پولس جانچ میں پتہ چلا کہ سجاد کے قتل معاملے میں ملزم ببلو اور راج کمار اتر پردیش کے اناؤ میں چھپے ہوئے ہیں۔ یہ پتہ لگتے ہی پولس ٹیم نے اناؤ میں چھاپہ ماری کر دونوں ملزمین کو گرفتار کر لیا۔

دہلی کے نریلا علاقہ میں 20 سالہ لڑکے کا پیٹ پیٹ کر قتل کیے جانے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ سجاد نامی لڑکے پر موبائل چھیننے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس قدر پٹائی کی گئی کہ وہ موت کی نیند سو گیا، اور پھر اس کی لاش انتہائی مخدوش حالت میں پولس کو برآمد ہوئی۔

میڈیا ذرائع کے مطابق سجاد کی ماں نے گزشتہ 9 مارچ کو بیٹے کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی۔ بعد ازاں 11 مارچ کو پولس کو سڑی گلی ہوئی حالت میں سجاد کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ اس معاملے میں پولس نے دو ملزمین کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔

خبروں کے مطابق دہلی کے نریلا علاقہ میں رہنے والی ایک خاتون نے 9 مارچ کو شکایت درج کرائی تھی کہ اس کا بیٹا 8 مارچ کو گھر سے نکلا تھا، لیکن وہ واپس نہیں لوٹا۔ اس شکایت پر پولس نے گمشدگی کی رپورٹ درج کی اور جانچ شروع کر دی۔ تفتیش کے دوران پتہ چلا کہ 8 مارچ کو سجاد مبینہ طور پر موبائل چھینتے ہوئے پکڑا گیا تھا اور اس کے ساتھ سجاد کے تین دوست بھی تھے۔

ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع رپورٹ کے مطابق سجاد کے دوستوں نے اس کا موبائل فون ماں کو دے دیا تھا، جسے بعد میں ماں نے پولس کے حوالے کر دیا۔ جب اس تعلق سے پولس نے مزید تفتیش کی تو 11 مارچ کو حیدر پور کینال سے سڑی گلی حالت میں سجاد کی لاش برآمد ہوئی۔ اس کے ہاتھ پیر بندھے ہوئے تھے۔ بعد ازاں پولس نے قتل کے معاملے میں جانچ شروع کر دی۔

پولس جانچ میں پتہ چلا کہ سجاد کے قتل کے معاملے میں ببلو اور راج کمار ملزم ہیں۔ دونوں بوانا علاقہ کی ایک فیکٹری میں کام کرتے ہیں۔ پولس نے جب ان کی تلاش شروع کی تو پتہ چلا کہ دونوں اتر پردیش کے اناؤ میں چھپ کر بیٹھے ہیں۔ پھر پولس ٹیم نے اناؤ میں چھاپہ ماری کر دونوں ملزمین کو گرفتار کر لیا۔ فی الحال دونوں ملزمین کو پولس نے ایک دن کی ریمانڈ پر لیا ہے اور پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔