کیا آپ سر کا خطاب حاصل کرنا چاہتے ہیں، شہزادہ یا شہزادی بننا چاہتے ہیں، یا کوئی لارڈ یا لیڈی؟اگر آپ کا جواب ہاں ہے تو آئیے آپ کو بتاتے ہیں دنیا کے سب سے چھوٹے ملک کے بارے میں، جو گوگل کے نقشے پر بھی نظر نہیں آتا، مگر یہاں آپ نہایت معمولی رقم ادا کر کے یہ ساری سہولیات اپنے نام کر سکتے ہیں۔

اس کی تفصیل نیچے چل کر آئے گی مگر اس سے پہلے آپ کو ملک کے بارے میں بتاتے چلیں۔ اس ملک کی آبادی صرف 22 لوگوں پر مشتمل ہے لیکن ان کی اپنی ایک فٹ بال ٹیم بھی ہے اور یہ ملک بین الاقوامی پانی میں برطانیہ کے ساحل سے چھ میل دور واقع ہے جس کا نام ’سی لینڈ‘ یا ’پرنسیپیلیٹی آف سی لینڈ‘ ہے۔

دنیا کا سب سے چھوٹا خود ساختہ ملک سی لینڈ دراصل سمندر کے درمیان دو ستونوں پر واقع ہے اور اس کا رقبہ انہیں دو ستونوں پر لوہے کا بنا ہوا بڑا سا ٹکڑا ہے۔ اس ملک کی آمدن ایک آن لائن گفٹ شاپ سے ہوتی ہے جہاں آپ یہاں کے نوادرات خرید سکتے ہیں۔

یہاں کوئی دکان نہیں ہے اس لیے اگر آپ یہاں مستقل رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو سبزی، ترکاری برطانیہ سے خرید کر لانا پڑے گی یا اگر آپ چاہیں تو اپنی دکان بھی کھول سکتے ہیں جو خوب چلے گی، مگر اگر آپ نے سر یا بیرن کا خطاب حاصل کر رکھا ہے تو پھر شاید پرچون کی دکان چلانے میں ہتک محسوس کریں۔

یہ ملک بین الاقوامی سمندر کے اندر سیمنٹ سے بنے ایک پلیٹ فارم پر مبنی ہے جسے برطانیہ دوسری جنگ عظیم کے دوران طیارہ شکن توپوں کے لیے استعمال کرتا تھا۔ جنگ ختم ہوئی تو برطانیہ یہاں سے توپیں اتار کر لے گیا اور پلیٹ فارم کو ترک کر دیا۔

موقع دیکھ کر1967 میں برطانوی فوج کے ایک میجر پیڈی روئے بیٹس نے اس جگہ پر قبضہ کر کے وہاں آزاد ریاست بنانے کا اعلان کر دیا اور اپنی بیوی سمیت اس قلعہ پر آ کر آباد ہو گیا۔ انہوں نے سی لینڈ نامی ریاست کا اعلان کر کے خود یہاں کا بادشاہ بن کر اپنی بیوی کو ملکہ کا خطاب دے دیا۔

1975 میں بیٹس نے سی لینڈ کا آئین، جھنڈا، قومی ترانہ اور پاسپورٹ جاری کر دیا لیکن اس کے باوجود ابھی تک کسی ملک نے سرکاری طور پر اسے تسلیم نہیں کیا، یہاں تک کہ برطانیہ نے بھی نہیں جہاں سی لینڈ کے زیادہ تر شہری اصل میں رہتے ہیں۔ جب آپ ایک غیر تسلیم شدہ مائیکرو نیشن ہوتے ہیں تو زندگی تھوڑی مشکل ہوتی ہے۔

1987 میں برطانیہ نے اپنی سمندری رسائی کو تین میل سے بڑھا کر 12 میل کر دیا اور یوں سی لینڈ برطانیہ کی حدود کے اندر آ گیا، لیکن سی لینڈ کے شہزادہ اس سے متفق نہیں ہیں۔

سی لینڈ کے شہزادے مائیکل بیٹس نے، جو پیڈی روئے کے صاحبزادے ہیں، بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’سی لینڈ نے کبھی خود کو تسلیم کروانے کی ضرورت محسوس نہیں کی، ریاست بننے کے لیے آپ کو صرف مونٹیویڈیو کنونشن کے معیار پر پورا اترنا پڑتا ہے جس کے مطابق آبادی، علاقہ، حکومت اور دوسری ریاستوں کے ساتھ بات چیت میں داخل ہونے کی صلاحیت ہے۔‘

این بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق 2007 میں اس پلیٹ فارم کو 99 کروڑ 70 لاکھ ڈالر میں فروخت کرنے کے لیے مارکیٹ میں پیش کیا گیا تھا لیکن اس کو خریدنے کے لیے کسی نے ہامی نہیں بھری۔ یہاں کے شہزادے بیٹس نے این بی سی کو انٹرویو میں بتایا کہ ’میرے خیال میں صحیح قیمت پر آپ کچھ بھی بیچ سکتے ہیں اور میرے خاندان نے اس ڈھانچے کو رہنے کے قابل بنانے کے لیے کم از کم 14 لاکھ ڈالر خرچ کیے ہیں۔‘

سی لینڈ کی سرکاری آبادی 22 افراد پر مشتمل ہے مگر ان کی بڑی تعداد وہاں کی مستقل رہائشی نہیں ہے۔ 2013 میں جب اخبار بیلفاسٹ ٹیلی گراف کے ایک رپورٹر نے یہاں کا دورہ کیا تو وہاں صرف پانچ افراد موجود تھے اور ان میں سے کوئی بھی شخص مستقل طور پر وہاں رہائش پذیر نہیں تھا۔

کوئی بھی کھیل حب الوطنی کو ابھارنے کا ایک بہترین طریقہ ہوتا ہے اور اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے سی لینڈ نے بھی اپنی ایک فٹ بال ٹیم تشکیل دی لیکن ان کی اس ٹیم کو فیفا نے تسلیم نہیں کیا۔ اس کے باوجود سی لینڈ کی ٹیم کو امید ہے کہ وہ فیفا نہ سہی لیکن وی وا ورلڈ کپ میں جلد کھیلیں گے۔ وی وا ورلڈ کپ ان ٹیموں کے لیے ہوتا ہے جو فیفا کا حصہ نہیں ہیں۔

یہاں کا شہزادہ یا نائیٹ یا بیرن اور بیرونس بننے کے لیے آپ کو زیادہ کچھ کرنے کی ضرورت نہیں بس سی لینڈ کی آن لائن شاپ پر جائیں جہاں آپ کو یہ ٹائیٹلز 29 پاؤنڈ سے لے کر 199 پاؤنڈز تک میسر ہیں اور آپ ان کو خرید سکتے ہیں۔ان ٹائیٹلز کے علاوہ سی لینڈ کی چین، شرٹس، قلم مگ اور دیگر چیزیں بھی فروخت ہوتی ہیں۔ مائیکرو نیشن چلانا کوئی آسان کام نہیں۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔