Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

دہلی فسادات کیلئے مسلمان ذمہ دار !17500 صفحات کی چارج شیٹ داخل ،صرف سی اے اے احتجاجیوں کے نام شامل

نئی دہلی: دہلی فسادات پر تیار کردہ چارج شیٹ میں پولیس نے صرف مرکز کے متنازعہ نئے شہریت قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں کا نام بھی اس چارج شیٹ میں داخل کیا ہے۔ سی اے اے کے حق میں مہم چلانے والوں جیسے کپل مشرا کا نام شامل نہیں ہے۔ پولیس نے اس سال فبروری میں دارالحکومت دہلی میں برپا کئے گئے فرقہ وارانہ فسادات کیلئے صرف مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

فسادات میں زائد از 50 افراد ہلاک اور کروڑوں روپئے کی املاک تباہ ہوگئی تھی۔ 17500 صفحات پر مشتمل اس چارج شیٹ کو دو اسٹیل کے ٹرنکس میں بھر کر رکھا گیا ہے۔ ان میں سے زائد از 2600 صفحات ملزمین کے خلاف الزامات پر مشتمل ہیں۔ اس کے ساتھ ہزاروں صفحات پر منسلک کئے گئے ہیں۔ ان الزامات میں انسداد دہشت گردی غیرقانونی سرگرمیاں (انسداد قانون) کے تحت لگائے گئے الزامات بھی شامل ہیں۔ جن لوگوں کے نام شامل کئے گئے ہیں ان میں عام آدمی پارٹی کے معطل لیڈر طاہر حسین اور کئی طلبہ کارکن کے نام شامل ہیں۔ پولیس نے یہ بھی کہا کہ اس کیس میں تحقیقات جاری ہیں اور توقع ہیکہ وہ اب تک جن ناموں کو شامل نہیں کیا گیا ان ملزمین کے خلاف ضمنی چارج شیٹ بھی داخل کرے گی۔ فسادات کی سازش کرنے والوں میں راست پیادہ سپاہیوں کو نشانہ بنایا۔ فبروری میں شمال مشرقی دہلی کے علاقوں میں ہونے والے فسادات بھی منظم تھے۔

پولیس نے عدالت کو بتایا کہ سیلم پور اور ظفرآباد میں فساد برپا کرنے کیلئے دو واٹس ایپ گروپس کا استعمال کیا گیا۔ تائید کرنے والوں نے درمیانی درجہ کے قائدین کو استعمال کرتے ہوئے پولیس کو نشانہ بنایا۔ پولیس کا دعویٰ ہیکہ سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ نے اس احتجاج میں حصہ لینے کیلئے 20 کیلو میٹر پیدل چلے۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ شروع سے ہی یہ کوئی جمہوری احتجاج نہیں تھا۔ احتجاج کے پہلے دن سے ہی تشدد کیلئے بھڑکایا جارہا تھا۔ احتجاجیوں نے چکاجام کا اعلان کیا اور سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑے کرنے کی مہم چلاتے ہوئے غیرجمہوری طریقہ سے احتجاج کیا جس کے نتیجہ میں تشدد کیلئے بھڑکایا گیا۔ مرکز کے متنازعہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) پر فرقہ وارانہ فسادات کروائے گئے۔ دہلی میں دو گروپوں سی اے اے کے مخالفین اور حامیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ اس احتجاج کے دوران صدر امریکہ ڈونالڈٹرمپ بھی دہلی میں چند کیلو میٹر کی دوری پر موجود تھے جہاں ٹرمپ اور وزیراعظم نریندر مودی کی ملاقات ہورہی تھی۔ شہر کے کئی حصوں میں بڑے پیمانے پر جھڑپیں دیکھی گئیں۔ تشدد، آتشزنی اور سنگباری کی وجہ سے 53 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے اور سینکڑوں گھر نذرآتش کئے گئے۔ دہلی پولیس جو مرکزی حکومت کو یہ رپورٹ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ یکطرفہ کارروائی تھی۔ فسادات کے دوران ایک طرف پولیس مسافرین کی مدد کررہی تھی تو دوسری طرف فسادیوں نے پولیس کو نشانہ بنایا۔ اس کیس میں اب تک جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں بائیں بازو کے طلبہ کارکنوں کے بشمول طاہرحسین شامل ہیں جنہوں نے سی اے اے کی مخالفت کی تھی۔ پولیس نے بی جے پی کے کپل مشرا کے بشمول کسی بھی لیڈر کو گرفتار نہیں کیا۔ کپل مشرا نے پولیس کے سامنے کھلے عام اشتعال انگیز تقریر کی تھی اور اس کا ویڈیو وائرل ہوا تھا۔