایا کہ میڈ ان انڈیا چینی کورونا وائرس ویکسین لینے کے بعد کیجریوال کا دل ودماغ اچانک بدل گیا ہے۔ دیسی ویکسین کے اثرات ظاہر ہونے لگے ہیں۔ 2013 میں سیاست میں قدم رکھنے والے کیجریوال کٹر پنتھی کہی جانے والی بی جے پی کی بظاہر تو مخالفت کرتے نظر آتے ہیں مگر پچھلے کچھ دنوں سے (جب سے دہلی کے چوپان بانگر وارڈ سے ایم سی ڈی ضمنی الیکشن میں کانگریس کے ہاتھوں شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے)عام آدمی پارٹی کے سربراہ کے اعلانات اور کارکردگی سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ کنٹر پنتھی کے معاملے میں بی جے پی سے بھی آگے نکلنا چاہتے ہیں۔ خواہ ان کا ماضی ہندوؤں کی توہین کے لئے مشہور رہا ہو۔ بہر حال اب کیجریوال کے ’سافٹ ہندوتوا‘ کا بھانڈا پھوٹ چکا ہے اور ان لوگوں کو بڑی مایوسی ہوئی ہے جو لوگ عام آدمی پارٹی اور اس کے سربراہ کو سیکولر اور غیر جاندار سمجھ رہے تھے۔