متاثرہ علاقہ شیووہار کا متعلقہ عآپ ایم ایل اے حاجی یونس نے تک دورہ نہیں کیا ، دہلی وقف بورڈ کی جمع کردہ رقم کا کوئی حساب نہیں

نئی دہلی : گزشتہ سال شمال مشرقی دہلی میں پیش آئے فسادات کو ایک سال گذر چکا ہے لیکن اب بھی زیادہ تر متاثرین انصاف اور معاوضہ سے محروم ہیں۔ دہلی کی کجریوال حکومت ہو یا مرکز کی مودی حکومت دونوں نے ابھی تک دہلی فساد کے متاثرین کو راحت رسانی کے معاملے میں غفلت سے کام لیا ہے۔ کئی متاثرین نے اپنی شکایتیں میڈیا کے ذریعہ حکومت اور عوام تک پہنچانے کی کوشش کی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سرکاری سطح پر متاثرین فساد کا کوئی پرسان حال نہیں۔ اس عرصہ میں چند سماجی و غیرسرکاری تنظیمیں آگے آئیں اور انہوں نے اپنی بساط بھر کوشش کی ہے کہ متاثرین کی کچھ نہ کچھ مالی مدد کی جائے۔ فساد کے متاثر محمد وکیل نے بتایا کہ عام آدمی پارٹی کے مقامی رکن اسمبلی حاجی یونس نے ابھی تک شیو وہار کا دورہ تک نہیں کیا جبکہ ہم سخت مشکل میں ہیں۔ ہمارا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔شمال مشرقی دہلی میں فروری 2020 ء میں ہوئے فسادات میں جن لوگوں کے گھر جلائے گئے تھے اور سازو سامان فساد میں تباہ و برباد کر دیا گیا تھا، ایسے ہی خاندان کی زندگیوں کو دو بارہ پٹری پر لانے کیلئے دہلی کی کجریوال حکومت نے بڑے بڑے دعوے اور وعدے تو کیے تھے، لیکن ان میں کتنی سچائی ہے اس کااندازہ فساد زدہ لوگوں سے ملاقات کرنے کے بعد بہ آسانی ہوجاتا ہے۔ دہلی فساد کو پورا ایک سال گزر چکا ہے لیکن اب بھی مستحق خاندان معاوضہ کی خاطر در بدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں، حالانکہ فساد کے بعد دہلی وقف بورڈ نے مصطفی آباد عید گاہ میں راحت رسانی کے لیے بڑا کیمپ لگایا تھا، اور دہلی کے مسلم اکثریتی علاقوں سے فساد زدگان کیلئے چندہ کی خطیر رقم بھی جمع کی تھی۔ یہ رقم دہلی وقف بورڈ کے چیئر مین امانت اللہ خان کی چیئر مین شپ کے دوران جمع کی گئی تھی، لیکن اس رقم کا کتنا استعمال ہوا، کہا ں کہاں یہ بڑی رقم خرچ کی گئی، اس کا کوئی حساب کتاب نہیں ہے۔معاوضہ کے متعلق جب فساد متاثرین سے پوچھا جاتا ہے کہ دہلی حکومت اور دہلی وقف بورڈ سے آپ کو کتنا معاوضہ ملا، تو ان کے چہرے پر مایوسی نظر آتی ہے۔ میڈیا نے دہلی فساد زدہ علاقوں کا دورہ کر کے حقیقت حال کا جائزہ لیا۔ شیووہار میں 30 سال سے مقیم 53 سالہ محمد وکیل نے بتایا کہ فساد تو 25 فروری 2020 ء سے تین روز قبل ہی شروع ہوگیا تھا، لیکن شیو وہار میں 25 فروری کی شام جب فسادیوں نے ہنگامہ شروع کیا تو ہم نے اپنی جان بچانے کیلئے خود کو اپنے گھر میں قید کر لیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ فسادیوں نے مقامی مسجد میں توڑ پھوڑ بھی کی اور مسجد کو کافی نقصان پہنچایا۔ محمد وکیل نے کہا کہ وہ وقت ہمارے لئے جہنم سے بھی زیادہ خطرناک تھا۔ جب صبح ہوئی تو مجھے جی ٹی بی اسپتال لے جایا گیا جہاں میرا علاج ہوا۔ محمد وکیل بتاتے ہیں کہ ’’ایک ماہ اسپتال میں رہنے کے بعد میں گھر آیا‘‘۔


اپنی رائے یہاں لکھیں