نئی دہلی: دہلی میں ہندو یووا واہنی کی تقریب کے دوران دی گئی جس تقریر میں ہر قیمت پر ’ہندو راشٹر‘ قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، دہلی پولیس نے گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کر کے کہا ہے کہ وہ نفرت انگیز تقریر نہیں تھی۔ سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز دہلی پولیس کے حلف نامہ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بہتر حلف نامہ دائر کرنے کا مطالبہ کیا۔

دہلی دھرم سنسد معاملہ میں سپریم کورٹ میں دہلی پولیس کی جانب سے گزشتہ ہفتہ حلف نامہ داخل کیا گیا تھا۔ اس حلف نامہ میں پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ 19 دسمبر کو دہلی میں منعقد ہونے والی دھرم سنسد کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر نہیں کی گئی تھی۔

دہلی پولیس نے حلف نامہ میں کہا کہ دھرم سنسد کی ویڈیو اور دیگر مواد کی گہرائی سے جانچ کی گئی ہے اور اس میں انکشاف ہوا ہے کہ کسی بھی فرقہ کے خلاف نفرت انگیز بیان نہیں دئے گئے۔ وہیں سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز دہلی پولیس کے بیان پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور بہتر حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ سپریم کورٹ نے دہلی پولیس کے حلف نامہ پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھچا کہ یہ صرف تفتیشی افسر کی رپورٹ ہے یا پھر پولیس کمشنر اور ڈی سی پی کا بھی یہی موقف ہے؟

دریں اثنا، سینئر وکیل کپل سبل نے بھی دہلی پولیس کے حلف نامہ پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ تحقیقات ہو چکی ہے اور انہوں نے کلین چٹ دے دی ہے۔ تفتیش کی گئی اور کوئی جرم نہیں پایا گیا۔ گووند پوری میں نفرت انگیز تقریر کی تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ ایسے الفاظ کا کوئی استعمال نہیں ہے، جن کی تشہیر کی جا سکتی ہے کہ بیان میں مسلمانوں کی نسل کشی کی بات کی گئی ہے۔

کپل سبل نے دہلی پولیس کے اس بیان پر نکتہ چینی کی جس میں کہا گیا ہے کہ ’’دھرم سنسند کے مقررین کا مقصد سماج کی اخلاقیات کا دفاع کرنا تھا۔‘‘ انہوں نے سوال کیا کہ ’’اس بیان کا کیا مطلب تھا؟‘‘

سپریم کورٹ نے اس معاملے میں بہتر حلف نامہ داخل کرنے کے لیے دہلی پولیس کو دو ہفتے کا مزید وقت دیا ہے اور 4 مئی تک نیا حلف نامہ داخل کرنے کو کہا ہے۔ اب اس معاملے کی اگلی سماعت 9 مئی کو ہونی ہے۔

غور طلب ہے کہ دہلی کے گووند پوری میں منعقد دھرم سنسد میں سدرشن نیوز ٹی وی کے چیف ایڈیٹر سریش چوہانکے نے لوگوں سے حلف لینے کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ ’’ہندو راشٹر کے لیے لڑیں گے، مریں گے اور ضرورت پڑی تو ماریں گے‘‘۔ اس تقریب کا اہتمام ہندو یووا واہنی کی جانب سے کیا گیا تھا۔