دور حاضر میں پیدل سفر حج کا شرعی حکم

6,779

سوال: ایک شخص کیرالہ سے پیدل مکّہ معظّمہ کیجانب آئیندہ سال حج کے لئے عازم سفر ہے انکا یہ کل پیدل سفر 8000 کیلو میٹر سے زائد کا ہے جس کے لئے 280 دن کے اہداف مقرر کئے گئے ہیں، اس درمیان نوجوان عازم حج شہاب پیدل چل کر ہندوستان سمیت ، پاکستان، ایران ، عراق ، کویت ،ہوتے ہوئے سعودی عربیہ کا مقدس شہر مکہ معظمہ پہونچیں گے۔

اب سوال یہ ہے اس ترقی یافتہ دور میں جہاں ہوائی سفر بآسانی دستیاب ہے ایسے میں ایک شخص پْر خطر راستوں کو پیدل عبور کرکے حج کے لئے پہونچ رہا ہے جہاں خطرات و خدشات کے امکانات کافی ہیں ایسے میں انکا یہ پیدل سفر حج بیت اللہ کے لئے کہاں تک جائز و درست ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے یہ صحت مند اور نوجوان ہے انکے لئے اسطرح کا سفر کوئی مضائقہ نہیں۔ قرآن و سنت کی روشنی مسئلے کا حل بتائیں اور اسطرح کے سفر کی شرعی حثیت کیا ہے دلائل کی روشنی جواب مرحمت فرمائیں عین نوازش ہوگی (المستفتی :- عارف حسین طیبی
مہاڈ رائیگڈھ کوکن مہاراشٹر)

بسم اللہ الرحمن الرحیم . الجواب و باللہ التوفیق: قرآن مجید سے یہ بات معلوم ہوتی ہے جو شخص مکہ مکرمہ پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو اس پر حج فرض ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ حج فرض ادا کرے(١)، لیکن قرآن مجید میں موجود لفظ استطاعت سے کیا مراد ہے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارکہ سے اس کی وضاحت فرمائی کہ استطاعت سے مراد زاد و راحلہ یعنی سفر میں خورد و نوش کے سامان اور پہنچنے کے لئے سواری ہو تو یہ استطاعت میں داخل ہے(٢)، گویا سواری کی قدرت نہ ہو تو حج فرض ہی نہیں ہوتا یہی بات راجح اور مفتی بہ ہے؛ چنانچہ مشہور فقہی کتاب الفتاوی الہندیۃ میں اور علامہ کاسانی کی البدائع الصنائع میں اس کی وضاحت صاف لفظوں میں موجود ہے

(٣)، البتہ قرآن مجید کے بیان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حج کے لیے لوگ پیدل بھی آئیں گے اور سواری پر بھی آئیں گے (یَأۡتُوكَ رِجَالࣰا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرࣲ یَأۡتِینَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِیقࣲ . الحج ٢٧) اس لیے فی نفسہ پیدل حج بھی جواز کے دائرے میں آتا ہے اور ساتھ ہی استطاعت والی حدیث شریفہ اور پیدل سفر والی آیت مبارکہ میں بظاہر تعارض نظر آتا ہے؛ لیکن فقہاء کرام جو کہ شریعت اسلامی کے سب سے زیادہ رمز شناس ہیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح اور آیت مبارکہ میں یہ تطبیق دی ہے کہ پیدل حج کی بات ان لوگوں کے لئے ہے جو مکہ یا اطراف مکہ کے رہنے والے ہیں یا اتنی دوری پر ہیں کہ بلا مشقت وہ پیدل چل کر آسکتے ہیں اور سواری پر قدرت کی شرط ان لوگوں کے لئے ہے جو مکہ سے دور کے رہنے والے ہیں جنہیں آفاقی کہا جاتا ہے، علامہ کاسانی کی تحریر اس سلسلے میں سب سے زیادہ چشم کشا ہے(٤) وہ رقم طراز ہیں:

(ﻭﻟﻨﺎ) ﺃﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ – ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ – ﻓﺴﺮ اﻻﺳﺘﻄﺎﻋﺔ: ﺑﺎﻟﺰاﺩ، ﻭاﻟﺮاﺣﻠﺔ ﺟﻤﻴﻌﺎ ﻓﻼ ﺗﺜﺒﺖ اﻻﺳﺘﻄﺎﻋﺔ ﺑﺄﺣﺪﻫﻤﺎ، ﻭﺑﻪ ﺗﺒﻴﻦ ﺃﻥ اﻟﻘﺪﺭﺓ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺸﻲ ﻻ ﺗﻜﻔﻲ ﻻﺳﺘﻄﺎﻋﺔ اﻟﺤﺞ ﺛﻢ ﺷﺮﻁ اﻟﺮاﺣﻠﺔ ﺇﻧﻤﺎ ﻳﺮاﻋﻰ ﻟﻮﺟﻮﺏ اﻟﺤﺞ ﻓﻲ ﺣﻖ ﻣﻦ ﻧﺄﻯ ﻋﻦ ﻣﻜﺔ ﻓﺄﻣﺎ ﺃﻫﻞ ﻣﻜﺔ، ﻭﻣﻦ ﺣﻮﻟﻬﻢ ﻓﺈﻥ اﻟﺤﺞ ﻳﺠﺐ ﻋﻠﻰ اﻟﻘﻮﻱ ﻣﻨﻬﻢ اﻟﻘﺎﺩﺭ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺸﻲ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﺭاﺣﻠﺔ؛ ﻷﻧﻪ ﻻ ﺣﺮﺝ ﻳﻠﺤﻘﻪ ﻓﻲ اﻟﻤﺸﻲ ﺇﻟﻰ اﻟﺤﺞ ﻛﻤﺎ ﻻ ﻳﻠﺤﻘﻪ اﻟﺤﺮﺝ ﻓﻲ اﻟﻤﺸﻲ ﺇﻟﻰ اﻟﺠﻤﻌﺔ. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع 122/2)

مذکورہ وضاحت سے یہ بات بالکل صاف ہوگیی کہ جو شخص سواری پر قدرت نہیں رکھتا اس پر حج فرض ہی نہیں ہوتا؛ اس لیے پیدل سفر حج جانے والا شخص اگر سواری سے حج کے اخراجات نہیں رکھتا ہے تو اولا اس پر حج فرض ہی نہیں ہے، اور جب حج فرض نہیں ہوا تو اس کا یہ حج نفلی حج ہوگا اور نفلی حج کے لیے اس قدر پرمشقت سفر گوارا کرنا تکلیف مالا یطاق اور مزاج شریعت کے خلاف ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کی مشقت اور تکلف کو کبھی گوارا نہیں فرمایا اور نہ ہی اس کی حوصلہ افزائی فرمائی؛ بلکہ متعدد احادیث سے اس قسم کے جذباتی و ناعاقبت اندیشی اور خلاف سنت تقوی و دینداری کی حوصلہ شکنی فرمائی ہے۔

چنانچہ صحیح بخاری میں روایت موجود ہے کہ ایک صاحبہ نے پیدل سفر حج کی نذر مان لی تھیں اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے سختی سے منع فرمایا(٥)، حالانکہ نذر واجب ہوجاتا ہے اس سے آپ نے منع فرمادیا تو نفلی حج بدرجہ ممانعت میں داخل ہوگا، اسی طرح ایک صاحب نے حضور سی خصی ہوجانے کی اجازت چاہی تاکہ گناہ کی طرف میلان نہ ہو آپ نے اس تکلف سے بھی منع فرمایا اور فرمایا کہ روزے رکھو(٦)، ایک صاحب نے پورے دن روزے رکھنے اور پوری رات نماز پڑھنے کا تہیہ کرلیا آپ کو معلوم ہوا تو آپ نے اس تکلف اور تکلیف مالا یطاق سے روکا(٧) غرض متعدد واقعات موجود ہیں جو اس سلسلے میں منشأ نبوی و مزاج نبوی کو واضح کرتے ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں موجود ائمہ علم و دین نے کبھی اس قسم کے سفر حج کو پسند نہیں کیا اور نہ ہی اس انداز میں عازم سفر ہوا؛ اس لیے اس قسم کا اقدام قابلِ تحسین نہیں ہوسکتا ہے۔

اس سلسلے میں دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ موجودہ دور میں جو ملکی حد بندیاں اور سیاسی پابندیاں ہیں انہیں عبور کرنا آسان نہیں ہے، اس کے لیے ناکہ دوڑ دھوپ کی بے انتہا مشقت ہوتی ہے بلکہ اس دور میں ایک خطیر رقم کے بغیر ایسی کاغذی کاروائی کرالینا اور تمام سرحدوں کی اجازت مل جانا غالبا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا، ظاہر ہے جتنی رقم اس کارروائی میں صرف ہوئی ہوگی اور اتنے دنوں سفر میں رہنے پر جو صرفہ آیا ہے اتنی رقم کے ذریعے جہاز سے بآسانی سفر ہوسکتاہے، اب اتنی رقم اور محنت دوسری طرف استعمال کرنے کے بجائے اگر ہوائی جہاز کے سفر میں کرلیا جاتا تو سنت سے ہم آہنگی بھی ہوتی اور سفر کی کلفت بھی جاتی رہتی، اس لیے کہ فقہاء نے بصراحت تمام لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص سواری کے ذریعے اور پیدل دونوں طور پر سفر حج پر قادر ہو تو سواری کے ذریعے سفر افضل ہوگا، امام نووی نے لکھا ہے اس میں سنت کی متابعت بھی ہے اور أرکان کی ادائیگی میں سہولت کا باعثِ بھی(٨) مشہور مفسر علامہ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ اکثر أہل علم کے نزدیک آفاقی حضرات کا سواری پر سفر کرکے آنا افضل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باوجود کمال قوت اور حرص عبادت و تقوی و عبودیت کے سواری پر سفر کیا(٩)۔ اس لیے پیدل سفر کے بجائے بطورِ خاص اس دور میں ہوایی جہاز کا سفر أفضل اور موافق سنت ہوگا۔

تیسری ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ حج کی فرضیت اور سفر حج پر جانے کی شرائط میں سے ایک اہم شرط راستے کا پر امن ہونا اور آدمی کی جان و مال اور عزت و آبرو کا محفوظ ہونا بھی ہے(١٠)، اب ظاہر ہے اتنے لمبے سفر میں وہ بھی تنہا سفر کس قدر حد معقولیت سے گزری ہوئی بات ہے، اتنے لمبے سفر میں ہرج و مرض کا پیش آنا، حشرات الارض یا جانور کا حملہ کردینا یا مسلم دشمن عناصر کا غلط فائدہ اٹھا لینا پھر تنہا چلنا اور سونا، نیز مختلف راستوں اور لوگوں سے ملنا اور ان کی زبان سے ناآشنائی کی مشقت ہونا کس قدر صبر آزما اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے، ظاہر ہے ایک نفلی کام کے لئے اس طرح کی مصیبتوں کو گوارا کرنا ہتھیلی پر جان رکھ کر چلنا ہے۔ اس لیے حکومت کو بھی اس طرح انفرادی سفر کا پرمیشن دینے سے اجتناب کرنا چاہیے اور لوگوں کو بھی اس قسم کے لوگوں کی حوصلہ افزائی سے گریز کرنا چاہیے۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس قسم کی چیزیں اہل علم سے مسائل نہ پوچھنے اور اپنی من مانی کرنے سے وجود میں آتی ہیں، ورنہ کسی صاحب علم و فضل کے مشورے سے اگر اس کی اجازت طلب کی جاتی تو شاید کوئی نا ہی اس کا مشورہ دیتا اؤر نا ہی اجازت۔

خیر اگر وہ صاحب سفر حج کے لیے نکل چکے ہیں اور تمام کاغذی کاروائی مکمل ہے تو دعاء ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں اور سالما غانما واپس آئیں کیوں کہ فقہ کا قاعدہ ہے البقاء اسھل من الابتداء(١١) البتہ جن لوگوں تک یہ تحریر پہنچتی ہے (اور خدا کرے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ جائے اور لوگ پہنچانے کی کوشش کریں) ان کے لیے یہی حکم ہے کہ وہ اس قسم کے ارادوں سے باز رہیں اور خدا توفیق دے تو ایک نہیں تا عمر حاضری ہو مگر سنت نبوی کے مطابق نا کہ من مانی۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔

*📚والدليل على ما قلنا 📚*

(١) ﻭﻟﻠﻪ ﻋﻠﻰ اﻟﻨﺎﺱ ﺣﺞ اﻟﺒﻴﺖ من استطاع إليه سبيلا [ ﺁﻝ ﻋﻤﺮاﻥ: 97]

(٢) عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يُوجِبُ الْحَجَّ ؟ قَالَ : ” الزَّادُ، وَالرَّاحِلَةُ ". هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ. وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَلَكَ زَادًا وَرَاحِلَةً وَجَبَ عَلَيْهِ الْحَجُّ. (سنن الترمذي رقم الحديث 813)

(٣) (ﻭﻣﻨﻬﺎ اﻟﻘﺪﺭﺓ ﻋﻠﻰ اﻟﺰاﺩ ﻭاﻟﺮاﺣﻠﺔ) ﺑﻄﺮﻳﻖ اﻟﻤﻠﻚ ﺃﻭ اﻹﺟﺎﺭﺓ ۔۔۔۔ ﻭﺗﻔﺴﻴﺮ ﻣﻠﻚ اﻟﺰاﺩ ﻭاﻟﺮاﺣﻠﺔ ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ ﻟﻪ ﻣﺎﻝ ﻓﺎﺿﻞ ﻋﻦ ﺣﺎﺟﺘﻪ، ﻭﻫﻮ ﻣﺎ ﺳﻮﻯ ﻣﺴﻜﻨﻪ ﻭﻟﺒﺴﻪ ﻭﺧﺪﻣﻪ، ﻭﺃﺛﺎﺙ ﺑﻴﺘﻪ ﻗﺪﺭ ﻣﺎ ﻳﺒﻠﻐﻪ ﺇﻟﻰ ﻣﻜﺔ ﺫاﻫﺒﺎ ﻭﺟﺎﺋﻴﺎ ﺭاﻛﺒﺎ ﻻ ﻣﺎﺷﻴﺎ (الفتاوى الهندية 217/1 كتاب المناسك دار الكتب العلميه بيروت)

ﻭﻣﻨﻬﺎ ﻣﻠﻚ اﻟﺰاﺩ، ﻭاﻟﺮاﺣﻠﺔ ﻓﻲ ﺣﻖ اﻟﻨﺎﺋﻲ ﻋﻦ ﻣﻜﺔ. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع 122/2 كتاب الحج دار الكتب العلميه بيروت)

(٤) (ﻭﻟﻨﺎ) ﺃﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ – ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ – ﻓﺴﺮ اﻻﺳﺘﻄﺎﻋﺔ: ﺑﺎﻟﺰاﺩ، ﻭاﻟﺮاﺣﻠﺔ ﺟﻤﻴﻌﺎ ﻓﻼ ﺗﺜﺒﺖ اﻻﺳﺘﻄﺎﻋﺔ ﺑﺄﺣﺪﻫﻤﺎ، ﻭﺑﻪ ﺗﺒﻴﻦ ﺃﻥ اﻟﻘﺪﺭﺓ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺸﻲ ﻻ ﺗﻜﻔﻲ ﻻﺳﺘﻄﺎﻋﺔ اﻟﺤﺞ ﺛﻢ ﺷﺮﻁ اﻟﺮاﺣﻠﺔ ﺇﻧﻤﺎ ﻳﺮاﻋﻰ ﻟﻮﺟﻮﺏ اﻟﺤﺞ ﻓﻲ ﺣﻖ ﻣﻦ ﻧﺄﻯ ﻋﻦ ﻣﻜﺔ ﻓﺄﻣﺎ ﺃﻫﻞ ﻣﻜﺔ، ﻭﻣﻦ ﺣﻮﻟﻬﻢ ﻓﺈﻥ اﻟﺤﺞ ﻳﺠﺐ ﻋﻠﻰ اﻟﻘﻮﻱ ﻣﻨﻬﻢ اﻟﻘﺎﺩﺭ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺸﻲ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﺭاﺣﻠﺔ؛ ﻷﻧﻪ ﻻ ﺣﺮﺝ ﻳﻠﺤﻘﻪ ﻓﻲ اﻟﻤﺸﻲ ﺇﻟﻰ اﻟﺤﺞ ﻛﻤﺎ ﻻ ﻳﻠﺤﻘﻪ اﻟﺤﺮﺝ ﻓﻲ اﻟﻤﺸﻲ ﺇﻟﻰ اﻟﺠﻤﻌﺔ. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع 122/2)

(٥) عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ نَذَرَتِ امْرَأَةٌ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ، فَسُئِلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ : ” إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ مَشْيِهَا، مُرُوهَا فَلْتَرْكَبْ ". (سنن الترمذي رقم الحديث 1536 أَبْوَابُ النُّذُورِ وَالْأَيْمَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. | بَابٌ : مَا جَاءَ فِيمَنْ يَحْلِفُ بِالشَّيْءِ وَلَا يَسْتَطِيعُ)

(٦)عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَ شَابٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : أَتَأْذَنُ لِي فِي الْخِصَاءِ، فَقَالَ : ” صُمْ، وَسَلِ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ ". (مسند أحمد 15036 مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)

(٧) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” يَا عَبْدَ اللَّهِ، أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ ؟ ". قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : ” فَلَا تَفْعَلْ، صُمْ وَأَفْطِرْ، وَقُمْ وَنَمْ ؛ فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ". (صحيح البخاري رقم الحديث 5199 كِتَابُ النِّكَاحِ | بَابٌ : لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ)

(٨)قال المصنف رحمه الله تعالى ( ومن قدر على الحج راكبا وماشيا ، فالأفضل أن يحج راكبا { ; لأن النبي صلى الله عليه وسلم حج راكبا } ; ولأن الركوب أعون على المناسك ) (المجموع شرح المهذب للنووي 74/7)

(٩) وَقَوْلُهُ: ﴿يَأْتُوكَ رِجَالا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ﴾ قَدْ يَستدلّ بِهَذِهِ الْآيَةِ مَنْ ذَهَبَ مِنَ الْعُلَمَاءِ إِلَى أَنَّ الْحَجَّ مَاشِيًا، لِمَنْ قَدَرَ عَلَيْهِ، أفضلُ مِنَ الْحَجِّ رَاكِبًا؛ لِأَنَّهُ قَدَّمَهُمْ فِي الذِّكْرِ، فَدَلَّ عَلَى الِاهْتِمَامِ بِهِمْ وَقُوَّةِ هِمَمِهِمْ وَشِدَّةِ عَزْمِهِمْ، وَالَّذِي عَلَيْهِ الْأَكْثَرُونَ أَنَّ الْحَجَّ رَاكِبًا أَفْضَلُ؛ اقْتِدَاءً بِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَإِنَّهُ حَجَّ رَاكِبًا مَعَ كَمَالِ قُوَّتِهِ، عَلَيْهِ السَّلَامُ. (تفسیر ابن کثیر الحج ٢٧)

(١٠) (ﻭﻣﻨﻬﺎ ﺃﻣﻦ اﻟﻄﺮﻳﻖ) ﻗﺎﻝ ﺃﺑﻮ اﻟﻠﻴﺚ ﺇﻥ ﻛﺎﻥ اﻟﻐﺎﻟﺐ ﻓﻲ اﻟﻄﺮﻳﻖ اﻟﺴﻼﻣﺔ ﻳﺠﺐ، ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﺧﻼﻑ ﺫﻟﻚ ﻻ ﻳﺠﺐ ﻭﻋﻠﻴﻪ اﻻﻋﺘﻤﺎﺩ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺘﺒﻴﻴﻦ. (الفتاوى الهندية 218/1 كتاب المناسك دار الكتب العلميه بيروت)

(١١) مجلة الأحكام العدلية

كتبه العبد محمد زبير الندوي
دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا
مورخہ 24/12/1443
رابطہ 9029189288

دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے