آج کے جدید زمانے میں بھیک مانگنا ایک پیشہ بن چکا ہے اور اس پیشے کو بڑی تعداد ایسے لوگ نے اختیار کر رکھا ہے جو مدد کے نام پر ملنے والی بھیک کسی طور پر بھی مستحق نہیں- آپ کو کتنا عجیب لگے گا جب آپ کو یہ پتہ چلے گا کہ فلاں جگہ کھڑا بھکاری حقیقت میں ایک لکھ پتی انسان ہے یا ایسا انسان ہے جس کے بینک اکاؤنٹ میں کروڑوں روپے موجود ہیں- ایک اندازے کے مطابق اس دنیا بھر کے پیشہ ور بھکاری دنیا کے 40 فیصد پڑھے لکھے افراد سے زیادہ کما رہے ہیں- آج ہم آپ کو دنیا کے چند ایسے امیر ترین بھکاریوں کے بارے میں بتائیں گے جن کے اثاثوں کی مالیت لاکھوں یا کروڑوں میں ہے-

ٹیڈ ولیمز
یہ ایک ایسا غریب امریکی شہری ہے جس کے پاس چند سالوں پہلے تک رہنے کے لیے گھر تو کیا پہننے کے لیے کپڑے بھی نہیں تھے- یہ شخص پھٹے ہوئے کپڑے پہن کر بھیک مانگتا تھا- درحقیقت یہ شخص گا گا کر بھیک مانگتا تھا- چونکہ اس کی آواز انتہائی سریلی تھی تو لوگ اس کی جانب متوجہ بھی زیادہ ہوتے تھے اور اسی وجہ سے اسے بھیک بھی زیادہ ملتی تھی- ایک روز اس پر ایک رپورٹر کی نظر پڑ گئی جس نے اس کی ویڈیو تخلیق کر کے یوٹیوب پر شئیر کردی- جس کے بعد قسمت کی دیوی اس پر مہربان ہوئی اور یہ بھکاری دیکھتے ہی دیکھتے شہرت پا گیا اور اس کے بعد تو اسے ایک سنگر کے طور پر متعارف کروا دیا گیا- آج اس کے پاس ایسے بینک اکاؤنٹ موجود ہیں جہاں کروڑوں روپے موجود ہیں-

رونگ فنگ
ایک وقت ایسا تھا کہ یہ شخص بھی انتہائی غریب تھا٬ یہاں تک کہ اس کے دن و رات سڑکوں پر ہی گزرتے تھے- یہ بھیک مانگ کر بمشکل اپنا گزر بسر کرتا تھا- ایک روز یہ بھکاری نوڈلز کی دکان پر بھیک مانگنے پہنچ گیا- دکان کی مالک ایک خاتون تھی جس نے اسے بھیک دینے کے بجائے اضافی رقم دے ڈالی جس کا مقصد کوئی چھوٹا کاروبار شروع کرنا تھا- اس بھکاری نے اس رقم کو ایک چھوٹے سے کاروبار میں لگا دیا- دیکھتے ہی دیکھتے یہ کاروبار چمک اٹھا اور بھکاری کی چاندی ہونے لگی- یہاں تک کہ رونگ ایک کامیاب بزنس مین بن گیا- ایک وقت ایسا بھی آیا کہ رونگ واپس اسی نوڈلز کی دکان پر پہنچ گیا اور مدد کرنے والی خاتون کو ڈیڑھ لاکھ ڈالر سے زائد کی رقم بطور نذرانہ پیش کی- آج رونگ لاکھوں ڈالرز کا مالک بن چکا ہے-

سیمن رائٹ
برطانوی شہر لندن کی سڑکوں پر بھیک مانگنے والا یہ بھکاری کروڑوں روپے کا مالک ہے- اور اسے ورلڈ میڈیا کی توجہ بھی حاصل ہے- اس پر ایک سرکاری حکم نامے کے تحت پابندی بھی عائد کی جاچکی ہے- لیکن اس کے باوجود یہ ایک پرتعیش زندگی بسر کر رہا ہے- ایک اندازے کے مطابق یہ سالانہ 50 ہزار یورو بھیک مانگ کر کما لیتا ہے- حیران کن طور پر یہ جس فلیٹ میں رہائش پذیر ہے اس کی مالیت بھی 3 لاکھ یورو ہے- یہ رقم پاکستانی کرنسی میں چار کروڑ روپے سے بھی زائد بنتی ہے-

ایشا
سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی یہ ایک ایسی بھکارن تھی جو کروڑوں روپے کی مالک تھی- بھیک مانگنے کے دوران بھی اس کی عمر 100 سال تک پہنچ چکی تھی- تاہم اب اس کی موت واقع ہوچکی ہے- موت کے بعد جب اس کی جائیداد کا انکشاف ہوا تو پتہ چلا کہ اس نے وراثت میں ایک ملین ڈالر کی خطیر رقم چھوڑی ہے- اور اس کے علاوہ یہ 4 بلند و بالا عمارات٬ قیمتی زیورات اور سونے کے سکوں کی بھی مالک ہے- اس سب کی مالیت کروڑوں روپے بنتی ہے-

بھارت جین
بھارت جین ایک ایسا ہندوستانی بھکاری ہے جو کہ پاٹیل نگر میں ایک پرتعیش فلیٹ کا مالک ہے- اس اپارٹمنٹ کی مالیت 80 لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے- جین کے پاس ایک دکان بھی ہے جس کا ماہانہ کرایہ 10 ہزار روپے ہے- جین ماہانہ 75 ہزار بھارتی روپے صرف بھیک مانگ کر حاصل کرتا ہے-

 


اپنی رائے یہاں لکھیں