دوحہ :قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغانستان کی کشیدہ صورتِ حال پر افغان حکومتی وفد اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا۔افغان میڈیا کے مطابق طالبان وفد کی سربراہی ملا عبدالغنی برادر کر رہے ہیں، جبکہ افغان سیاسی وفد کی سربراہی عبداللّٰہ عبداللّٰہ کر رہے ہیں۔افغان سیاسی وفد میں عبداللّٰہ عبداللّٰہ کے علاوہ محمد کریم خلیلی، عطاء محمد نور، معصوم ستانک زئی، سلام رحیمی، فاطمہ گیلانی، سعادت منصور نادری شامل ہیں۔افغان میڈیا کے مطابق مذاکرات کے لیے دوحہ جانے والے 10 رکنی افغان سیاسی وفد میں سابق افغان صدر حامد کرزئی شامل نہیں ہیں۔سیاسی وفد کی کابل سے دوحہ روانگی سے قبل سابق افغان صدر حامد کرزئی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغان سیاسی وفد مکمل طور پر بااختیار ہے جو طالبان سے مذاکرات کرے گا۔ افغان حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فریقین میں مذاکرات کو مزید موثر و تیز بنانے پر بات چیت ہو گی۔افغان حکومت کے ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان میں سب قیام امن چاہتے ہیں، لہذا مذاکرات کے نتیجہ خیز ہو نے کی توقع ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں