• 425
    Shares

دہلی واقع دوارکا سیکٹر-22 میں حج ہاؤس تعمیر کرنے کی تیاریاں چل رہی ہیں اور اس سلسلے میں نہ صرف زمین الاٹ کیا جا چکا ہے بلکہ فنڈ ریلیز کیے جانے کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ لیکن اس تعمیر کو لے کر ’اے ڈی آر ایف‘ یعنی آل دوارکا ریسیڈنٹس فیڈریشن نے ہنگامہ شروع کر دیا ہے۔ اے ڈی آر ایف نے حج ہاؤس کی تعمیر کے لیے دوارکا میں الاٹ زمین کے فیصلے کو کینسل کرنے کے لیے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل کو خط لکھا ہے جس میں کئی زہر انگیز باتیں لکھی گئی ہیں جس پر سماج کے دانشور طبقہ سے جڑے لوگوں نے اعتراض بھی ظاہر کیا ہے۔

دراصل اے ڈی آر ایف نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر اور دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین کے نام جو خط لکھا ہے اس میں کہا ہے کہ اگر دوارکا میں حج ہاؤس کی تعمیر ہوتی ہے تو فساد جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے اور نتیجہ کار ہندو طبقہ کو علاقے سے ہجرت کرنے کی نوبت پیدا ہو سکتی ہے۔ اس خط کے تعلق سے مشہور و معروف سماجی کارکن شبنم ہاشمی نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے اور ’قومی آواز‘ کے نمائندہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ خط میں جس طرح کی باتیں لکھی گئی ہیں وہ ناقابل قبول ہیں، کیونکہ حج ہاؤس کے دوارکا میں تعمیر ہونے سے کشمیر جیسے حالات کیسے پیدا ہو سکتے ہیں۔شبنم ہاشمی نے اے ڈی آر ایف کے خط کو فرقہ وارانہ ذہنیت کا عکاس ٹھہرایا ہے اور اس سلسلے میں ایک ٹوئٹ بھی کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’برائے کرم خط کو پڑھیے۔ یہ انتہائی فرقہ واریت پر مبنی ہے۔

میں دوارکا یا کسی دیگر مذہبی مقام پر حج ہاؤس بنائے جانے میں دلچسپی نہیں رکھتی، لیکن آخر حج ہاؤس فساد کو فروغ کیسے دے سکتا ہے؟ اے ڈی آر ایف کا دعویٰ ہے کہ وہ دوارکا کے باشندگان کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ انتہائی ناگوار ہے۔‘‘ اس ٹوئٹ میں شبنم ہاشمی نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر اور ڈی سی پی دہلی کو ٹیگ کیا ہے، اور ’قومی آواز‘ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دہلی ڈی سی پی کو از خود اس معاملے میں نوٹس لینا چاہیے اور اے ڈی آر ایف کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

معلوم ہو کہ اے ڈی آر ایف نے حج ہاؤس کی تعمیر سے سوسائٹی میں بھائی چارہ، خیر سگالی اور امن کو خطرہ بتایا ہے اور اس کو لاء اینڈ آرڈر کے لیے پریشانی کا سبب ٹھہرایا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ’’اگر دوارکا میں حج ہاؤس تعمیر کرنے کی اجازت دی گئی تو علاقے میں فساد کی پوری امید ہے اور پھر یہاں سے ہندوؤں کی ہجرت شروع ہو سکتی ہے۔ اے ڈی آر ایف نے یہ بھی کہا ہے کہ حالات شاہین باغ، جعفر آباد اور کشمیر جیسے ہو سکتے ہیں۔‘‘ساتھ ہی خط میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ حج ہاؤس پہلے سے ہی آئی جی آئی ائیرپورٹ پر موجود ہے، اور اگر یہ کسی ضرورت کے تحت دوسری جگہ بھی بن رہا ہے تو یہ دھیان رکھنا چاہے کہ ان ہندو زائرین کے لیے دہلی میں کوئی جگہ موجود یا الاٹ نہیں ہے جو مختلف مذہبی مقامات کے لیے رخت سفر باندھتے ہیں۔خط کے شروع میں اے ڈی آر ایف نے پورے معاملے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر سے گزارش کی ہے کہ دوارکا سیکٹر-22 میں حج ہاؤس کے لیے جو ڈی ڈی اے کی زمین الاٹ کی گئی ہے، اسے منسوخ کیا جائے۔ خط میں اے ڈی آر ایف نے خود کو دوارکا اور اس کے آس پاس کے علاقوں کی ترقی و فروغ کے لیے وقف قرار دیا ہے اور مقامی باشندوں کا نمائندہ بھی بتایا ہے۔
اے ڈی آر ایف نے لیفٹیننٹ گورنر کو لکھے گئے اس خط میں بتایا کہ دوارکا سیکٹر-22 میں حج ہاؤس تعمیر کرنے کے لیے دہلی حکومت کی جانب سے زمین الاٹ کی گئی ہے اور اس کے لیے فنڈ بھی ریلیز کیا گیا ہے۔ دوارکا کے باشندگان کو اس پر اعتراض ہے اور مغربی و جنوب مغربی اضلاع کے ساتھ ساتھ دہلی کے 360 اضلاع پر مبنی کھاپ پنچایت بھی اس حج ہاؤس کی تعمیر کے مخالف ہیں۔ خط کے آخر میں کہا گیا ہے کہ دوارکا اور قرب و جوار کے باشندگان کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے حج ہاؤس کے لیے الاٹ جگہ کو فوری اثر سے کینسل کیا جائے، جو کہ ملک کے مفاد میں ہوگا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔