دہلی انتخابی نتیجہ LIVE: خوش آئند رجحانات کو دیکھ کر سنجے سنگھ نے دیا بڑا بیان

0 6

آج ہندوستان کی جیت ہوئی: سنجے سنگھ

لگاتار رجحانات عام آدمی پارٹی کے حق میں بنے ہوئے ہیں اور عآپ کی جانب سے پہلی بار کسی نے باضابطہ میڈیا کے سامنے اس پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی لیڈر سنجے سنگھ نے خوش آئند رجحانات کو دیکھ کر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج ہندوستان جیت گیا۔ بی جے پی نے عآپ کے خلاف پوری طاقت لگا دی لیکن دہلی والوں نے بتا دیا کہ وہ ہمیشہ ’ترقی‘ کے لیے کام کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔‘‘


پٹپڑ گنج اسمبلی سیٹ پر کانٹے کی ٹکر، نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا پیچھے

ایک طرف جہاں عام آدمی پارٹی رجحانات میں 58 سیٹوں پر سبقت بنائے ہوئی ہے، وہیں پٹپڑ گنج اسمبلی سیٹ پر زبردست مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس سیٹ پر عآپ کی جانب سے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کھڑے ہوئے تھے جو کہ بی جے پی کے رویندر سنگھ نیگی سے پیچھے چل رہے ہیں۔ ان دونوں کو حاصل ووٹوں کا فرق تقریباً 2000 ہے اور چھ راؤنڈ کی کاؤنٹنگ ہوچکی ہے۔

ممبئی میں عآپ کارکنان منا رہے ’دہلی فتح‘ کا جشن

دہلی میں عآپ کی حکومت بنتی ہوئی دیکھ کر مہاراشٹر میں موجود عآپ کارکنان جشن مناتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ممبئی کے اندھیری میں عآپ کارکنان بڑی تعداد میں سڑکوں پر اور مقامی عآپ دفتر میں جمع ہوئے اور کیجریوال کے حق میں نعرے بلند کیے۔


بی جے پی ہیڈکوارٹر میں پسرا ’سنّاٹا‘

رجحانات میں عآپ کو اکثریت ملتا ہوا دیکھنے کے بعد بی جے پی ہیڈکوارٹر میں پوری طرح سے سناٹا پسرا ہوا نظر آ رہا ہے۔ ووٹوں کی گنتی شروع ہونے سے قبل یہاں کچھ ہلچل ضرور تھی، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، خاموشی بڑھتی چلی گئی۔ دوسری طرف عآپ کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے عآپ ہیڈکوارٹر پر جشن کا ماحول ہے۔ عآپ کارکنان بڑی تعداد میں عآپ کے دفتر پر جمع ہو گئے ہیں اور کیجریوال کے حق میں نعرے بلند کر رہے ہیں۔


رجحانات نے کھول دی بی جے پی کے جھوٹے دعووں کی قلعی

عام آدمی پارٹی لگاتار رجحانات میں تقریباً 50 سیٹوں پر سبقت برقرار رکھے ہوئی ہے جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ بی جے پی کے سرکردہ لیڈروں نے جو حیران کرنے والے نتائج برآمد ہونے کے دعوے کیے تھے، وہ غلط تھے۔ حالانکہ رجحانات میں کبھی کبھی بی جے پی 22 سیٹوں پر سبقت کرتی ہوئی نظر آئی لیکن پھر وہ 20 تک چلی گئی۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق مزید نیچے جا کر بی جے پی 17 سیٹوں کی سبقت تک پہنچ گئی ہے۔ گویا کہ عآپ کو 53 سیٹوں پر سبقت حاصل ہو گئی ہے۔

اوکھلا اور بلیماران اسمبلی سیٹ پر بی جے پی امیدوار آگے

مسلم اکثریتی اسمبلی سیٹوں میں شامل اوکھلا اور بلیماران سے حیران کرنے والی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ تازہ ترین رجحانات کے مطابق اوکھلا اسمبلی سیٹ سے بی جے پی کے برہمدیو سنگھ اور بلیماران اسمبلی سیٹ سے لتا سوڈھی آگے چل رہی ہیں۔ دونوں ہی سیٹوں پر عآپ امیدوار دوسرے نمبر پر اور کانگریس تیسرے نمبر پر چلی گئی ہے۔ کچھ دیر قبل ان دونوں ہی سیٹوں پر کانگریس امیدوار نے سبقت بنائی ہوئی تھی۔

کانگریس کے ہارون یوسف نے بلیماران اسمبلی سیٹ پر بنائی سبقت

ایک طرف جہاں عآپ بہ آسانی دہلی میں حکومت بناتی ہوئی نظر آ رہی ہے وہیں بی جے پی تقریباً 15 اسمبلی سیٹوں پر آگے چل رہی ہے۔ کانگریس امیدوار 2 سیٹوں پر اپنے حریف امیدواروں کو سخت مقابلہ دیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ بلیماران اسمبلی سیٹ پر کانگریس کے ہارون یوسف سبقت بنائے ہوئے ہیں جب کہ بادلی سے کانگریس امیدوار دیویندر یادو بھی آگے چل رہے ہیں۔

سبھی 70 سیٹوں کا رجحان برآمد، 54 سیٹوں پر سبقت کے ساتھ عآپ کا کلین سویپ

دہلی کی سبھی 70 اسمبلی سیٹوں پر ووٹوں کی گنتی بہت تیزی کے ساتھ جاری ہے اور سبھی سیٹوں کا رجحان بھی برآمد ہو گیا ہے۔ عآپ امیدوار 54 سیٹوں پر سبقت بنائے ہوئے ہیں جب کہ بی جے پی امیدوار محض 15 سیٹوں پر آگے ہیں۔ کانگریس کا ایک امیدوار آگے چل رہا ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو کیجریوال ایک بار پھر وزیر اعلیٰ بنتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ دہلی بی جے پی صدر منوج تیواری کا 48 سیٹ حاصل کرنے کا دعویٰ کھوکھلا ثابت ہو رہا ہے۔

50 سیٹوں کا رجحان برآمد، 38 سیٹوں پر سبقت کے ساتھ عآپ نے حاصل کی اکثریت

دہلی کی 70 اسمبلی سیٹوں میں سے 50 سیٹوں کا رجحان برآمد ہو گیا ہے۔ 38 سیٹوں پر عآپ نے سبقت بنا رکھی ہے اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس کی حکومت بنتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ حکومت سازی کے لیے صرف 36 سیٹوں کی ضرورت ہوگی اور عآپ اتنی سیٹیں شروعاتی رجحانات میں حاصل کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 10 سیٹوں پر بی جے پی امیدوار سبقت بنائے ہوئے ہیں جب کہ کانگریس امیدوار 2 سیٹوں پر آگے ہے۔

37 سیٹوں کا رجحان آیا سامنے، 25 پر عآپ، 9 پر بی جے پی اور کانگریس 3 پر آگے

رجحانات برآمد ہونے کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ اب تک 37 سیٹوں کا رجحان سامنے آ گیا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان 37 سیٹوں میں سے 3 سیٹوں پر کانگریس امیدوار سبقت بنائے ہوئے ہے۔ چونکہ کانگریس کو کسی بھی ایگزٹ پول میں ایک بھی سیٹ ملتا ہوا نظر نہیں آ رہا تھا، اس لیے کانگریس کے لیے یہ خوشخبری کہی جا رہی ہے۔ عآپ 25 سیٹوں پر آگے ہے جب کہ بی جے پی کو 9 سیٹوں پر سبقت حاصل ہے۔

بیلٹ ووٹوں کی گنتی کے ساتھ ساتھ رجحانات کی آمد کا سلسلہ بھی شروع

عآپ اور بی جے پی دونوں ہی پارٹیوں کے لیڈران اپنی اپنی کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں اور کانگریس امیدوار بھی بہتر کارکردگی کی بات کہہ رہے ہیں۔ سب سے پہلے بیلٹ پیپر ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی ہے اور رجحانات کی آمد کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ سب سے پہلا رجحان جو آیا ہے وہ عآپ کے حق میں ہے۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ آگے کیا کچھ ہوتا ہے۔


8 بجے شروع ہوگی ووٹوں کی گنتی، سبھی امیدواروں کی دھڑکنیں تیز

دہلی کی 70 اسمبلی سیٹوں کے لیے انتخابات گزشتہ 8 فروری کو ہوئے تھے اور اس کا ایگزٹ پول بھی سامنے آ چکا ہے جس میں عآپ بہ آسانی حکومت بناتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ لیکن بی جے پی کے دہلی صدر منوج تیواری سمیت کئی اہم لیڈران بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی کے حق میں ایسا نتیجہ آئے گا کہ لوگ حیران ہو جائیں گے۔ ان دعووں کے بعد لوگ بھی یہ دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں کہ آخر انتخاب کا نتیجہ کیا آتا ہے۔ آج 8 بجے ووٹوں کی گنتی شروع ہوگی اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شروع کے دو گھنٹے مین یعنی 10 بجے تک ایک اشارہ ضرور سامنے آ جائے گا جس سے پتہ چل سکے گا کہ مقابلہ ٹکر کا ہوگا یا یکطرفہ ہوگا۔

اس درمیان ووٹوں کی گنتی سے قبل امیدواروں کے ذریعہ مندروں میں پوجا پاٹھ کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ دہلی بی جے پی لیڈر وجے گویل کو بھی ہنومان مندر میں پوجا کرتے ہوئے دیکھا گیا۔



یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو