• 425
    Shares

افغانستان میں طالبان کا پہلا دور اقتدار ان کے ظالمانہ رویے اور خواتین پر جبر کے باعث مشہور تھا اور اس دوران انھیں تعلیم، نوکری اور عام زندگی کوئی بھی ایسا کام کرنے سے روکا جاتا تھا جس کے لیے گھر سے باہر قدم رکھنا پڑے۔

اس مرتبہ عسکریت پسند تنظیم کا کہنا ہے کہ خواتین کو شریعت کے ‘دائرہ کار’ میں رہتے ہوئے حقوق ضرور دیے جائیں گے تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ اس سے کیا مراد ہے۔

عمومی طور پر شریعت سے مراد وہ ضابطہ حیات ہے جس کے بارے میں خدا کی جانب سے تلقین کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ شریعت اسلام کا قانونی نظام بھی ہے۔

چند اسلامی عدالتوں کی جانب سے دی جانے والی سزاؤں کی شدت کے حوالے سے انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بارہا تنقید کی جاتی ہے لیکن شریعت کے نفاذ سے متعلق دنیا کے مختلف مسلمان ممالک میں مختلف تشریحات موجود ہیں۔

حالانکہ جن ممالک میں شریعت کا نفاذ ہوتا ہے وہاں خواتین کی سیاسی آزادی پر پابندیاں موجود ہو سکتی ہیں لیکن جب بات ان کی ذاتی زندگی کی ہوتی ہے تو طالبان کی جانب سے جو شرائط اور قوانین 90 کی دہائی میں نافذ کیے گئے تھے وہ کہیں اور نہیں پائی جاتے۔

بی بی سی نے شریعت کے قانون میں زندگی گزارنے کے بارے میں سعودی عرب، نائجیریا، ایران، انڈونیشیا اور برونائی سے تعلق رکھنے والی پانچ خواتین سے ان کے تجربات کے بارے میں بات کی ہے۔

‘یہاں اب پہلے کی نسبت زیادہ آزادی ہے’
حنان ابوبکر کے آباؤاجداد کا تعلق تو تنزانیہ سے ہے لیکن انھوں نے اپنی زیادہ تر زندگی سعودی عرب میں گزاری ہے۔

میں نے ایک انٹرنیشنل سکول سے تعلیم حاصل کی جس میں انڈین نصاب کی کتابیں پڑھائی جاتی تھیں۔ سکول بسوں میں لڑکے اور لڑکیاں علیحدہ بیٹھا کرتی تھیں۔ کینٹین میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے علیحدہ جگہ مختص تھی۔ اکثر اوقات ہم مختلف کلاس رومز میں بیٹھتے تھے۔ تاہم ہمیں کچھ مضامین مرد اساتذہ پڑھایا کرتے تھے۔

لڑکیوں کو کھیلوں میں حصہ لینے کی اجازت تھی، لیکن لڑکوں کے ساتھ نہیں اور ہمارا سپورٹس ڈے بھی علیحدہ ہوتا تھا۔ لیکن اساتذہ کی جانب سے لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا تھا۔

سعودی عرب میں اب پہلے کی نسبت زیادہ آزادی ہے۔

خواتین کو اکیلے سفر کرنے اور گاڑیاں ڈرائیو کرنے کی آزادی ہے۔ میں بھی جلد لائسنس حاصل کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔ کچھ سال قبل ہمارے پاس سینما ہال نہیں ہوا کرتے تھے تاہم اب یہ سہولت بھی میسر ہے اور مجھے وہاں جانا بہت پسند ہے۔

میں اپنا چہرہ نہیں ڈھانپتی اور ملک میں سکارف پہننا بھی ‘لازمی’ نہیں ہے۔

ماضی میں ریستورانوں میں غیر شادی شدہ افراد کا الگ سیکشن ہوتا تھا اور فیملی کے لیے علیحدہ جگہ مختص تھی۔ اب ایسی کسی بھی قسم کی علیحدگی نہیں ہے۔ عوامی مقامات پر مرد اور خواتین اب گھل مل سکتی ہیں، جیسے میں نوکری پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھانا کھانے جاتی ہوں۔

لیکن کیونکہ یہ ایک مسلمان ملک ہے اس لیے یہاں نائٹ کلب، شراب خانے وغیرہ نہیں ہیں۔ شراب پینے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ میں جدہ میں نجی کمپنی میں کام کرتی ہوں جہاں لوگوں کو ان کے کام کے اعتبار سے تنخواہ دی جاتی ہے اور صنفی امتیاز نہیں کیا جاتا۔

میری عمر 30 برس ہے اور میں اس وقت شادی کروں گی جب مجھے اپنی پسند کا کوئی لڑکا مل جائے۔ میرے والدین نے میرا بہت ساتھ دیا ہے اور مجھے شادی کرنے پر مجبور نہیں کیا۔

کچھ افراد کا خیال ہے کہ اصلاحات بہت سست ہیں۔ لیکن میری والدہ میری پیدائش سے قبل بھی سعودی عرب میں تھیں اور انھیں لگتا ہے کہ یہاں تیزی سے تبدیلی آئی ہے۔

‘شراب کا استعمال غیرقانونی ہے لیکن لوگ پارٹیوں میں پیتے ہیں’
ایران میں رہنے والی ماہشا کی شناخت اور تصویر ان کی حفاظت کی غرض سے نہیں دکھائی جا رہی۔ ماہشا کے مطابق ایران میں ایک خاتون کو کون سی پابندیاں جھیلنی پڑیں گی اس کا دارومدار اس کے خاندان پر ہوتا ہے۔

ایران کے معاشرے کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ کچھ بہت زیادہ مذہبی، سخت گیر، دقیانوسی خیالات کے مالک اور تعصب پسند ہوتے ہیں۔ وہ اپنی بیٹیوں یا بہنوں کو اپنی پسند سے رشتہ استوار کرنے پر قتل کر سکتے ہیں۔ دوسرا گروہ میرے خاندان کی طرح ہے، یعنی شہری متوسط طبقے کی فیملی جہاں ساری توجہ پڑھائی اور روزگار پر ہوتی ہے۔

تیسرا گروہ اشرافیہ کا ہے جو بظاہر تمام قوانین سے بالاتر ہیں۔ میری پیدائش اور بچپن تہران میں گزرا ہے۔ میں نے اپنے سکول اور یونیورسٹی میں لڑکوں کے ساتھ تعلیم حاصل کی تھی۔ اکثر ایرانی والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے ڈاکٹر یا انجینیئر بنیں لیکن میں ڈینٹل کالج میں داخلے لینے میں ناکام رہی اور میں نے انگلش کے مضمون میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ اب میں چھوٹے بچوں کے سکول میں پڑھاتی ہوں۔

ایران میں خواتین مختلف شہروں میں سفر کرتی ہیں اور اکیلی خاتون گھر کرائے پر لے کر اس میں اکیلی بھی رہ سکتی ہے۔ وہ کسی ہوٹل میں بھی ٹھہر سکتی ہیں۔ میرے پاس اپنی گاڑی ہے اور میں شہر میں ڈرائیو کرتی ہوں۔ مجھے کسی محرم کی تو ضرورت نہیں ہوتی، لیکن سکارف پہننا لازمی ہے۔

اگر مذہبی پولیس کسی نوجوان جوڑے کو نازیبا حرکات کرتے ہوئے پکڑ لیں، یا کسی خاتون چھوٹا اوور کوٹ پہنے ہوئے ہو تو وہ مشکل میں پڑ سکتی ہے۔ عام طور اہلکار رشوت لے کر انھیں جانے دیتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھار خلاف ورزی کرنے والوں کو پولیس سٹیشن لے جایا جاتا ہے اور ان کے والدین کو بلا کر ان کے سامنے ان کی تذلیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ میں نے شادی سے پہلے اپنے شوہر سے چار برس تک دوستی رکھی اور باہر گھومتی پھرتی رہی۔ میں ان کے ساتھ سینما، پارکس اور ہر جگہ جاتی تھی۔ میں خوش قسمت تھی۔

میرے والدین خاصے سخت گیر تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ میں رات نو بجے سے پہلے گھر پہنچ جاؤں اور وہ مجھے اپنے دوستوں کے ساتھ سیر پر نہیں جانے دیتے تھے۔ مجھے اپنی شادی کے بعد زیادہ آزادی ملی ہے۔

یہاں شراب کے استعمال پر پابندی ہے۔ ہمارے ہاں شراب خانے تو نہیں ہیں لیکن لوگ چوری چھپے شراب خرید کر پی لیتے ہیں۔ پارٹیوں میں اکثر افراد شراب پیتے ہیں۔ میں نہیں پیتی، کیونکہ مجھے اس کڑوے ذائقے سے نفرت ہے۔

میں فی الحال بچے پیدا نہیں کرنا چاہتی، ہماری تنخواہیں اتنی زیادہ نہیں ہیں کہ ہم بچے کی دیکھ بھال کے لیے نوکر رکھ سکیں۔ اپنے گھر اور بچوں کا خیال رکھنے کے ساتھ شوہر کو بھی توجہ دینا میرے لیے بہت زیادہ ہو جائے گا۔

میں خدا پر یقین رکھتی ہوں لیکن میں ایک مذہبی خاتون نہیں ہوں۔ میں باقاعدگی سے نماز نہیں پڑھتی۔

‘شریعت کسی بھی دوسرے قانون سے بہتر ہے’
حوویلا ابراہیم محمد کا تعلق نائجیریا سے ہے اور وہ ایک وکیل ہیں اور گذشہ 18 برس سے کانو، ابوجہ اور لاگوس میں وکالت کر رہی ہیں۔

میں شریعت کے قانونی نظام پر یقین رکھتی ہوں۔ نائجیریا کی 12 ریاستوں میں اس کا استعمال فوجداری اور فیملی لا دونوں میں ہوتا ہے۔ میں شریعت کورٹ اور کامن لا کورٹ میں وکالت کرتی ہوں۔ شریعت کورٹ میں جج مرد ہوتے ہیں لیکن میں بطور خاتون کسی خوف کے بغیر دلائل دیتی ہوں۔

ایک ملزم کو معاف کرنے کے بارے میں قانون میں خاصی چھوٹ ہے۔ جج متعدد عوامل کا جائزہ لینے کے بعد انتہائی سزا دینے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

کچھ جرائم کی سزاؤں میں مجرمان کو بھری عدالت کے سامنے کوڑے مارے جاتے ہیں لیکن میں نے آج تک ایسی سزا کسی خاتون کو ملتے نہیں دیکھی۔ کچھ ایسے فیصلے بین الاقوامی طور پر توجہ کا باعث بنے تھے جن میں سنگسار کرنے کی سزا دی گئی تھی لیکن اسے نافذ نہیں کیا گیا تھا۔ اسلام میں یہ زنا کی سزا ہے۔

جہاں تک بات وراثت کی ہے تو مردوں کو خواتین کی نسبت دگنی وراثت ملتی ہے۔ یہ کہنے کو خاصا غیرمنصفانہ لگتا ہے لیکن اس کے پیچھے بھی ایک وجہ موجود ہے اور وہ یہ کہ خواتین کو کوئی مالی ذمہ داری نہیں دی گئی ہے۔ یہ والد، بھائی اور شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی حفاظت کریں۔

ہاں یہ بات ضرور موجود ہے کہ شوہر اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھا سکتا ہے لیکن اس کی صحیح تشریح یہ ہے کہ شوہر اہلیہ کو مارنے کی نقل کرے یا اسے تھوڑا بہت مارے۔ بیوی کو زخمی کرنے یا نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں ہے۔

کچھ خواتین اپنے شوہروں کو مار پیٹ کرنے کے الزام میں عدالت لے کر گئی ہیں۔ میں نے ایسے کئی مقدمات میں وکالت کی ہے اور وہ مقدمات جیتے بھی ہیں۔ میں یہ کہوں گی کہ یہاں انصاف صنفی امتیاز کے بغیر کیا جاتا ہے۔

نائجیریا میں خواتین کے لیے چہرہ ڈھانپنا لازمی نہیں ہے۔

خواتین یہاں اپنے جسم ضرور ڈھانپتی ہیں، اور اگر کوئی خاتون مختصر لباس پہنے تو لوگوں کو تعجب ہوتا ہے۔ خواتین کو اپنا جسم نہ ڈھانپنے یا سکارف نہ پہننے پر سزا دینا غلط ہے۔

خواتین کے پاس یہ فیصلہ کرنے کا حق ہے۔ اگر شریعت کو اس کی اصل حالت میں استعمال کیا جائے تو یہ کسی بھی دوسرے قانون سے بہتر ہے۔

‘مجھے معلوم ہے کہ کیا صحیح اور کیا غلط ہے’

عزتی محد نور کی پیدائش اور بچپن برونائی میں گزرا۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے سنہ 2007 میں 17 سال کی عمر میں حکومت کی جانب سے دی گئی سکالرشپ پر برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔

میں نے اے لیول، ماسٹرز اور کیمیکل انجنیئرنگ میں پی ایچ ڈی لندن سے کی ہے۔ اس کے بعد میں نے ایک سرمایہ کاری بینک میں سافٹ ویئر ڈویلپر کے طور پر کام کیا۔

چند ہفتے قبل میں اپنے ملک واپس آئی ہوں۔ یہاں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ یہاں شادی، طلاق اور وراثت جیسے امور میں طویل عرصے سے شرعی قوانین کا استعمال ہو رہا ہے۔ سنہ 2014 سے شرعی قوانین کا اطلاق فوجداری مقدمات میں بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ تاہم ابھی ان قوانین کے تحت تک کسی کو سخت سزا نہیں دی گئی ہے۔

یہاں دیکھا جا سکتا ہے کہ خواتین وہی پہنتی ہیں جو وہ چاہتی ہیں۔ اگر آپ جم جائیں تو آپ کسی کو ہیڈ سکارف میں دیکھیں گے اور کسی سپورٹس برا یعنی کھیل کے انتہائی مختصر لباس میں۔ یہاں کوئی مذہبی پولیس نہیں ہے کہ جو اس بنا پر لوگوں کو سزا دے۔

سکول میں ہمیں اسلام کے پانچ بنیادی ستونوں، اسلام کے معاشی نظام اور شرعی قوانین کے بارے میں تعلیم دی گئی۔ صبح کے وقت میں سائنس اور ریاضی جیسے مضامین سیکھتے تھے۔ سہہ پہر کو میں ایک مذہبی درسگاہ جاتی تھی جہاں مرد اور خواتین اساتذہ پڑھاتے تھے۔

جب معاملہ وراثت کا ہو تو شریعت کے تحت بہنوں کے مقابلے میں بھائیوں کا حصہ دوگنا ہوتا ہے۔ مگر ہمارے ملک میں میرے دادا دادی کی طرح زیادہ تر لوگ وصیت چھوڑ جاتے ہیں جو اسلامی قوانین سے بھی بالا ہوتی ہے۔

میں شریعت کے مطابق روزانہ پانچ وقت کی نماز نہیں پڑھتی مگر جتنا ممکن ہو سکتا ہے میں ضرور نماز پڑھتی ہوں۔ جب میں جوان تھی تو میرے والدین نماز سے متعلق بہت سخت گیر تھے۔ میں ایک ایسے وقت سے بھی گزری ہوں کہ جب میں بالکل نماز نہیں پڑھتی تھی مگر پھر بھی مجھے منزل مل گئی۔

میں نے جہاز چلانا سیکھ لیا اور مجھے پائلٹ کا لائسنس بھی مل گیا۔ دوران ٹریننگ میری ملاقات میرے بوائے فرینڈ سے ہوئی، جس کا تعلق شمالی جرمنی سے ہے۔ میں نے اپنی دوستی کے آغاز میں ہی اسے بتا دیا تھا کہ میں ایک مذہبی خاتون ہوں اور میں اپنے خاندان کا آغاز اسلامی ماحول میں ہی کرنا چاہوں گی۔ اس نے میری خواہش کا احترام کیا اور اسلام قبول کر لیا۔ اب ہماری جلد ہی شادی ہو جائے گی۔

کچھ مسلمان سکالرز کے مطابق شادی کے بغیر مرد اور عورت کو ایک ساتھ وقت نہیں گزارنا چائیے۔ مگر میرے خیال میں ایسے دو لوگ جنھوں نے بعد میں پوری زندگی ایک ساتھ گزارنی ہوتی ہے انھیں ایک دوسرے کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔

مجھے معلوم ہے کہ مذہب میں کیا صیحح اور کیا غلط ہے۔ مجھے یہ بھی پتا ہے کہ میرے کیا صیحح اور کیا غلط ہے۔ یہ دو مختلف چیزیں ہیں۔

میں ہیڈ سکارف نہیں پہنتی۔ کچھ لوگوں کے خیال میں شاید میں صیحح مسلمان نہیں ہوں۔ مگر میرے خیال میں یہ میرے اور خدا کے درمیان معاملہ ہے اور اگر خدا یہ سمجھتا ہے کہ میں غلط کر رہی ہوں تو میں خدا سے معافی کی درخواست کروں گی۔

میرے خیال میں برونائی میں اکثریت بہت برداشت والی ہے جبکہ محدود تعداد میں لوگ سخت گیر مؤقف کے قائل ہیں۔

تعلیم حاصل کرنا اور نئی مہارت حاصل کرنا تو اسلام کے بنیادی اقدار میں سے ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ خیال کہاں سے آیا ہے کہ خواتین تعلیم حاصل نہیں کر سکتی ہیں۔ میرے خیال میں یہ غیر اسلامی ہے۔

میں ہر دن ایک اچھی مسلمان بننے کی تگ دو میں ہوتی ہوں۔

’یہ ایمان کا حصہ ہے‘
انڈونیشیا کی ناصیراتودینا کا کہنا ہے کہ میں 19 برس کی ہوں۔ میں معاشیات کی طالبعلم ہوں اور جزو وقتی ایک مرد کے سیکرٹری کے طور پر کام کرتی ہوں۔ جو وقت بچ جاتا ہے تو میں بچوں کے ایک سکول میں پڑھاتی ہوں۔

میری پیدائش انڈونیشیا کے ’ایسے بیسار‘ صوبے میں ہوئی اور پھر یہیں میں پلی بڑھی ہوں۔ انڈونیشیا میں سب سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں مگر صرف میرے صوبے میں شریعت نافذ ہے۔

میں دن میں پانچ نمازیں پڑھتی ہوں۔ میرے لیے شریعت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ میں مجرموں میں خوف کی خاطر سخت سزاؤں کی بھی قائل ہوں۔

میں مکمل لباس پہنتی ہوں اور ہیڈ سکارف بھی میرے لباس کا حصہ ہے مگر میں اپنے چہرے کو نہیں ڈھانپتی ہوں۔ یہاں خواتین منی سکرٹس یا شارٹس نہیں پہن سکتی ہیں۔میں اتنی ہی آزاد ہو سکتی ہوں جتنا کہ میں چاہتی ہوں۔ یونیورسٹی میں لڑکے اور لڑکیاں اکھٹے پڑھتے ہیں۔ تاہم وہ کلاس میں علیحدہ علیحدہ بیٹھتے ہیں۔ لڑکوں سے بات چیت کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ میں ان سے بات کرتی ہوں مگر بہت زیادہ نہیں۔

میرے کچھ دوستوں کو ایک دوسرے سے محبت بھی ہو گئی ہے۔ محبت کا ہو جانا اچھا ہے۔ غیر شادی شدہ جوڑے عوامی مقامات پر ایک دوسرے سے محبت کا اظہار نہیں کر سکتے۔ بہت ساری خواتین شادی سے قبل اپنے شوہر سے جنسی تعلق قائم نہیں کرتی ہیں کیونکہ مذہب میں اس کی ممانعت ہے۔

لڑے اور لڑکیاں ٹولیوں میں باہر جا سکتے ہیں۔ ہماری شاپنگ مالز، ریستورانوں اور مذہبی مقامات پر ملاقات ہو جاتی ہے۔ ہمارے پاس یہاں سینما ہال نہیں ہیں۔ یہ افسوس کی بات ہے۔ میں ٹی وی پر ہی موویز دیکھتی ہوں اور میں سوشل میڈیا پر بھی متحرک ہوں۔ مجھے میوزک اچھا لگتا ہے اور میں نے گانے کے مقابلوں میں حصہ لیا ہے اور کئی مقابلوں میں فاتح بھی رہی ہوں۔

اسلام میں ایک مرد چار خواتین سے شادی کر سکتا ہے۔ تاہم میں کسی کی بھی دوسری، تیسری یا چوتھی بیوی نہیں بنوں گی۔ میں اس طرح نہیں کر سکتی۔ ہر خاتون کا حق ہے کہ اس کا ایک شوہر ہو۔

میں ایک بزنس لیڈر بننا چاہتی ہوں اور میں نے اس کا آغاز کنڈرگارٹن سکول شروع کر کے کیا ہے۔

میں افغان خواتین کے لیے بہت دکھ محسوس کرتی ہوں۔ مجھے یہ امید ہے کہ میں اپنی زندگی میں ہی یہ دیکھ سکوں گی کہ فلسطین، افغانستان، شام، ایران اور پورے عالم اسلام میں خواتین اور بچے پروندوں کی آواز سن کر جاگ سکیں گے نہ کہ بم کی آواز پر۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔