کورونا کی دوسری لہر نے ملک میں کہرام مچا رکھا ہے۔ یو پی میں سب سے زیادہ برے حالات راجدھانی لکھنؤ کے ہیں۔ یہاں پر ہر دن کثیر تعداد میں اموات ہو رہی ہیں۔ یو پی میں کورونا 20 سے 25 اپریل کے درمیان اپنے عروج پر ہوگا۔ اس بات کا امکان آئی آئی ٹی کے پروفیسر منیندر اگروال نے ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یو پی میں روزانہ 10 ہزار انفیکشن والے مریضوں کے اوسط سے 20 سے 25 اپریل تک کورونا وائرس کا انفیکشن اپنے عروج پر رہنے والا ہے۔ اس کے بعد سے گراف پھر سے نیچے کی طرف بڑھنا شروع ہو جائے گا۔ انھوں نے اس تحقیق کو ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بھی شیئر کیا ہے۔

 

پروفیسر منیندر نے بتایا کہ ’’ماڈل پریڈکشن (اندازہ) جو نکالا ہے اس کے مطابق 20 سے 25 اپریل کے درمیان کورونا انفیکشن کا عروج یو پی میں ہوگا۔ یہ ریاضی سائنس کی بنیاد پر نکالا گیا ہے، جو انفیکشن کے کیس کو جوڑتا ہے، پیرامیٹر کی ویلیو ایسٹیمیٹ کرتا ہے، پھر اس کا نمبر نکالتا ہے۔‘‘ انھوں نے بتایا کہ ہندوستان میں کورونا کا عروج اپریل کے آخر اور مئی کے شروع میں ہوگا۔ اس کے بعد کیس کم ہوں گے۔ یہ گراف انھوں نے گزشتہ سال پھیلے انفیکشن کو بنیاد بنا کر تیار کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ کورونا وائرس سات دن تک زیادہ اثرانداز رہے گا۔

آئی ٹی کانپور کے پروفیسر منیندر اگروال نے ملک کی ان ریاستوں کو اپنی تحقیق کا حصہ بنایا ہے جہاں کورونا وائرس زیادہ خطرناک ہے۔ وہاں کے کیس اور وائرس کا مطالعہ کرتے ہوئے تاریخ کے مطابق گراف تیار کیا ہے۔ ہر ریاست کے لیے الگ الگ گراف تیار کرتے ہوئے کورونا کے عروج والا وقت نکالا ہے اور گراف گرنے کی ممکنہ تاریخ بھی بتائی ہے۔

پروفیسر منیندر اگروال کی تحقیق کو اگر سچ مانیں تو یو پی میں روزانہ 10 ہزار کورونا متاثر مریضوں کے اوسط سے 20 سے 25 اپریل تک کورونا وائرس کا انفیکشن اپنے عروج پر رہنے والا ہے۔ اس کے بعد سے گراف پھر سے گرنا شروع ہو جائے گا۔ وائرس کا پھیلاؤ سات دنوں تک سب سے زیادہ رہے گا اور پھر دھیرے دھیرے کیس کی تعداد کم ہونی شروع ہو جائے گی۔ موجودہ وقت میں یو پی میں ایک لاکھ 50 ہزار 676 سرگرم کیسز ہیں۔ ریاست میں لکھنؤ، وارانسی، پریاگ راج، کانپور، گورکھپور، جھانسی، غازی آباد، میرٹھ، لکھیم پور کھیری اور جون پور میں کورونا انفیکشن کے سب سے زیادہ معاملے ہیں۔

 

پروفیسر منیندر کے اندازے کے مطابق ’’دہلی میں بھی 25-20 اپریل کے دوران کورونا انفیکشن اپنے عروج پر ہوگا۔ جھارکھنڈ میں 25 سے 30 اپریل کے درمیان کورونا کے عروج پر رہنے کا امکان ہے۔ راجستھان کی حالت بھی کچھ ایسی ہے اور وہاں بھی 25 سے 30 اپریل تک عروج دیکھنے کو مل سکتا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید بتایا کہ ’’اڈیشہ میں 26 سے 30 اپریل تک کورونا کا قہر دیکھنے کو مل سکتا ہے اور پنجاب میں کورونا وائرس کا خطرہ لگاتار نظر آتا ہے، لیکن اس پر کنٹرول کرنے کی ترکیبوں کے سبب گراف جلدی نیچے آیا ہے۔ تمل ناڈو میں فی الحال خطرہ نہیں ہے، لیکن تحقیق پر غور کریں تو 11 سے 20 مئی کے درمیان کورونا انفیکشن کا عروج دیکھنے کو مل سکتا ہے۔‘‘ علاوہ ازیں پروفیسر منیندر نے آندھرا پردیش کے لیے 1 سے 10 مئی اور مغربی بنگال کے لیے 1 سے 5 مئی کا وقت عروج والا ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔