لوک سبھا میں آج مودی حکومت نے ایک ایسا بل پیش کر دیا جس سے دہلی کی سیاست میں ایک زلزلہ سا برپا ہو گیا ہے۔ مودی حکومت نے قومی راجدھانی خطہ دہلی سرکار (ترمیمی) بل پیش کر دیا ہے۔ اس بل میں دہلی کے وزیر اعلیٰ اور لیفٹیننٹ گورنر کے درمیان طاقتوں کی تقسیم پر حالت صاف کر دی گئی ہے۔ امید کے مطابق اس بل کو پیش کیے جانے کے ساتھ ہی دہلی میں سیاست کا پارا پوری طرح گرم ہو گیا ہے۔ عآپ لیڈران اس بل سے پوری طرح چراغ پا نظر آ رہے ہیں اور مرکزی حکومت پر حملہ آور ہو گئے ہیں۔دراصل مذکورہ بل کے ذریعہ قومی راجدھانی خطہ دہلی سرکار قانون 1991 میں تین بڑی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی غیر موجودگی میں لوک سبھا میں وزیر مملکت برائے داخلہ جی کشن ریڈی نے بل پیش کیا۔ قانون کے سیکشن 21 تبدیلی کر کے کہا گیا ہے کہ دہلی اسمبلی سے پاس کیے گئے کسی بھی قانون میں ’سرکار‘ لفظ کامطلب ’لیفٹیننٹ گورنر‘ مانا جائے گا۔سیکشن 44 میں بھی بڑی تبدیلی کی گئی ہے جس کے مطابق دہلی حکومت یا اسمبلی کے ذریعہ لائے گئے کسی بھی فیصلے پر عمل آوری سے قبل لیفٹیننٹ گورنر کی رائے لینا لازمی بنایا گیا ہے۔ سیکشن 24 کا دائرہ بھی بڑھایا گیا ہے۔ اس سیکشن میں لیفٹیننٹ گورنر کو کچھ معاملوں میں اسمبلی کے ذریعہ پاس قانون کو منظوری دینے سے منع کرنے کا انتظام ہے۔

اس سیکشن میں بدلاؤ کر کے جوڑا گیا ہے کہ ویسے سبھی سبجیکٹ جو اسمبلی کی قوت سے باہر ہیں، انھیں لیفٹیننٹ گورنر کی منظوری نہیں ملے گی۔مرکزی حکومت کے ذریعہ بل پیش کیے جانے کے بعد دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے ٹوئٹ کر کے بی جے پی پر سخت حملہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ لوگوں کے ذریعہ الیکشن میں خارج کیے ہونے کے بعد بی جے پی اب منتخب حکومت کی طاقت کم کرنا چاہ رہی ہے۔دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے بھی مرکز کی مودی حکومت پر اس بل کے لیے ناراضگی ظاہر کی ہے۔ انھوں نے میڈیا کے سامنے کہا کہ ’’مرکزی حکومت پارلیمنٹ میں دہلی سے متعلق غیر آئینی اور غیر جمہوری بل لے کر آئی ہے۔ اس بل میں لکھا ہے کہ اس کے آنے کے بعد دہلی سرکار کا مطلب ہوگا لیفٹیننٹ گورنر۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’دہلی میں منتخب حکومت کا مطلب اب کچھ نہیں ہوگا۔ یہ بہت خطرناک ترمیم ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ چنی ہوئی حکومت جو فیصلے لے گی اس کی فائل اب لیفٹیننٹ گورنر کے پاس بھیجنی پڑے گی۔‘‘