باقی حصص کی فروخت کے ذریعہ 2.5 لاکھ کروڑ روپئے کے حصول کا نشانہ

نئی دہلی : مرکزی حکومت دہلی ، ممبئی ، بنگلور اور حیدر آباد ہوائی اڈوں پر باقی حصص فروخت کرنے کا بھی منصوبہ بنا رہی ہے۔ اسیٹ منی ٹائزیشن کے ذریعہ ڈھائی لاکھ کروڑرقم اکٹھے کرنے کے نشانہ کو پورا کرنے کے لئے ان حصص کو فروخت کیا جائے گا۔گذشتہ ماہ سیکرٹریوں کی کمیٹی کے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان چار ہوائی اڈوں میں سے حکومت ایئرپورٹ اتھارٹی آف انڈیا (اے اے آئی) کے باقی حصص فروخت کئے جا ئیں گے۔اس کے علاوہ نجکاری کے لئے مزید 13 ہوائی اڈوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ وزارت ہوا بازی دہلی ، ممبئی ، بنگلور اور حیدر آباد ہوائی اڈوں سے اے اے آئی کے حصص فروخت کرنے کے لئے کابینہ سے منظوری حاصل کرے گی، کابینہ میں جلد ہی اس کے لئے تجویز پیش کی جائے گی۔ فی الحال یہ چار ہوائی اڈے نجی شعبے کے اشتراک سے مشترکہ منصوبے کے تحت کام کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق نجکاری کے لئے منتخب ہونے والے 13 ہوائی اڈوں میں سے منافع بخش اور غیر منافع بخش ہوائی اڈے شامل ہوں گے۔اس کا مقصد نجکاری کے دوران بہتر پیکیج کی ترغیب ہے۔ پہلے مرحلے میں مرکزی حکومت نے گذشتہ سال لکھنو ، احمد آباد ، جے پور ، منگلور ، تروانتا پورم اور گوہاٹی کے ہوائی اڈوں کی نجکاری کی تھی۔اے اے آئی وزارت شہری ہوا بازی کے تحت ملک بھر میں 100 سے زیادہ ہوائی اڈوں پر کام کرتی ہے۔ممبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اے اے آئی کا 26 فیصد حصہ ہے۔ باقی 74 فیصد حصص اڈانی گروپ کے پاس ہے۔دہلی کے بین الاقوامی ہوائی اڈہ پر جی ایم آر گروپ کی 54،فیصد،اے اے آئی کی 26فیصداور 10 ۔10فیصد حصص ہیں۔ بنگلورو ایئرپورٹ پر کرناٹک کی حکومت کے اشتراک سے اے اے کی 26فیصد حصص ہے۔ اس وقت حیدر آباد بین الاقوامی ہوائی اڈ ہ پر اے اے اے کی 26فیصد حصص ہے۔ اس میں آندھرا پردیش حکومت کے حصص بھی شامل ہیں۔مالی سال-22 2021 کی بجٹ تقریر میںوزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے کہا تھا کہ نئے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل کے لئے موجودہ عوامی انفراسٹرکچر اثاثوں سے رقم جمع کرنا بہت ضروری ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ حکومت نے تیل اور گیس پائپ لائن جیسے سواسیٹ منی ٹائزنگ سے رقم جمع کا ہدف مقرر کیا ہے، اس سے ڈھائی لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں