اعظم شہاب

ایک شخص کو کسی نے مشورہ دیا کہ وہ ایک مخصوص طریقے سے اگر شیر کی تصویر بنائے تو وہ زندہ ہوکر اس کا غلام ہو جائے گا۔ اس نے تصویر بنائی اور شیر زندہ ہوکر اس کے سامنے دم ہلانے لگا۔ اس شخص کی بانچھیں کھل اٹھیں کہ اب ہرکوئی اس سے ڈرے گا اور اسے بہادر سمجھے گا۔ وہ شیر کے گلے میں پٹہ ڈال کر گھومتا پھرتا تھا کہ ایک دن شیرنے غصے میں آکر اپنے مالک کو ہی دبوچ لیا۔ گوکہ یہ کہانی فرضی ہے لیکن اس کے تناظر میں اگر ہری دوار کا دھرم سنسد دیکھا جائے تو یہ سمجھتے دیر نہیں لگے گی کہ برسوں پہلے ووٹوں کی کھیتی کے لئے جس منہ زور منافرت کو پال پوس کر بڑا کیا گیا تھا وہ آج خود اپنے مالکوں کو ہی دبوچ لینا چاہتا ہے۔ بہت ممکن تھا کہ یہ دھرم سنسد یوپی چناؤ کے لئے کچھ کھاد پانی فراہم کر دیتا اور بی جے پی کے ووٹ فیصد میں کچھ اضافے کا سبب بھی بن جاتا، لیکن اب اس کا بیک فائر شروع ہوگیا ہے۔ یہ بیک فائر یوپی کے ممکنہ انتخابی مفاد سے کہیں زیادہ نقصان دہ ہے جس کے لئے اس کا انعقاد ہوا تھا۔ اس کی گونج اب بین الاقوامی سطح پر بھی سنائی دینے لگی ہے اوراس معاملے میں پردھان سیوک کی خاموشی پر عالمی میڈیا میں سوال اٹھائے جانے لگے ہیں۔

 ایسا بھی نہیں ہے کہ دھرم سنسد میں جو باتیں کہی گئیں ہیں وہ پہلی بار کہی گئی ہیں۔ اس سے قبل اسی طرح کے نعرے دہلی کے جنتر منترپر بھی لگتے رہے ہیں اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی۔ مگر یہ پہلی بار ہوا ہے کہ اس کی گونج بین الاقوامی میڈیا میں اس شدت کے ساتھ سنائی دے رہی ہے کہ عرب ممالک سے لے کر یوروپ تک میں اس پر تنقید ہو رہی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے خود کو دنیا سے بالکل الگ تھلگ ہونے کا تہیہ کرلیا ہے؟ کیونکہ اس معاملے میں پردھان سیوک کی خاموشی اس کی حکومتی پشت پناہی کااعلان کر رہی ہے۔ دھرم سنسد میں جو باتیں کہی گئی ہیں اس کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ کسی ایک گروہ کی رائے ہے مگر کیا یہ گروہ حکومت کی نظروں سے اوجھل ہے کہ بہ مشکل درج ایف آئی آر میں بھی مجرمین کو نامعلوم قرار دیا جاتا ہے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ دھرم سنسد میں مسلمانوں کو ایسے وقت میں مٹانے اور مارنے کی باتیں کہی گئیں جب پردھان سیوک کی حکومت کو مرکز میں سات سال پورے ہوچکے ہیں۔ یعنی دھرم سنسد میں جن لوگوں نے ہندووں کو للکارا ہے انہیں پردھان سیوک کی اس حصولیابی پر ابھی بھی یقین نہیں ہے کہ انہوں نے ملک کی اقلیتوں کو اب حاشیے پر پہنچا دیا ہے۔

 مدھیہ پردیس کے دھار ضلع کے مانور میں جو کچھ ہوا ہے وہ ہری دوار جیسے دھرم سنسدوں کا ہی نتیجہ ہے۔ یہ اس حکومتی پشت پناہی کا زعم ہی ہے جس نے وی ایچ پی وبجرنگ دل جیسی تنظیموں کو شوریہ یاترا جیسی تقریبات کے انعقاد کا حوصلہ دیا ہے اور جس کا نتیجہ فساد کی شکل میں ظاہر ہوا۔ ظاہر ہے کہ اس کا راست فائدہ بی جے پی کو ہی حاصل ہوگا۔ لیکن یہ فائدہ حاصل کرتے ہوئے اس حقیت سے کیوں آنکھیں موند لی جا رہی ہیں کہ پوری دنیا آج ایک گاؤں میں تبدیل ہوچکی ہے۔ یہاں جو کچھ ہو رہا ہے اسے دنیا بہت غور سے دیکھ رہی ہے اور اس پر ردعمل بھی ظاہر کر رہی ہے۔ بی بی سی نے ہری دوار کے دھرم سنسد پر عالمی میڈیا کا جو کوریج پیش کیا ہے وہ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ اب اس طرح کے واقعات کا اثر بین الاقوامی سطح پر نہایت شدید ہو رہا ہے اور اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو بعید نہیں کہ دنیا ایک دن ہمیں الگ تھلگ کر دے۔ ہم زیادہ دنوں تک اسے اپنا اندورنی معاملہ قرار نہیں دے پائیں گے کیونکہ اب کوئی اندرونی معاملہ اندرونی نہیں رہ گیا ہے بلکہ یو این او کی ایک حالیہ قرارداد کے مطابق اب اگر کسی ملک میں اس طرح کے واقعات رونما ہوتے ہیں تو دوسرے ممالک کو اس میں دخل دینے کا اختیار حاصل ہو جاتا ہے۔

ایک جرمن پادری مارٹن تھلر کا قصہ بیان کیا جاتا ہے جسے نازیوں نے سزائے موت دیدی تھی۔ وہ کہتا ہے کہ جرمنی میں جب نازیوں نے کمیونسٹوں کو مارنا شروع کیا تو میں خاموش رہا کیونکہ میں کمیونسٹ نہیں تھا۔ پھر وہ یہودیوں کو چن چن کر مارنے لگے تو بھی میں خاموش ہی رہا کیونکہ میں یہودی نہیں تھا۔ اس کے بعد ٹریڈ یونینوں کو ختم کرنا شروع کیا گیا، اس پر بھی میں خاموش رہا کیونکہ ان سے میرا کوئی تعلق نہیں تھا۔ پھر انہوں نے ہم جنس پرستوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تو بھی میں خاموش رہا کیونکہ میں ہم جنس پرست نہیں تھا۔ پھر انہوں نے کیتھولک فرقے کے لوگوں کو مارنا شروع کیا تو بھی میں خاموش رہا کیونکہ میں پروٹسٹنٹ تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ہمارا رخ کیا لیکن اس وقت تک ہمارے لئے آواز اٹھانے والا کوئی نہیں بچا تھا۔ اس قصے کے تناظر میں اگر ہم ہری دوار میں ہونے والے دھرم سنسد کو دیکھیں تو آج جو لوگ اس زہرناکی پر خاموش ہیں، کل جب ان کے خلاف جنونیوں کو اسی طرح للکارا جائے گا تو پھر ان کے لئے آواز اٹھانے والا کوئی نہیں رہے گا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں