• 425
    Shares

نئی دہلی: سال 2020 میں دہلی میں ہونے والے فسادات کے کچھ معاملات میں دہلی پولیس کی تفتیش کو غیر حساس اور مضحکہ خیز قرار دینے والے ذیلی عدالت کے جج ونود یادو کا تبادلہ قومی راجدھانی کی ایک دیگر عدالت میں کر دیا گیا ہے۔ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، جج نے دہلی پولیس پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ مناسب تفتیش نہیں کرنے سے جمہوریت کو نقصان ہوگا۔

خیال رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج ونود یادو کڑکڑڈومہ ضلع عدالت میں فسادات سے متعلق معاملوں کی سماعت کر رہے تھے۔ ان کا تبادلہ راوؤز ایوینیو عدالت میں خصوصی جج، پی سی قانون، سی بی آئی کے طور پر کیا گیا ہے۔ وہ جج ویریندر بھٹ کا مقام حاصل کریں گے، جو اب کڑکڑڈومہ عدالت میں اے ایس جے کا عہدہ سنبھالیں گے۔

اے ایس جے ونود یادو نے اپنے تبادلہ سے ایک دن قبل دہلی پولیس پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس کے گواہ حلف اٹھا کر جھوٹ بول رہے ہیں اور متضاد بیانات دے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ تبصرہ شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فساد کے معاملہ کی سماعت کے دوران کیا، جب ایک پولیس اہلکار نے تین مبینہ فسادیوں کی شناخت کی لیکن ایک دیگر نے کہا کہ تفتیش کے دوران ان کی شناخت نہیں کی جا سکی۔

ونود یادو نے اس پر کہا کہ یہ انتہائی افسوس ناک صورت حال ہے۔ انہوں نے اس حوالہ سے ڈپٹی کمشنر آف پولیس (شمال مشرقی) سے رپورٹ طلب کی تھی۔جج ونود یادو نے فسادات سے متعلق کچھ معاملات میں دہلی پولیس کی تفتیش سے اختلاف کیا تھا اور کئی مرتبہ ’غیر حساس اور مضحکہ خیز‘ تفتیش کے لئے اس کی سرزنش کرتے ہوئے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔ بعد میں اس کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔

انہوں نے گزشتہ کچھ مہینوں میں اس معاملہ میں تحقیقات کی نگرانی کرنے اور قصوروار پولیس افسران کے خلاف کارروائی کے لئے دہلی پولیس کمشنر راکیش استھانہ سے مداخلت کی درخواست کی تھی۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔