ناندیڑ:7مئی (ورق تازہ نیوز) ایک نیا معاملہ سامنے آیا ہے کہ ہریانہ پولیس نے جو دھماکہ خیز مواد ضبط کیا ہے اسے ریاست تلنگانہ کے عادل آباد منتقل کیا جانا تھا۔ ناندیڑ پولیس نے آج خطرناک عادی مجرم رندا کے کھیت کادورہ کرکے مکمل تفتیش کی کیونکہ دھماکہ خیز مواد کا معاملہ رندا سے متعلق تھا۔ اس وقت کچھ نہیں ملا۔ لیکن رندا کے نام کی وجہ سے ناندیڑ اس وقت ہائی الرٹ پر ہے۔5 مئی کو کرنال ضلع(ہریانہ) کی پولیس نے ایک فور وہیلر سے دھماکہ خیز مواد ایک پستول اور 30 سے زیادہ زندہ گولہ بارود ضبط کیا۔ میڈیا نے اس واقعے کو بڑی اہمیت کے ساتھ ترجیح دی۔

چاروں گرفتار افراد نے کہا تھا کہ وہ دھماکہ خیز مواد کو ناندیڑ لے جانا چاہتے تھے اس خبر کے بعد ناندیڑ ضلع ہائی الرٹ پر آگیا۔ انہوں نے کہا کہ دھماکہ خیز مواد اسے ہرویندر سنگھ عرف رندا سندھوساکن ناندیڑ نے ڈرون کی مدد سے بھیجا تھا۔ واضح ہو کہ ناندیڑضلع میںرندانامی خطرناک مجرم کی کافی دہشت ہے کیونکہ اس نے گینگ تیار کرکے ناندیڑمیںقتل اور لوٹ مار کی کئی وارداتوں کوانجام دیاہے۔ بالخصوص تاجروں سے تاوان وصول کرنے کی متعد دوارداتیں رونما ہوچکی ہیں۔اسلئے ناندیڑضلع بھر میںرندا کی دہشت ہے۔اس دھماکہ خیزمواد ہریانہ میں ملنے اوراسے ناندیڑ بھیجے جانے کی خبر کے بعد ناندیڑضلع کوہائی الرٹ کردیا گیا ۔ دریںاثناءاب ایسی اطلاع ملی ہےکہ اس مواد کو تیلنگانہ کے عادل آباد منتقل کیاجاناتھا۔مگر پولس نے عادل آباد منتقل ہونے کی خبروں کومسترد کردیا ہے انکا کہنا ہے کہ رندا کی عادل آباد میں کوئی مجرمانہ سرگرمیوں کاثبوت نہیں ہے ۔

کیونکہ اسکاتعلق ناندیڑسے ہے۔رندا نے ایک انٹرویو میں کہاتھا کہ وہ ببرخالصہ کارکن بن گیا ہے۔ناندیڑ پولس نے دھماکہ خیزمواد ناندیڑ منتقل ہونے کی اطلاع کے بعد رندا کے ساتھیوں کی ناندیڑمیںتلاش شروع کردی اورچھاپے مارے بھی کی۔اس وقت ایل سی بی کے سربراہ دوارکاداس چکھلی کر کے علاوہ ڈاگ اسکواڈ بھی موجودتھا، ناندیڑ میں رندا کے کھیت پرچھاپہ مارا لیکن پولس کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ناندیڑ ضلع کے لوگوں کو اب ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ اگر دھماکہ خیز مواد عادل آباد میں بھی آجائے تو ناندیڑ زیادہ دور نہیں ہے۔ رندا کا تعلق ناندیڑ سے ہے۔ اس لیے ناندیڑوالوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی اور اپنے آس پاس کے لوگوں کی حفاظت کے بارے میں فکر مند رہے۔ کیونکہ پولیس دیوتا یا جادوگر نہیں ہے۔ جو بیٹھے بیٹھے سب کچھ جان لے گی۔ عوام کو بھی اپنی حفاظت کے لیے پولیس کے ساتھ تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔