Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

دہلی میں کورونا ہوا بے قابو، 22 دنوں میں تقریباً 1800 افراد نے دم توڑا

دہلی: کورونا وائرس کی تیسری لہر کا سامنا کر رہی دہلی میں اس وبا سے مرنے والوں کی تعداد 1.58 فیصد ہے جبکہ ملک میں یہ شرح 1.48 فیصد ہے۔ ماہرین نے قومی دارالحکومت میں کووڈ- 19 سے ہونے والی اموات کے لئے علاج کے واسطے شہر میں بڑی تعداد میں آنے والے سنگین مریض، غیر رہائشی مریضوں ، منفی موسم ، آلودگی وغیرہ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔ نومبر کے مہینے میں ہی اس وبا سے 21 نومبر تک قومی دارالحکومت میں 1759 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور یہ روزانہ تقریبا ً 83 اموات ہیں۔

ہفتے کے روز 111 مریضوں کی ہوئی موت
گزشتہ 10 دنوں میں ہلاکتوں کی تعداد 100 سے زیادہ پہنچ چکی ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ 111 مریض ہفتہ کے روز ، 118 جمعہ کو ، 131 بدھ کو اور 104 نومبر 12 کو فوت ہو چکے ہیں ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دہلی میں اوسط موت کی شرح 1.58 فیصد ہے جو قومی موت کی شرح 1.48 فیصد کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

بزرگ ہو رہے زیادہ شکار

راجیو گاندھی سپر اسپیشلیٹی ہسپتال کے منیجنگ ڈائریکٹر ، ڈاکٹر بی ایل شیروال نے کہا کہ مجموعی طور پر ، زیادہ اموات سردیوں میں ہوتی ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا فرق ہے جو ہم نے کووڈ- 19 سے ہونے والی موت کے معاملے میں بھی دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے مرنے والوں میں 70 فیصد بزرگ یا سنگین بیماریوں میں مبتلا افراد تھے۔
تہوار کے موسم میں بگڑے حالات
ڈاکٹر شیروال نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کو ختم کرنے سے پہلے بیشتر نوجوان متاثر ہو رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ پابندیوں میں نرمی اور تہوار کے سیزن کے دوران بزرگوں وائرس تیزی سے پھیل گیا ہے۔ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے سابق ڈائریکٹر جنرل این کے گنگولی نے کہا ہے کہ ابتدائی مہینوں کے مقابلے میں اموات کے واقعات کا ڈیٹا بہتر طور پر جمع کیا جارہا ہے۔ حال ہی میں دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے بھی کہا تھا کہ قومی دارالحکومت میں کووڈ- 19 کی اموات کی شرح قومی اوسط سے قدرے زیادہ ہے۔