دہلی بلدی انتخابات میں مجلس اتحاد المسلمین مقابلہ کرے گی

105

نئی دہلی:7۔نومبر(ایجنسیز) کل ہند مجلس اتحاد المسلمین اس مرتبہ دہلی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں 40 نشستوں پر مقابلہ کرے گی اور قابل لحاظ مسلم و دلت آبادی والے علاقوں پر توجہ مرکوز کرے گی۔قومی دارالحکومت میں اے آئی ایم آئی ایم کا یہ پہلا بڑا سیاسی اقدام ہے۔ اس نے 2017ء کے بلدی انتخابات میں 9 نشستوں پر مقابلہ کیا تھا اور تمام نشستوں پر اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پارٹی دو نشستوں کے لیے پہلے ہی امیدواروں کا اعلان کرچکی ہے۔برج پوری وارڈ میں مصطفی آباد سے ستارہ محمد فخر الدین اور قراول نگر میں شری رام کالونی وارڈ سے سرتاج علی سیفی امیدوار ہوں گے۔ اے آئی ایم آئی ایم دہلی کے ریاستی صدر کلیم الحفیظ نے کہا کہ اسد الدین اویسی اور وارث پٹھان جیسے سینئر قائدین انتخابی مہم میں شامل ہوں گے۔پارٹی جن نشستوں سے مقابلہ کرنے والی ہے ان میں بیشتر قراول نگر، اوکھلا، چاندنی چوک، سیما پوری، مصطفی آباد، بلی ماران، بابر پور، سیلم پور، مٹیا محل اور صدر بازار شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی بنیادی طور پر دلت اور مسلم علاقوں کا مسئلہ اٹھائے گی، جنہیں نظر انداز کردیا گیا ہے اور دیگر علاقوں کی طرح جہاں ترقی ہورہی ہے‘

بلدی خدمات وہاں نہیں پہنچ رہی ہیں۔اس کے علاوہ کئی مواقع پر مسلمانوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے، چاہے وہ شمال مشرقی دہلی کے فسادات ہوں، تبلیغی جماعت کا واقعہ ہو، یا جہانگیر پوری میں ایم سی ڈی کی جانب سے بلڈوزر استعمال کیے جانے کا معاملہ ہو۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح دونوں جماعتیں بی جے پی اور عام آدمی پارٹی ان واقعات کے مرتکب رہے ہیں اور خاموش تماشائی بنے رہے ہیں۔دہلی کی زائد از 2 کروڑ آبادی کا 15 فیصد حصہ مسلمان رائے دہندے ہیں جنہوں نے 2013ء تک بڑی تعداد میں کانگریس کو ووٹ دیا۔ عام آدمی پارٹی کے ابھرنے کے بعد مسلمانوں کے ووٹ اس پارٹی کو منتقل ہوگئے۔ فروری 2020ء کے اسمبلی انتخابات میں سمجھا جاتا ہے کہ مسلمانوں نے ایک بار پھر عام آدمی پارٹی کی حمایت کی۔اس مرتبہ پارٹی نے 53.57 فیصد ووٹوں کے سا تھ 62 نشستیں جیت لیں۔ گذشتہ برسوں کے دوران عام آدمی پارٹی نے جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کی تنسیخ کی حمایت کی اور ایودھیا تک تیرتھ یاترائیں نکالیں۔ حال ہی میں چیف منسٹر اروند کجریوال نے مرکزی حکومت اور وزیر اعظم سے اپیل کی تھی کہ وہ کرنسی نوٹوں پر لکشمی دیوی اور گنیش بھگوان کی تصویریں چھاپیں، تاکہ ملک کو معاشی خوشحالی حاصل ہو۔