شاملی: مغربی اتر پردیش کے ضلع شاملی کے رہائشی عظیم منصوری کا خواب آخر کار شرمندہ تعبیر ہو ہی گیا، وہ اگلے سال ہاپوڑ کی رہائشی بشریٰ انصاری کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے جا رہے ہیں۔ عظیم منصوری کا قد تقریباً دو فٹ ہے اور ان کی ہونے والی شریکِ حیات کا قد بھی تقریباً اتنا ہی ہے۔

دلہن کی تلاش کر رہے عظیم کے والدین کو معلوم چلا کہ عظیم کے قد کے برابر کی ایک لڑکی ہاپوڑ کی مجیدپورہ میں رہتی ہے۔ رواں ہفتہ وہ مجید پورہ گئے اور 21 سالہ خاتون بشریٰ سے ملاقات کی۔ بات پکی ہونے پر انہوں نے بشریٰ کو انگوٹھی پہنا کر شادی طے کر دی۔ بشریٰ اس وقت گریجوایشن کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور شادی اگلے سال ہونا قرار پائی ہے۔

بشریٰ نے مقامی صحافیوں سے کہا، ’’عظیم ہماری شادی کے بعد مجھے ٹور پر لے جائیں گے۔ وہ اور ان کے اہل خانہ کافی اچھے اور مجھے سے پیار کرتے ہیں۔ میرے والدین میری بہن کے لئے بھی ایک دولہے کی تلاش میں ہیں، جب ہم اس کے لئے بھی ایک لڑکا ڈھونڈ لیں گے تو دونوں بہنوں کی شادی ایک ساتھ ہوگی۔‘‘

دریں اثنا، عظیم اپنے لئے لڑکی مل جانے پر مسرور ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’میں بہت خوش ہوں۔ میرا خواب پورا ہو گیا۔ شادی کے بعد میں شکرانہ کے طور پر اپنی دلہن کو عمراہ کے لئے سعودی عرب لے کر جاؤں گا۔‘‘ عظیم کے لئے دلہن تلاش کرنا مشکل کام تھا۔ انہوں نے اس کے لئے مقامی پولیس اسٹیشن سے بھی رابطہ کیا تھا۔ عظیم نے خط لکھ کر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے اور اس سے پہلے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو سے بھی درخواست کی تھی کہ ان کی شادی کرائی جائے۔

عظیم نے پانچویں کلاس تک تعلیم حاصل کی ہے اور وہ چھ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں۔ عظیم کے بقول ان کو اسکول میں کافی بے عزتی برداشت کرنا پڑتی تھی، اس لئے وہ اپنی تعلیم کو جاری نہ رکھ سکے۔ وہ فی الحال کیرانہ میں بساط خانہ (کاسمیٹک شاپ) چلاتے ہیں۔ حال ہی میں ان کی کہانی میڈیا آنے کے بعد انہیں شادی کی کئی تجویزات موصول ہوئی تھیں اور اب بشریٰ سے ان کی نسبت طے ہو گئی۔