دونوں پیروں سے معذور شخص کی چوبیس سالوں بعد جیل سے رہائی

579

ممبئی 13/ نومبر.گذشتہ چوبیس سالوں سے جیل میں مقید دونوں پیروں سے معذور ممبئی کے ایک مسلم شخص کی گذشتہ دنوں ناسک سینٹرل جیل سے رہائی عمل میں آئی، سپریم کورٹ سے ضمانت منظور ہونے کے بعدبھی ا شفاق سعید شیخ کی رہائی عمل میں نہیں آرہی تھی کیونکہ ان کی ضمانت لینے کو کوئی شخص تیار نہیں تھا۔

اشفاق سعید شیخ نے آج دفتر جمعیۃ علماء مہاراشٹر میں جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزاراعظمی سے ملاقات کی اور اس کی رہائی کے لیئے ان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے لیئے شکریہ ادا کیا۔

اشفاق سعید شیخ نے کہا کہ جیل سے رہائی کی امید وہ کھوچکے تھے کیونکہ ان کی پیروی کرنے والا کوئی بھی نہیں تھا لیکن جمعیۃ علماء نے ان کی درخواست پر ناصرف بامبے ہائی کورٹ کے عمر قید کی سزا دیئے جانے والے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل داخل کی بلکہ اس کی ضمانت پر رہائی کی کوشش بھی کی اور آج اس کی جیل سے رہائی خالص جمعیۃ علماء کی مرہون منت ہے، وہ جمعیۃ علماء کا جتنا شکریہ ادا کرے کم ہے۔

اشفاق سعید شیخ نے گلزارا عظمی سے مزید کہا کہ جیل میں قید ان کے ساتھیوں کی رہائی کی امیدیں آپ پر ٹکی ہوئی ہیں لہذاان کی رہائی کے لیئے بھی کوشش کی جائے۔اس موقع پر گلزار اعظمی نے کہا کہ دیگر ملزمین آفتاب سعید شیخ، اصغر قادر شیخ،محمد یعقوب عبدالمجید،محمد صغیر محمد بشیراور محمد اقبال محمد حنیف کی رہائی کے لیئے کوشش کی جارہی ہے، ملزمین کی ضمانت پر سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ 23نومبر کو سماعت کریگی، جمعیۃ علماء کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن بحث کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ ملزمین کو جیل میں بیس بیس سال ہوچکے ہیں اور سپریم کورٹ میں اپیل پر کب سماعت ہوگی کسی کو پتہ نہیں لہذا ان کی خود کوشش ہیکہ ملزمین کو جلداز جلد ضمانت پررہائی ملے اور اس کے لیئے ہم نے سینئر وکیل کی خدمت حاصل کی ہوئی ہے۔گذشتہ دو سماعتوں سے سرکاری وکیل کے جانب سے جواب داخل نہیں کیئے جانے کی وجہ سے سماعت ٹل گئی تھی لیکن اب امید ہیکہ اگلی سماعت پر عدالت سماعت کریگی۔

واضح رہے کہ اشفاق شیخ پر الزام ہیکہ وہ 1998ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکے کرنے والی گینگ کا اہم رکن ہے اور بم دھماکے میں اس کی دونوں ٹانگیں ضائع ہوگئی تھی۔ ملزم اشفاق سعید شیخ کو نچلی عدالت سے عمر قید کی سزا ملی تھی جسے بامبے ہائی کورٹ نے برقراررکھا تھا جبکہ سپریم کورٹ میں اس کی اپیل زیر سماعت ہے۔