۔7 سال قبل بھی اسی طرح کا حملہ، اسرائیلی سفیر اہلیہ ا ور دیگر زخمی ہوئے تھے

نئی دہلی : اسرائیل نے دہلی میں اپنے سفارتخانہ کے قریب کئے گئے حملہ کو دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا۔ ایک چھوٹا بم اسرائیلی سفارتخانہ کے قریب پھٹ پڑا، اس میں کوئی زخمی نہیں ہوئے۔ اسرائیل کے عہدیدار نے کہا کہ اسرائیلی سفارتخانہ کو نشانہ بناتے ہوئے کئے گئے اس دہشت گرد حملہ کی تحقیقات کی جائے گی۔ ہندوستان اور اسرائیل کے اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان اس سلسلہ میں بات چیت ہوئی ہے۔ اسرائیلی سفیر نے سفارتخانہ کو مکمل سیکوریٹی فراہم کرنے کا تیقن دیا ہے۔ اس کے علاوہ تمام سفیروں اور عہدیداروں کا تحفظ کیا جائے گا۔ کئی ایجنسیوں کے ذریعہ اس واقعہ کی تحقیقات کروائی جائے گی۔ ہندوستان ایجنسیوں نے سفارتخانہ پر حملہ کے فوری بعد ملک کے تمام ایرپورٹس، اہم تنصیبات اور سرکاری عمارتوں پر سیکوریٹی بڑھادی ہے۔ ممبئی پولیس نے بھی دہلی میں دھماکہ کے بعد سیکوریٹی میں اضافہ کیا ہے۔ سی آئی ایس ایف جو سیول ایرپورٹس اور نیوکلیئر تنصیبات کے علاوہ ایرواسپیس تنصیبات کی نگرانی کرتا ہے، اپنے تمام یونیورسٹیوں کو چوکس کردیا ہے۔ سنٹرل انڈسٹریل سیکوریٹی فورس مختلف سرکاری عمارتوں کی حفاظت کیلئے معمور ہے۔ اسرائیل کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس حملہ میں تمام سفیر اور سفارتخانہ کا عملہ محفوظ ہے۔ اس میں کوئی زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ وزارت خارجہ نے تمام ضروری احتیاطی اقدامات کی ہدایت دی ہے۔ وزیرداخلہ امیت شاہ دہلی کے سینئر عہدیداروں سے رابطہ رکھے ہوئے ہیں اور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کے سفارتخانہ پر 7 سال قبل 2012ء میں بھی ایک دھماکہ ہوا تھا جس میں اسرائیل کی سفیر کی اہلیہ، ان کا ڈرائیور اور دو دیگر زخمی ہوئے تھے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں