دہلی فساد:جمعیۃعلماء ہند کی طرف سے ہائی کورٹ میں عرضی داخل

دہلی فسادمیں بھیانک جانی ومالی تباہی کے باوجود سرکار اور پولس انتظامیہ کے غافلانہ رویے کے مدنظر جمعیت علماء ہند نے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔چنانچہ جمعیتہ علمائ ہند کے جنر ل سکریٹری مولانا محمود مدنی کے ذریعہ عدالت میں مفاد عامہ کی ایک عرضی داخل کی گئی ہے جس کا جواب دہ حکومت ہند کو بنایا گیا ہے۔عرضی میں عدالت عالیہ سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ جو اب دہندہ(حکومت ہند) کو حکم دے کہ وہ فسادی اور مجرموں کے خلاف نام بنام ایف آئی آر درج کروائے اور پورے معاملے کی منصفانہ تحقیق کے لیے سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں ایس آئی ٹی تشکیل دی جائے اورایسی کسی کمیٹی میں کوئی پولس فور س کا ممبر شامل نہ ہو۔

عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دہلی پولس عملہ کے ذریعہ لاپروائی یا دانستہ فساد میں شرکت اور ثبوتوں کو مٹانے جیسے جرائم جیسے واقعات کے فوٹیج منظر عام پر آئے ہیں ، جس کی وجہ سے عوام میں لائ اینڈ آر ڈ کی ایجنسیوں کو لے کر بد اعتمادی کی فضا ہے ، ایسے میں عدالت سے یہ گہار لگائی جاتی ہے کہ وہ ان کے خلاف تادیبی اور قانونی کارروائی کا حکم دے اور اس سلسلے میں ایک بااختیار اور علیحدہ باڈی قائم کی جائے جو فساد میں ملوث پائے جانے والی ایسی اسٹیٹ مشنریوں، سماجی و سیاسی تنظیموں کی مکمل تحقیق کرے جو فساد کے وقت یا پہلے متعلقہ علاقوں میں سرگرم تھیں۔

یہ بھی حکم جاری کیا جائے کہ ۳?۔فروری تا یکم مارچ ۲۰۲۰ئ کے درمیان فساد زدہ علاقوں کے ویڈیو فوٹیج کو محفوظ رکھا جائے اور ثبوتوں کو جمع کیے بغیر ملبے کو نہ ہٹایا جائے۔عرضی میں دہلی حکومت کے ذریعہ دیے گئے معاوضہ کو ناکافی بتاتے ہوئے عدالت سے کہا گیا ہے کہ وہ دہلی حکومت کو ہدایت کرے وہ سکھ فساد 1984میں دیے گئے معاوضے کے اسکیم کے تحت حالیہ دہلی فساد متاثرین کو معقول معاوضہ عطا کرے۔ عرضی میں ایک اہم اور ضروری امر کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ عدالت حکومت ہند کو ہدایت دے کہ وہ لائ کمیشن آف انڈیا کی267 ویں رپورٹ کے مطابق سیکشن 153 C(نفرت کوبھڑکانے سے روکنے ) اور سیکشن 505A(مخصوص معاملات میں تشدد سے متعلق اشتعال انگیزی ، دھمکی اور خوف کے اسباب ) جیسی دفعات کا اضافہ کرے۔ اس سلسلے میں جمعیتہ علمائ ہند کے قانونی مشیر ایڈوکیٹ نیاز احمد فاروقی نے کہا کہ ملک کے بگڑتے حالات اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کے دور میں ہم جی رہے ہیں، اس لیے یہ ضروری ہے کہ مذکورہ بالا دفعات کو قانون کا حصہ بنایا جائے۔ جمعی? علمائ ہند کی طرف سے عدالت میں ایڈوکیٹ محمد طیب خاں، ایڈوکیٹ دانش احمد اور ایڈوکیٹ محمد نوراللہ نے عرضی داخل کی