نئی دہلی:آج تک نیوز پورٹل کے مطابق جہانگیر پوری میں ایک بار پھر پتھراؤ کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ معلومات کے مطابق جب پولیس فائرنگ کرنے والے ملزم سونو کی بیوی کو گھر سے لے جانے کے لئے پہنچی تو لوگوں نے وہاں موجود پولیس ٹیم پر پتھراؤ کیا۔ خبروں کے مطابق علاقہ کی کئی خواتین جمع ہو گئیں جس کے بعد پتھر بازی شروع ہو گئی۔ واضح رہے کہ وہاں موجود پولیس نے حالات پر فوراً قابو پا لیا۔

یاد رہے اس سے پہلے دہلی کے جہانگیر پوری میں 16 اپریل یعنی ہفتہ کو ہنومان جینتی کے دن تشدد ہوا تھا۔ اس تشدد کے بعد اب تک 21 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ دو نابالغوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پتھراؤ کے باوجود پولیس ٹیم خاتون کو لے گئی۔ معلومات کے مطابق ویڈیو میں شوٹنگ کرتے نظر آنے والے سونو کی بیوی کو پولیس پوچھ گچھ کے لیے لے گئی ہے۔ ملزم سونو فی الحال مفرور ہےاور وہ جہانگیر پوری میں رہتا ہے۔

آج تک کی ٹیم کو ملزم سونو کی ماں نے بتایا کہ اس دن جہانگیر پوری میں دو فرقوں میں لڑائی ہوئی تھی۔ اسی دوران جب بجرنگ دل کے لوگ آئے تو بیٹے نے غصے میں گولی چلا دی۔ سونو چکن کا کام کرتا ہے۔ سونو فی الحال فرار ہے۔ ساتھ ہی اس کے بھائی سلیم چکنا پولیس حراست میں ہے۔

آج تک پر شائع خبر کے مطابق سونو کی ماں نے بتایا ’’ہندو-مسلم لڑائی چل رہی تھی۔ وہ (سونو) روزہ افطار کرنے جا رہا تھا۔ اس نے پستول چھین لی اور غصے میں فائرنگ شروع کر دی۔ لیکن کسی کو چوٹ نہیں آئی۔‘‘ سونو کی ماں نے کہا کہ ان کا بیٹا خوف سے بھاگ گیا ہے۔