دنیا کا سب سے گہرا قدرتی گڑھا جو ابھی تک پراسرار معمہ ہے

796

بیرونی دنیا چین میں موجود اس قدرتی گڑھے کے بارے میں 1994 تک لا علم تھی تاہم ماہرین اب تک اس سوال کا جواب نہیں ڈھونڈ سکے کہ آخر یہ گڑھا کیسے وجود میں آیا۔

چین کے جنوب مغرب میں واقع چونگ قنگ میونسپیلیٹی ایک دیہی علاقہ ہے۔ یہاں کی سرسبز سرزمین میں ایک حیران کن قدرتی عجوبہ موجود ہے۔ دور سے دیکھنے پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ کسی دیوہیکل خلائی مخلوق کے قدموں کے نشان ہوں۔

چند ماہرین کا خیال ہے کہ غالبا یہ پراسرار گڑھے زمین سے کسی سیارچے کے ٹکرانے کے نتیجے میں معرض وجود میں آئے ہوں گے۔

دوسری جانب ایسے ماہرین بھی ہیں جن کا ماننا ہے کہ یہ گڑھے اچانک سے نہیں بنے بلکہ ان کے وجود میں آنے کا عمل 128 ہزار سال قبل شروع ہوا
اس گڑھے کے اندر ایک دنیا ہے جہاں 1285 پودے اور مختلف الانواع جانور دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں گنگکو اور کلاؤڈڈ تیندوے جیسے جانور بھی شامل ہیں۔

بارش کے موسم میں اس گڑھے کے منہ میں سے ایک آبشار بہتی ہے جو زیر زمین دریا اور ساتھ ہی ساتھ گڑھے کے اندر موجود غاروں کو سیراب کرتی ہے۔

مقامی لوگ اس قدرتی گڑھے کے بارے میں صدیوں سے جانتے تھے تاہم بیرونی دنیا نے اسے اس وقت دریافت کیا جب 1994 میں برطانوی مہم جو اس گڑھے کے اندر موجود غاروں کا سروے کرنے کے لیے نیچے اترے۔

اس مہم کی سربراہی اینڈریو جیزم کر رہے تھے جن کے گائیڈ زاو گوئلین بتاتے ہیں کہ زیر زمین دریا کے پانی کا بہاؤ کافی تیز تھا۔

10 سال کے عرصے میں اس گڑھے کے اندر پھیلے غاروں کی بھول بھلیوں کو جانچنے کی پانچ بار کوشش کی گئی تاہم یہاں پانی کی تیزی کی وجہ سے ان کو کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔اینڈریو جیمز کہتے ہیں کہ ’چین کے یہ زیر زمین غار کسی مہم جو کے لیے ایسے ہی ہیں جیسے کسی کوہ پیما کے لیے ہمالیہ کی چوٹیاں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’زیر زمین غاروں میں اتر کر دریا کے زیر رفتار پانی میں تیرنا انتہائی مشکل ثابت ہوا۔ زیر زمین دریا میں تیرنا ایک خطرناک عمل ہوتا ہے جو آپ کو بہت تھکا دیتا ہے۔‘

اور اسی لیے چین میِں موجود یہ گہری اور تاریک زیر زمین دنیا اب تک ایک پراسرار معمہ ہے۔

زاو گوئلین کہتے ہیں کہ ’یہاں کے کئی اسرار ہیں جن سے پردہ نہیں اٹھ سکا‘ تاہم ان کو امید ہے کہ نئے مہم جو اس پراسرار پہیلی کو حل کرنے کی کوشش ضرور کریں گے۔

پیٹرک وونگ بی بی سی ٹریول