نئی دہلی، 22 اپریل (یو این آئی) دہلی ہائی کورٹ نے دہلی فسادات سے متعلق سازش معاملہ کے ملزم عمر خالد کی عرضی پر جمعہ کو سماعت کرتے ہوئے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) مخالف تحریک کے دوران اس کی تقریر کو ناخوشگوار اور اشتعال انگیز قرار دیا۔

جسٹس سدھارتھ مرڈول اور رجنیش بھٹناگر کی ڈویژن بنچ نے عمر خالد کی 17 مارچ 2020 کی تقریر کے ایک خاص جملے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ اظہار کی آزادی کے نام پر ایسی تقریر کرنا دنیا کے کسی کونے میں قابل قبول نہیں ہوگا۔ دہلی پولیس نے ستمبر 2020 میں عمر خالد (34) کو گرفتار کرکے اس پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت دفعات لگائی تھیں۔ پولیس نے الزام لگایا کہ دہلی فسادات ”پہلے سے منصوبہ بند، گہری سازش کا حصہ تھے جو عمر خالد اور دیگر نے رچی تھی۔”

عمر خالد نے نچلی عدالت کی جانب سے ضمانت نہ دینے کے حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ نچلی عدالت نے گزشتہ ماہ یہ کہتے ہوئے ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا کہ ان کے خلاف یو اے پی اے بادی النظر میں درست تھا۔ہائی کورٹ کی ایک ڈویژن بنچ نے ان کے کاموں کی مکمل جانچ کرتے ہوئے کہا کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ دہلی کی عدالت نے ضمانت دینے سے کیوں انکار کر دیااور اس کی تقریر کو اس کے سامنے رکھنے کے لئے کہا۔عمر خالد سی اے اے مخالف مظاہروں کے واٹس ایپ گروپ کا حصہ تھا۔