نئی دہلی: جمعیۃ علمائے ہند نے شمالی مشرقی دہلی کے بھیانک فسادات کے دوران تباہ شدہ مکانات کی تعمیر نو میں مزید پیش رفت کرتے ہوئے گوکل پوری میں جنتی مسجد، بھاگیرتھی وہار، کراول نگر وغیرہ میں 30 مکانات اور جیوتی نگر قبرستان کو لوگوں کے حوالے کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ جمعیۃ فساد زدگان کی مدد مستعدی کے ساتھ جاری رکھے گی۔ وہیں جمعیۃ کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے فرقہ پرستی کے خلاف شدت کے ساتھ لڑائی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ فرقہ پرست مسلمانوں کے ہی نہیں بلکہ ملک کے دشمن ہیں۔

گزشتہ سال فروری میں دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں جو بدترین فساد ہوا اس میں جانی ومالی نقصان ہی نہیں ہوا بلکہ فرقہ پرستی کے جنون میں شرپسند عناصر نے مسلمانوں کے مکان و دکان، بہت سی عبادت گاہوں کی بے حرمتی کرکے ان میں آگ لگائی دی تھی، ان میں گوکل پوری کی جنتی مسجد بھی ہے جس کو فساد کے دوران نذرآتش کرکے مکمل طور پر تباہ کردیا تھا، شرپسندوں نے اسی پر بس نہیں کیا تھا بلکہ اس کے مینار پر بھگوا جھنڈا بھی لہرا دیا تھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد، مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃعلماء ہند کے رضاکار اور اراکین فساد کے دوران لوگوں کی مذہب سے اوپر اٹھ کر مدد کر رہے تھے اور جہاں کہیں سے کسی ناخوشگوار واقع کی اطلاع ملتی تھی تو انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کرکے جمعیۃ علماء ہند کے لوگ اس علاقہ میں فوراً پہنچ جاتے تھے۔ جب جنتی مسجد کے تعلق سے خبرعام ہوئی تومولانا سید ارشدمدنی کی خصوصی ہدایت پر جمعیۃعلماء ہند دہلی کے ناظم اعلیٰ مفتی عبدالرازق ایک وفد کے ساتھ پولیس کی معیت میں فوراً وہاں پہنچ گئے اور مسجد کو مورتی اور جھنڈے سے پاک کرایا۔

جمعیۃعلماء ہند نے مسجدوں کی مرمت کے کام کو خاص طور پر اولیت دی، آج تیسرے مرحلہ میں جنتی مسجد کے چاروں منزلوں کی تعمیر، مرمت اور تزئین کاری کے بعد اب مسجد مقامی مسلمانوں کے حوالے کردی گئی ہے، اسی فساد کے دوران جیوتی نگرکے قبرستان کی چہار دیواری، پانی کی ٹنکی، قبرستان میں بنے گارڈ کے کمرے کو بھی شرپسندوں نے مکمل طور پر تباہ کردیا تھا، اس کی بھی مرمت کرائی گئی۔ بھاگیرتی وہار اور کراول نگر میں تعمیر نو اور مرمت شدہ 30 مکانات اہل خانہ کو سپرد کر دیئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ پہلے مرحلے میں پچپن مکانات، دو مسجدیں، دوسرے مرحلے میں پینتالیس مکانات اور ایک مسجد، اب تک جمعیۃ علماء ہند نے دہلی فساد کے دوران تباہ شدہ 130 مکانات کی تعمیر وتجدید کاری کرکے فساد متاثرین کے حوالے کرچکی ہے۔ اور متاثرین کو انصاف دلانے اور بے گناہوں کی رہائی اور اصل خاطیوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لئے وکیلوں کا ایک پینل تشکیل دیا ہے جو مظلومین کے مقدمات کی پیروی کر رہا ہے۔ ان وکیلوں کی کامیاب پیروی کے نتیجے میں اب تک 56 کیس میں ضمانتیں مل چکی ہیں۔

جنتی مسجد گوکل پوری کی ازسرنوتعمیر، تزئین کاری اور فسادات میں جلائے گئے مکانات متاثرین کے حوالہ کرنے کے موقع پر صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا ارشدمدنی نے کہا کہ ہم اس کے لئے اللہ کا شکر گزار ہوں کہ اس اہم کام کے لئے نہ صرف جمعیۃعلماء ہند کو ذریعہ بنایا بلکہ اس کے لئے وسائل بھی مہیا کرائے، انہوں نے کہا کہ دہلی فسادزدہ علاقوں میں اپنی روایت کے مطابق جمعیۃعلماء ہند نے مذہب سے اوپر اٹھ کر محض انسانی بنیاد پر تمام متاثرین اور ضرورت مندوں کو اپنی بساط بھر ریلیف مہیا کرائی ہے، آئندہ بھی انشاء اللہ یہ سلسلہ جاری رہے گا، ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف برپا ہونے والے فسادات کو مسلمانوں کو معاشی، تعلیمی، سماجی اور سیاسی طور پر پیچھے دھکیلنے کا ایک حربہ قرار دیتے ہوئے، مولانا مدنی نے کہا کہ دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں ہونے والا فساد انتہائی بھیانک اور منصوبہ بند تھا، اس میں پولیس اور انتظامیہ کا رول مشکوک رہا ہے، جس کی وجہ سے جانی ومالی نقصان بھی یکطرفہ ہوا، لیکن جس طرح مذہبی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا اورگھروں کو جلایا گیا وہ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ فساد اچانک نہیں ہوا تھا بلکہ اس کی پہلے سے منصوبہ بندی ہوئی تھی اور پولیس وانتظامیہ کی نااہلی کے نتیجہ میں دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ایک بھیانک شکل اختیارکرلی۔ مولانا مدنی نے کہا کہ منصوبہ بند فساد کی ذمہ داری سے حکومت بچ نہیں سکتی اور امن و امان کی ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے لیکن وہ فسادات کے دوران ہمیشہ امن و مان برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے اور ہندوستان میں اس کی ایک تاریخ ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ ہمارا ہزاروں بار کا تجربہ ہے کہ فساد ہوتا نہیں ہے بلکہ کرایا جاتا ہے۔ اگرانتظامیہ نہ چاہے تو ہندوستان میں کہیں بھی فساد نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بعض مرتبہ تو پولیس ایکشن ہوتا ہے اور دہلی فساد میں بھی پولیس کا یہی کردار رہا ہے اور تمام حکومتوں میں ایک چیز جو مشترک نظرآتی ہے وہ یہ کہ حملہ بھی مسلمانوں پر ہوتا ہے اور مسلمان مارے بھی جاتے ہیں اور انہی کے مکانات و دکان کو جلایا جاتا ہے اور پھر انہی پر سنگین دفعات لگا کر گرفتار بھی کیا جاتا ہے۔ المناک پہلو یہ ہے کہ فسادات کے کسی ایک واقعے میں بھی قانون اور انصاف کے تقاضے کو پورا نہیں کیا گیا اور کسی قصوروار کو سزا نہیں دی گئی بلکہ قصورواروں کو انعامات سے نوازا گیا، اور ان کو وائی کلاس سیکورٹی بھی دی گئی یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فرقہ پرست طاقتوں کے حوصلے بھی بلند ہوتے گئے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ جولوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فسادات سے صرف مسلمان کو نقصان ہوتا ہے وہ غلط فہمی کے شکار ہیں، فسادات سے دراصل ملک برباد ہوتا ہے،اس کا وقار مجروح ہوتا ہے اور معتبریت کو نقصان پہنچتا ہے، انہوں نے کہا کہ آج ملک میں ہندو اور مسلمان کے درمیان ہونے والے ہر طرح کے جرائم کو ہندومسلم پہلو سے جوڑ دیا جاتا ہے، انتہا پسند تنظیمیں اور ملک کا متعصب میڈیا مسلمانوں کے خلاف اشتعال پھیلانے میں مصروف ہوجاتا ہے۔ انہوں نے رنکو شرما قتل معاملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ قتل تجارتی بنیاد پر ہوا، اس طرح سینکڑوں قتل روزانہ ملک میں ہوتے ہیں لیکن کبھی میڈیا اور فرقہ پرست تنظیمیں اس کو فرقہ وارانہ رنگ نہیں دیتیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس افسوسناک واقعے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کا مقصد کسانوں کی تحریک اور کسانوں کی تحریک کے نتیجے میں ہندو اور مسلمانوں کے درمیان پٹنے والی کھائی کو نقصان پہنچانا ہے، اور کسان تحریک سے لوگوں کی توجہ ہٹا کر ہندومسلم کی طرف کرنا ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند نے صرف فساد زدگان کی بازآباد کاری ہی نہیں بلکہ انہیں پیروں پر کھڑا کرنے کی کوشش بھی کرتی ہے، اسی مشن کے تحت دہلی فساد متاثرین میں سے کچھ لوگوں کو تجارت کے لئے مالی مدد، آٹو رکشا، بیٹری رکشا خرید کر دینا اور بچیوں کی شادی میں بھی مالی تعاون کرنا ہے۔

آخر میں مولانا مدنی نے اپنے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے فسادات کے برعکس حالیہ فسادات میں یہ چیز دیکھنے میں آئی کہ شرپسندوں نے منصوبہ بند طریقے سے عبادت گاہوں کو ٹارگیٹ کیا اور ان کو نقصان پہنچایا جو کہ فرقہ پرستی کی انتہا ہے، جب کہ ہمارا یہ ماننا ہے کہ ہر عبادت گاہ چاہے مسجد ہو یا مندر یا دوسری عبادت گاہیں، سب کو عزت کی نظر سے دیکھا جانا چاہیے اوراس کا احترام کرنا چاہیے۔ اس حساس مسئلے پر ارباب اقتدار کو سوچنا چاہیے، لیکن افسوس سیاست داں اقتدار کی خاطر ملکی اور وعوامی مسائل کی جگہ صرف اور صرف مذہب کی بنیاد پر نفرت کی سیاست کر رہے ہیں جو کہ ملک کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔

واضح رہے کہ چار منزلہ جنتی مسجد کو فرقہ پرستوں نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا تھا۔ سلنڈر اور دھماکہ کے دیگر ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے اس کی دو دیواریں پوری طرح توڑ دی گئی تھیں۔ پوری مسجد کو بھی جلا دیا تھا اور اس کے مینارپر بھگوا جھنڈ لہرا دیا گیا تھا۔ تعمیر نو اور تزئین کاری کے بعد مسجد بہت خوبصورت بن گئی اور سنگ مرمر کے پتھروں پر مینا کاری بھی کی گئی ہے۔ اس کی وجہ سے مسجد بہت خوبصورت اور دیدہ زیب لگتی ہے۔