دہلی عدالت نے ایمازون پر پاکستانی روح افزا کی فروخت بند کر دی

297

دہلی ہائی کورٹ نے ای کامرس ویب سائٹ ایمازون انڈیا پر پاکستانی ہمدرد لیبارٹریز (وقف) سمیت چھ کمپنیوں کی جانب سے مشہور شربت روح افزا کی فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے۔

انڈیا میں روح افزا تیار کرنے والی کمپنی ہمدرد نیشنل فاونڈیشن نے دہلی ہائی کورٹ میں اس کے پاکستانی ہمدرد لیبارٹریز (وقف) کی مصنوعات کی ایمازون انڈیا پر فروخت کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔

درخواست گزار، ہمدرد نیشنل فاؤنڈیشن، نے دعویٰ کیا تھا کہ خلاف ورزی کے طور فروخت ہونے والی مصنوعات (روح افزا) پاکستان میں تیار کی جاتی ہیں، اور ان کی ایمازون انڈیا پر فروخت ہندوستانی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

جسٹس پرتیبھا سنگھ پر اس سال ستمبر میں ایمازون انڈیا کو 48 گھنٹوں میں ہمدرد نیشنل فاونڈیشن کے علاوہ دوسری کمپنیوں کی تیار یا فروخت کی جانے والی روح افزا کے اشتہارات کو ہٹانے کا حکم دیا تھا۔

ایمازون انڈیا نے دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر عمل کرنے کے بعد عدالت کو مطلع کیا تھا۔

بعد ازاں انڈیا میں روح افزا تیار کرنے والے ہمدر نیشنل فاونڈیشن نے دہلی ہائی کورٹ کو مطلع کیا کہ کچھ دوسری کمپنیاں بھی پاکستان میں تیار کردہ روح افزا ایمازون انڈیا فروخت کر رہی ہیں۔

منگل کو عدالت نے مجموعی طور پر چھ کمپنیوں (وینڈرز) کو ایمازون انڈیا پر روح افزا فروخت کرنے سے روک دیا۔
روح افزا کی تاریخ

انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش میں ایک ہی خاندان کے مالکان روح افزا بناتے اور فروخت کرتے ہیں۔

سرخ رنگ کے مشروب روح افزا کو سب سے پہلے حکیم حافظ عبدالمجید نے دہلی میں متعارف کروایا تھا، تاہم ہندوستان کی تقسیم کے بعد ان کے بڑے بیٹے نے ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کیا، جبکہ چھوٹے برخوردار پاکستان کو ہجرت کر گئے۔

انڈیا میں روح افزا ہمدرد نیشنل فاؤنڈیشن تیار کرتی ہے، جبکہ پاکستان میں یہی مشروب ہمدرد لیبارٹریز (وقف) بناتی ہیں۔

ہمدرد انڈیا کے سی ای او سید حامد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ روح افزا تیار کرنے والے دونوں خاندانوں کے درمیان روابط بہت بہتر ہیں، تاہم تجارتی نقطہ نظر سے انڈیا میں صرف مقامی طور پر تیار کردہ روح افزا بیچی جا سکتی ہے۔