• 425
    Shares

دہلی اسمبلی سے لال قلعہ کی طرف جانے والے ایک خفیہ راستہ کا پتہ چلا ہے جس کے بارے میں کئی بار باتیں تو ہوتی تھیں، لیکن کچھ بھی مصدقہ نہیں تھا۔ جمعرات کے روز دہلی اسمبلی میں غار جیسا ایک اسٹرکچر دریافت ہوا ہے جس کے بارے میں دہلی اسمبلی اسپیکر رام نواس گویل نے کہا کہ غار اسمبلی کو لال قلعہ سے جوڑتا ہے اور مجاہدین آزادی کی آمد و رفت کے وقت انگریزوں کے ذریعہ لوگوں کے غصے سے بچنے کے لیے اس کا استعمال کیا جاتا تھا۔

اسپیکر رام نواس گویل کا کہنا ہے کہ ’’جب میں 1993 میں رکن اسمبلی بنا تو یہاں موجود ایک غار کے بارے میں افواہ اڑی کہ لال قلعہ تک جاتی ہے اور میں نے اس کی تاریخ دریافت کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اس سلسلے میں کوئی واضح اشارہ نہیں ملا۔‘‘ گویل نے مزید کہا کہ ’’اب ہمیں غار کا منھ مل گیا ہے، لیکن ہم اسے آگے نہیں کھود رہے ہیں کیونکہ میٹرو پروجیکٹ اور سیور بنانے کی وجہ سے غار کے سبھی راستے تباہ ہو گئے ہیں۔‘‘

تاریخ سے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے اسپیکر رام نواس گویل نے کہا کہ جس عمارت میں اس وقت دہلی اسمبلی ہے، اس کا 1912 میں راجدھانی کولکاتا سے دہلی منتقل کرنے کے بعد مرکزی اسمبلی کی شکل میں استعمال کیا گیا تھا۔
بعد میں 1926 میں یہ ایک عدالت کی شکل میں تبدیل ہو گیا تھا اور انگریزوں نے مجاہدین آزادی کو عدالت میں لانے کے لیے اس غار کا استعمال کیا تھا۔ گویل مزید بتاتے ہیں کہ ’’ہم سبھی یہاں پھانسی کے کمرے کی موجودگی کے بارے میں جانتے تھے، لیکن اسے کبھی نہیں کھولا۔ اب آزادی کا 75واں سال تھا اور میں نے اس کمرے کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔ ہم اس کمرے کو مجاہدین آزادی کے مندر کی شکل میں بدلنا چاہتے ہیں،

تاکہ انھیں خراج عقیدت پیش کیا جا سکے۔‘‘ اسمبلی اسپیکر رام نواس گویل نے کہا کہ ملک کی آزادی سے جڑے دہلی اسمبلی کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے ان کا ارادہ اگلے یوم آزادی تک سیاحوں کے لیے پھانسی کا کمرہ کھولنے کا ہے اور اس کے لیے کام شروع ہو چکا ہے۔

،تصویر کا کیپشن

یہ سرنگ برطانوی عہد کی اس عمارت کے نیچے ملی ہے

کسی خفیہ سرنگ سے زیادہ پرکشش، مہم جو اور پراسرار شاید ہی کوئي دوسری چیز ہو۔

حال ہی میں برطانوی عہد کے بنے ہوئے بھارتی پارلیمان کے نیچے ملنے والی راہ داری نے ہر قسم کے اندازوں کو پر دے دیے۔

یہ عمارت سنہ 1911 کی ہے جب برطانیہ نے بھارتی دارالحکومت کلکتہ (اب کولکتہ) سے دہلی منتقل کی اور یہ اپنے عہد کے بہترین فن تعمیر کا نمونہ ہے۔

بڑے محراب نما راستے سے گزریں تو آّ پ کو سخت لکڑیوں کی دروازے اور کھڑکیاں نظر آئیں گی جو کہ شاہ ایڈورڈ کی شاہانہ سطوت کا کلاسیکی نمونہ ہیں۔

یہ سرنگ پارلیمان کی کوٹھریوں کے نیچے ہے اور اب یہ دہلی کی مقامی حکومت کا دفتر ہے۔

آپ کے اندازے کے مطابق اس میں داخل ہونے کا دروازہ خفیہ ہے۔ آّپ ایک سبز قالین کو ہٹاتے ہیں تو آپ کو ایک کنڈی نظر آتی ہے۔

اس میں اپنا سر ڈال کر میں نے ایک خالی چیمبر دیکھا جو کہ پانچ فیٹ گہرا اور 15 فیٹ چوڑا اور امید کے مطابق مزید ایک راہداری اس چیمبر کے نیچے تھی۔

تصویر کا کیپشن
سبز قالین کے نیچے سے راستہ جاتا ہے

اس سرنگ کا پتہ اسمبلی کے سپیکر رام نواس گوئل نے چلایا۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے اس کی موجودگی کے بارے میں اپنے سٹاف سے افواہیں سنی تھیں۔

ان کے خیال میں جب پارلیمان سنہ 1926 میں نئی عمارت میں منتقل ہو گيا تو سرنگ کی موجودگي کا کوئی برا مقصد رہا ہوگا اور یہ عمارت عدالت میں تبدیل کر دی گئي۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے قیدیوں کو لال قلعے سے لایا جاتا تھا۔ لال قلعہ مغل دور کی قلع بند عمارت ہے جہاں برطانوی حکومت سیاسی قیدیوں کو رکھتی تھی۔

مسٹر گوئل نے کہا: ’وہ انھیں سرنگ کے ذریعے عدالت میں لاتے تھے اور اسی راستے پھانسی کے لیے لے جائے جاتے تھے وہاں ایک کمرہ تھا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس سرنگ کو آنے والی نسلوں کے لیے بچا کررکھنا چاہیے تاکہ وہ یہ جانیں کہ مجاہدین آزادی کو برطانوی حکومت میں کس قسم کے مظالم کا سامنا تھا۔

فطری طور پر میں سرنگ میں جانا چاہتا تھا۔ میں چیمبر میں کود گیا اور یہ راہ داری بس ایک آدمی کے لیے مناسب تھی تقریباً تین مربع فیٹ۔

،تصویر کا کیپشن
مسٹر گوئل کا کہنا ہے کہ انھوں نے سٹاف سے اس بابت افواہیں سنی تھیں

یہ کئی اینٹ کی دیواروں سے ہوتی ہوئی گزری، فرش ملبے اور اوبر کھابڑ گڑھے سے ہوکر اسمبلی کے چیمبر تک گئي۔

یہ تقریبا 25 فیٹ لمبی سرنگ ہے اور اچانک ایک دیوار پر ختم ہو جاتی ہے۔

مسٹر گوئل کا کہنا ہے ’آگے مزید کھود نا تقریباً ناممکن ثابت ہوا ہے کیونکہ نئی عمارتوں کی بنیادوں اور فلائی اورز کے پایوں اور سیور اور دوسری چیزوں نے اس کا راستہ مسدود کر دیا ہے۔‘

لیکن جو کچھ بچا ہے اسے وہ تحفظ فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ ’یہ ہندوستان کی جنگ آزادی کا ایک اہم حصہ ہے۔ میں اس سرنگ کو محفوظ کروں گا تاکہ کبھی کبھی ہندوستانی اسے دیکھ سکیں۔‘

اس کے باہر کھلی دھوپ میں میری ملاقات تاریخ داں ولیم ڈیلرمپل سے ہوئي۔ انھوں نے کہا: ’دہلی زیر زمین راستوں کی کہانیوں سے بھرا ہوا ہے۔ بعض بڑی بڑی حویلیوں سے سرنگیں لال قلعے تک جاتی تھیں اور 18ویں صدی میں انھی سرنگوں سے مغل شہزادوں کے بچ کے نکلنے کی کہانیاں بھی ہیں۔‘

لیکن ڈیلرمپل مسٹر گوئل کی کہانی پر یقین کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

،تصویر کا کیپشن
میری فطری خواہش اس میں اترنے کی تھی

’اس بات کا سوال ہی نہیں ہے کہ مجاہد آزادی کو اس عمارت میں پھانسی دی جاتی ہو۔‘ اور وہ اس پر بھی سوال کرتے ہیں کہ آخر برطانوی حکومت لال قلعے سے یہاں تک چار کلو میٹر کی سرنگ صرف قیدیوں کے لانے لے جانے کے لیے کیوں بنائے گي؟

’اس پر زبردست صرفہ آئے گا اور اس کی کوئی ضرورت بھی نہیں کیونکہ برطانوی حکومت کے پاس اتنا اختیار اور ایسی فوج تھی جو قیدیوں کو سڑکوں اور گلیوں سے بغیر کسی خوف کے ہانکتی ہوئی لا سکتی تھی۔‘

ان کا خیال ہے کہ یہ سرنگ اس سے قبل سنہ 1857 کی ہو سکتی ہے جو کہ برطانیہ کا زیادہ کشت و خون والا دور تھا۔

بھارت میں اس جنگ کو ’پہلی جنگ آزادی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ برطانیہ میں اسے ’بغاوت‘ کے نام سے جانتے ہیں۔

یہ 19 ویں صدی میں دنیا بھر میں برطانیہ کے خلاف ہونے والی سب سے بڑی بغاوت تھی جوکہ سپاہیوں کی سرکشی سے شروع ہوئي اور مکمل بغاوت میں تبدیل ہو گئی۔

،تصویر کا کیپشن
تاریخ داں ڈیلرمپل کا خیال ہے کہ یہ پرانی سرنگ ہو سکتی ہے

ڈیلرمپل کا کہنا ہے کہ ’جہاں آج یہ عمارت ہے وہاں (1857 میں) ایک اہم میدان جنگ تھا۔ آج سامراجی عمارتوں اور ہرے بھرے لان والا علاقہ ہے لیکن پہلے یہ جھلسا ہوا جنگ کا میدان تھا۔ یہ دو فوج کے درمیان کا علاقہ تھا اور یہیں بھارت میں برطانیہ کے مقدر کا فیصلہ ہوا تھا۔ پہلی جنگ عظیم کی طرح یہاں بھی سرنگیں اور جوابی سرنگیں بنائی گئي تھیں اور شب خون میں دشمن کی فوج کے پیچھے پہنچنے کی کوششیں ہوتی تھیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’1857 کی بغاوت ایک اہم واقعہ تھا جسے برطانیہ کی تاریخ میں تقریباً بھلا دیا گیا ہے۔

،تصویر کا کیپشن
بعض پہیلیاں حل نہیں ہوتی اور یہ ان میں سے ایک ہو سکتی ہے

’یہ برطانوی حکومت کا تاریک ترین دور تھا جس میں لاکھوں بے قصور ہندوستانیوں کو انتقام پر اتری ہوئی برطانوی فوج نے موت کے گھاٹ اتر دیا تھا۔ یہ سرنگ اس دور کی بہیمانہ یاد تو ہو سکتی ہے کیونکہ اس بغاوت کو انتہائی بے دردی کے ساتھ کچل دیا گيا تھا۔‘

لیکن اس کے باوجود یہ سرنگ یوں ہی کوئی تہہ خانہ بھی ہو سکتی ہے۔ بہرحال بعض تاریخي اسرار کبھی حل نہیں ہوتے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔