دہلی انتخابی نتیجہ LIVE: بلیماران اسمبلی سیٹ سے کانگریس کے ہارون یوسف آگے

0 3

کانگریس کے ہارون یوسف نے بلیماران اسمبلی سیٹ پر بنائی سبقت

ایک طرف جہاں عآپ بہ آسانی دہلی میں حکومت بناتی ہوئی نظر آ رہی ہے وہیں بی جے پی تقریباً 15 اسمبلی سیٹوں پر آگے چل رہی ہے۔ کانگریس امیدوار 2 سیٹوں پر اپنے حریف امیدواروں کو سخت مقابلہ دیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ بلیماران اسمبلی سیٹ پر کانگریس کے ہارون یوسف سبقت بنائے ہوئے ہیں جب کہ بادلی سے کانگریس امیدوار دیویندر یادو بھی آگے چل رہے ہیں۔

سبھی 70 سیٹوں کا رجحان برآمد، 54 سیٹوں پر سبقت کے ساتھ عآپ کا کلین سویپ

دہلی کی سبھی 70 اسمبلی سیٹوں پر ووٹوں کی گنتی بہت تیزی کے ساتھ جاری ہے اور سبھی سیٹوں کا رجحان بھی برآمد ہو گیا ہے۔ عآپ امیدوار 54 سیٹوں پر سبقت بنائے ہوئے ہیں جب کہ بی جے پی امیدوار محض 15 سیٹوں پر آگے ہیں۔ کانگریس کا ایک امیدوار آگے چل رہا ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو کیجریوال ایک بار پھر وزیر اعلیٰ بنتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ دہلی بی جے پی صدر منوج تیواری کا 48 سیٹ حاصل کرنے کا دعویٰ کھوکھلا ثابت ہو رہا ہے۔

50 سیٹوں کا رجحان برآمد، 38 سیٹوں پر سبقت کے ساتھ عآپ نے حاصل کی اکثریت

دہلی کی 70 اسمبلی سیٹوں میں سے 50 سیٹوں کا رجحان برآمد ہو گیا ہے۔ 38 سیٹوں پر عآپ نے سبقت بنا رکھی ہے اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس کی حکومت بنتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ حکومت سازی کے لیے صرف 36 سیٹوں کی ضرورت ہوگی اور عآپ اتنی سیٹیں شروعاتی رجحانات میں حاصل کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 10 سیٹوں پر بی جے پی امیدوار سبقت بنائے ہوئے ہیں جب کہ کانگریس امیدوار 2 سیٹوں پر آگے ہے۔

37 سیٹوں کا رجحان آیا سامنے، 25 پر عآپ، 9 پر بی جے پی اور کانگریس 3 پر آگے

رجحانات برآمد ہونے کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ اب تک 37 سیٹوں کا رجحان سامنے آ گیا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان 37 سیٹوں میں سے 3 سیٹوں پر کانگریس امیدوار سبقت بنائے ہوئے ہے۔ چونکہ کانگریس کو کسی بھی ایگزٹ پول میں ایک بھی سیٹ ملتا ہوا نظر نہیں آ رہا تھا، اس لیے کانگریس کے لیے یہ خوشخبری کہی جا رہی ہے۔ عآپ 25 سیٹوں پر آگے ہے جب کہ بی جے پی کو 9 سیٹوں پر سبقت حاصل ہے۔

بیلٹ ووٹوں کی گنتی کے ساتھ ساتھ رجحانات کی آمد کا سلسلہ بھی شروع

عآپ اور بی جے پی دونوں ہی پارٹیوں کے لیڈران اپنی اپنی کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں اور کانگریس امیدوار بھی بہتر کارکردگی کی بات کہہ رہے ہیں۔ سب سے پہلے بیلٹ پیپر ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی ہے اور رجحانات کی آمد کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ سب سے پہلا رجحان جو آیا ہے وہ عآپ کے حق میں ہے۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ آگے کیا کچھ ہوتا ہے۔


8 بجے شروع ہوگی ووٹوں کی گنتی، سبھی امیدواروں کی دھڑکنیں تیز

دہلی کی 70 اسمبلی سیٹوں کے لیے انتخابات گزشتہ 8 فروری کو ہوئے تھے اور اس کا ایگزٹ پول بھی سامنے آ چکا ہے جس میں عآپ بہ آسانی حکومت بناتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ لیکن بی جے پی کے دہلی صدر منوج تیواری سمیت کئی اہم لیڈران بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی کے حق میں ایسا نتیجہ آئے گا کہ لوگ حیران ہو جائیں گے۔ ان دعووں کے بعد لوگ بھی یہ دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں کہ آخر انتخاب کا نتیجہ کیا آتا ہے۔ آج 8 بجے ووٹوں کی گنتی شروع ہوگی اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شروع کے دو گھنٹے مین یعنی 10 بجے تک ایک اشارہ ضرور سامنے آ جائے گا جس سے پتہ چل سکے گا کہ مقابلہ ٹکر کا ہوگا یا یکطرفہ ہوگا۔

اس درمیان ووٹوں کی گنتی سے قبل امیدواروں کے ذریعہ مندروں میں پوجا پاٹھ کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ دہلی بی جے پی لیڈر وجے گویل کو بھی ہنومان مندر میں پوجا کرتے ہوئے دیکھا گیا۔



یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو