Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

دنیا کو اپنے قابو میں کرنے والے یہودیوں کے پانچ امیر ترین گھرانے

IMG_20190630_195052.JPG

دنیا کے تمام رقبے کو اگر انسانوں کی تعداد کے حساب سے اگر تقسیم کیا جائے تو ہر فرد واحد کے حصے میں تقریبا چار ایکڑ کا رقبہ آتا ہے- مگر ہو سب یہ جانتے ہیں کہ ایسا حقیقت میں نہیں ہوتا ہے اور پوری دنیا کی دولت کسی نہ کسی طرح بڑے بڑے یہودی گھرانوں کے قبضے میں ہے جنہوں نے اس دولت کو جمع کر کے پوری دنیا کے سارے نظام کو اپنے قبضے میں لیا ہوا ہے اور اس کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہی ہے آج ہم آپ کو ایسے ہی کچھ گھرانوں کے بارے میں بتائيں گے-
1: رتھ شیلڈ گھرانہ
یہ گھرانہ اس وقت دنیا کا سب سے طاقتور گھرانہ تصور کیا جاتا ہے جس کے ریزرو کا شمار کرنا ممکن نہیں ہے مگر ان کے کاروبار 500 بلین ڈالر اور ریزرو 100 ٹریلین ڈالرز پر مشتمل ہیں- اس گھرانے کے کاروبار کا آغاز ہمبرگ میں ایک چھوٹے سے بنک کے آغاز سے اٹھارویں صدی میں مئیر ایمسچل رتھ فیلڈ کے ہاتھوں ہوا- جنہوں نے انیسویں صدی کے آغاز تک یورپ میں رقوم کے ٹرانزایکشن کے لیے یورپ میں پانچ مراکز قائم کر دیے جن کے سربراہ اس کے پانچ بیٹے تھے اور اس طرح اس نے دنیا کے تمام بڑے ممالک کو قرضے دے کر ان کے مالیاتی نظام پر کنٹرول قائم کر لیا اس کے قائم کیے ہوئے ادارے موجودہ آئی ایم ایف کی طرح دنیا بھر کرنسیوں کو کنٹرول کرتے تھے ۔اس گھرانے کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے امریکہ اور برطانیہ کی حکومتوں کو مانیٹری نظام کو بھی کنٹرول کر رکھا ہے اور دنیا میں ہونے والی تمام بڑی جنگوں کا بیچ اسی گھرانے نے بویا تھا تاکہ دونوں فریقوں کو قرضہ اور اسلحہ دے کر فائدہ حاصل کر سکے- اس کے علاوہ اسرائیل کا قیام بھی اسی گھرانے کی پلاننگ کے سبب ممکن ہو سکا-

2: راک فیلر گھرانہ
راک فیلر یہودیوں کا دوسرا سب سے بڑا اور طاقتور گھرانہ سمجھا جاتا ہے جس کے بانی جان ڈیوڈ سن تھے جنہوں نے کاروباری زندگی کا آغاز انیسویں صدی میں ایک آئل ریفائنری میں شمولیت سے کیا- اور اسکے بعد وقت کے ساتھ ساتھ اس کے تمام پارٹنرز کو سازشوں اور دھونس زبردستی سے فارغ کر کے انیسویں صدی کے آغاز تک بلاشرکت غیرے مالک اس آئل فیلڈ کا مالک بن گیا- یہاں تک کہ 1937 میں جان ڈیوڈ سن کے انتقال کے وقت اس کے اثاثوں کی مالیت 340 بلین ڈالر تک جا پہنچی جو کہ اس وقت کی بل گیٹس کی دولت سے چار گنا زیادہ تھی۔ اس خاندان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے ماضی میں ذکا وائرس کی تیاری کے لیے فنڈ دیا تاکہ دنیا بھر میں اس وائرس کے پھیلاؤ اور اس کی ویکسین کی تیاری سے پیسہ کمایا جا سکے- اس گھرانے کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ گھرانہ امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے قتل کی منصوبہ بندی اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی منصوبہ بندی میں بھی ملوث رہا ہے-

3: مارگن گھرانہ
انیسویں صدی کے اختتام پر جان پیر یونٹ مارگن نے جے پی مارگن اینڈ کمپنی کے نام سے ایک فنانشل کمپنی کام کی جس کا کام قرضے دینا تھا- اسی دوران امریکہ اپنے وقت کی بدترین کساد بازاری کا شکار تھا اس موقع پر جب امریکہ کے سونے کے ذخائر بری طرح کم ہو رہے تھے اور اس کا ڈالر اپنی وقعت کھو رہا تھا اس موقع پر جے پی مارگن نے رتھ شیلڈ کے ساتھ مل کر بڑی مقدار میں سونا امریکی ذخائر میں جمع کروا کر اس کی اکانومی معاملات پر اپنا اثر وسوخ میں اضافہ کیا- اور اس کے سبب امریکی فولاد سازی اور الیکٹرونک کی صنعت کو اپنے قابو میں کر لیا اور اس کے ساتھ ساتھ مارگنائزیشن کے نام سے ایک نظام کی بنیاد ڈالی جس کے ذریعے کم معاوضے پر مزدوروں سے کام لینا اور زیادہ سے زیادہ منافع کے حصول کے لیے فیکٹریوں میں حفاظتی نظام کو نظر انداز کر کے مزدوروں سے کام لینا شامل ہے- اس کے علاوہ انہوں نے دنیا کے دوسرے کمزور ممالک کو بھی سخت ترین شرائط پر قرضے فراہم کر کے ان کی معیشت پر بھی اپنا تسلط قائم کیا-

4: ڈیو پونٹ گھرانہ
ڈیو پونٹ گھرانے کے سربراہ سیموئيل ڈيو پونٹ تھے جو اٹھارویں صدی میں فرانس سے ہجرت کر کے امریکہ آیا تھا یہ پیشے کے اعتبار سے ایک معیشت دان تھا -اس نے امریکہ میں گن پاؤڈر کی ایک فیکٹری قائم کی جس نے بعد میں نائلون اور پولی مر کی تیاری کی ذمہ داری بھی سنبھال لی- اس کے ساتھ ساتھ ڈائنامیٹ کی تیاری بھی اسی فیکٹری میں ہوئی ۔ اس گھرانے کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے گن پاؤڈر اور ڈائنامیٹ کی فروخت میں بہت پیسہ کمایا اس کے علاوہ امریکہ کے پہلے ایٹم بم کی تیاری کی منصوبہ بندی اور تیاری بھی انہی کے ہاتھوں ہوئی اس گھرانے کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ماری جوانا اور حشیش کے بیچوں کی تیاری میں بھی ملوث ہیں- اور دنیا ميں ہونے والی جنگوں کی منصوبہ بندی اور اس کے سبب اسلحے کی خرید و فروخت میں ان کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے-

5: بش گھرانہ
پریس وٹ شیلڈن بش جو کہ امریکی بینکر اور سینیٹر بھی رہے ہیں یہ امریکی صدر ایچ ڈبلیو بش کے والد اور جارج ڈبلیو بش کے دادا تھے ان کا شمار امریکی مالدار گھرانوں میں ہوتا ہے- اور ان کے اثر وسوخ کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس گھرانے کے دو لوگ امریکی صدر رہ چکے ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد اگلا امریکی صدر بھی اسی گھرانے سے ہو گا- اس گھرانے کے اوپر الزام ہے کہ اس نے امریکہ کے دشمن ہٹلر کو دوسری جنگ عظیم میں سپورٹ کیا اور اس کی مدد سے بہت پیسہ کمایا اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ رولڈ ٹریث سنٹر پر حملے کے بارے میں جارج بش پہلے سے آگاہ تھے مگر انہوں نے اس کو صرف اسی لیۓ نہ روکا تاکہ اس کے بعد ہونے والی جنگ سے مالی مفاد حاصل کر سکیں