نئی دہلی: دہلی حکومت نے پیر کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ وہ آلودگی کو کم کرنے کے لیے قومی دارالحکومت میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے لیے تیار ہے۔ دہلی حکومت کے 26 صفحات پر مشتمل حلف نامے میں آلودگی کو کم کرنے اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں تفصیلات دی گئی ہیں۔

سپریم کورٹ کے 13 نومبر کے حکم کے بعد حکومت دہلی نے اب تک کیے گئے اقدامات کے بارے میں تفصیلی معلومات دی ہیں، جن میں ایک ہفتے کے لیے تمام اسکولوں کی بندش بھی شامل ہیں۔ حکومت نے ہوا کو صاف کرنے کے لیے کناٹ پلیس کے علاقے میں جدید پلانٹ کی تنصیب اور لوگوں کو ماحولیات کے تحفظ کے لیے بیدار کرنے کے لیے بھی معلومات دی ہیں۔

ہفتہ کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں ڈویژن بنچ نے آلودگی کی صورتحال کو سنگین قرار دیتے ہوئے فوری اقدامات کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے ایسے اقدامات کرنے کو کہا تھا کہ اگلے دو تین دنوں میں آلودگی کم ہو جائے۔ دہلی حکومت نے کہا ہے کہ عدالتی حکم پر اٹھائے گئے فوری اقدامات سے آلودگی میں کمی آئی ہے اور یہ توقع ہے کہ اگلے دو تین دنوں میں اس میں مزید کمی واقع ہو سکتی ہے۔

حکومت نے کہا ہے کہ دارالحکومت میں 74 فیصد آلودگی صنعتی یونٹوں، گاڑیوں اور دھول کی وجہ سے ہے۔ عدالت نے یہ حکم آدتیہ دوبے نامی طالب علم کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے دیا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔