اسلام میں نکاح کو جتنا آسان اور سادہ بنایا گیا ہے، موجودہ دور میں یہ اتنا ہی مشکل اور دھوم دھام پر مبنی ہو گیا ہے۔ ایسی ہی ایک بارات 21 مارچ کو دہلی کے جگت پوری سے کیرانہ نگر واقع محلہ کھیل کلاں پہنچی، جس میں ڈھول باجے بھی بجے، اور باراتیوں کے ذریعہ ڈانس اور ہنگامہ بھی خوب کیا گیا۔

دولہے نے بھی باراتیوں کے ساتھ مل کر خوب رقص کیا اور بتایا جا رہا ہے کہ گاڑی کی چھت پر چڑھ کر دولہے و باراتی جھوم جھوم کر ڈانس کر رہے تھے۔ لیکن دولہے، باراتی اور لڑکی والوں کی پریشانی اس وقت بڑھ گئی جب امام صاحب نے نکاح پڑھانے سے انکار کر دیا۔ مولوی صاحب نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ ڈی جے بجائے جانے اور دولہے کے ڈانس سے وہ رنجیدہ ہیں اور نکاح نہیں پڑھا سکتے۔

دراصل گزشتہ اتوار کو کھیل کلاں محلہ میں ایک گھر میں دو بارات آئی۔ جیسے ہی بارات لڑکی والوں کے گھر پر پہنچی تو بارات کے ساتھ لائے گئے ڈی جے کو بجایا گیا۔ ڈی جے کے گانے پر دونوں ہی دولہے ڈانس کرنے لگے۔ کافی دیر تک یہ گانا بجانا چلتا رہا، پھر باراتیوں نے کھانا کھایا۔

اس کے بعد جب لڑکی کے گھر والے محلہ کی عیدگاہ والی مسجد کے پیش امام قاری سفیان کے پاس پہنچے اور ان سے نکاح پڑھانے کی گزارش کی، تو انھوں نے صاف لفظوں میں انکار کر دیا۔

ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی لائیو‘ پر اس شادی کی ایک ویڈیو اَپ لوڈ کی گئی ہے جس میں دولہے اور باراتی ڈی جے کے ساتھ ناچتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ویڈیو میں قاری سفیان کا بیان بھی دکھایا گیا ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ’’باراتیوں نے ظہر کے وقت سے ہی ڈی جے بجانا شروع کر دیا تھا اور منع کرنے پر بھی وہ نہیں مانے۔

جب عصر کی اذان ہوئی تو اس وقت ڈی جے بند کیا گیا، لیکن پھر بعد میں گانا بجانا شروع ہو گیا۔ سمجھانے کے بعد بھی وہ نہیں مانے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’جب مجھے نکاح پڑھانے کے لیے بلایا گیا تو میں نے صاف منع کر دیا کہ اس طرح کے ماحول میں نکاح نہیں پڑھا سکتا۔‘‘