آپ کا دماغ پورا اپ لوڈ ہو جائے گا کمپیوٹر پہ اور جسم نہ بھی ہوا تو وہاں چلتے پھرتے رہیں گے آپ۔۔۔

یقین نہیں آتا؟

آپ کے پاس کون سا فون ہے؟ بٹنوں والا تو نہیں ہو گا ورنہ آپ یہ سب کچھ دیکھ ہی نہ رہے ہوتے۔ سمارٹ فون ہے نا؟اوکے ہو گیا۔ فرض کریں کوئی ساتھی آپ سے ملتا ہے، اس کے ہاتھ میں فون ہی نہیں ہے، اور وہ کہتا ہے کہ گوگل، آؤٹ لک، لنکڈ ان، فیس بک، انسٹا، ٹوئٹر، واٹس ایپ پہ اس نے کبھی اکاؤنٹ نہیں بنایا، تو کیا آپ یقین کریں گے؟دیکھیں بات ہو رہی ہے ہماری آپ کی، ابا چاچا کو لسٹ سے باہر کریں۔ کیا آپ مانیں گے کہ وہ سچ بول رہا ہے؟

اگر اس کا ڈیجیٹل دنیا میں کوئی اکاؤنٹ نہیں بنا تو کیا وہ موجود بھی ہے؟ بھوت ووت سے تو بات نئیں کر رہے آپ؟ میں دور دراز علاقوں کی یا دیہات کی بات نہیں شہروں کی کر رہا ہوں۔میں اوور ایکٹنگ نہیں کر رہا، دیکھیں آپ کے آس پاس جتنے بھی لوگ ہیں، کون ہے جس کا ای میل ایڈریس نہ ہو کم از کم؟ ایک عدد موبائل سم نہ ہو؟ کوئی فیس بک، کوئی واٹس ایپ؟ کچھ تو ہو گا؟ اگر نہیں ہے تو وہ بندہ ہے بھی یا نہیں؟ زندہ ہے تو کہاں رہ رہا ہے، کیا کرتا ہے؟ کیا آپ اس شخص سے بزنس کرنا پسند کریں گے جو ٹریس ایبل ہی نہیں ہے؟ کوئی کمپنی ملازمت دے گی اسے، جو صرف لینڈ لائن پہ ملے؟ ڈیجیٹل موجودگی ایسی حقیقت ہے جس سے آپ بھاگ نہیں سکتے۔ بیس سال پہلے تک ایسے سوچ بھی سکتا تھا کوئی؟ یہی گیم ہے ساری۔

آپ مر جاتے ہیں آپ کا فون نمبر سیوڈ رہتا ہے، مووی یوٹیوب پہ موجود ہوتی ہے اور تصویریں فیس بک پر، یہ ڈیجیٹل دنیا میں زندگی کی طرف آپ کا پہلا قدم ہے۔ مبارک ہو!جب زوکربرگ نے فیس بک کا نام میٹا رکھا تو اگلے دن میں نے ظفر سید سے پوچھا۔ سر، کیا یہ ممکن ہو گا کہ ہم لوگ میٹا ہی میں رہ سکیں۔میں ان کے ساتھ بیٹھتا ہوں اور دنیا کے ہر سوال کا جواب گوگل سے پہلے ان سے پوچھتا ہوں۔مسکرائے، کہنے لگے ‘وقت آئے گا جب انسان ہمیشہ وہاں رہ سکے گا، بھوک ہو گی نہ پیاس، نیند، کوئی بیماری اور نہ موت کا خوف۔’

میں نے تو اس تنگی میں سوال کیا تھا کہ زمین جائیداد کے چکر اپنے پلے نہیں پڑتے، نہ اوقات ہے، لیکن جواب بہت پھیلا ہوا تھا۔

کہنے لگے کہ دماغ بس اپ لوڈ ہو جائیں گے اور آپ مر مرا بھی گئے تو ادھر موجود ہوں گے۔اب کہانی کا سرا پکڑتے ہیں۔ دماغ اپ لوڈ ہونے کی باتیں سترہویں صدی سے چل رہی ہیں اور گوگل کے ایک انجینئر رے کرزویل کہہ چکے ہیں کہ 2045 تک انسان اپنا دماغ اپ لوڈ کروا کے ‘ڈیجیٹلی لافانی’ ہو جائیں گے۔ وہ لوگ کہتے ہیں کہ انسانی دماغ 20 ہزار ٹیرا بائٹ کی جگہ لے گا پورا سٹور ہونے کے لیے۔ کچھ دوسرے سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر یہ سب ہوا تو موجودہ کمپیوٹر سے لاکھوں گنا تیز مشینیں چاہیے ہوں گی اس دماغ کو چلانے کرنے کے لیے، انہیں جواب ملتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی موجودہ رفتار کے حساب سے یہ بھی ہو جائے گا پچاس ساٹھ سال تک۔

ہنری مارکرام ایک صاحب ہیں جو بلیو برین پراجیکٹ کے نام سے کمپنی چلاتے تھے۔ 2004 میں ان کا خیال تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہو سکتا لیکن کوشش میں حرج بھی کوئی نئیں۔ 2009 میں وہ ایک چوہے کا مکمل دماغ اپ لوڈ کر چکے تھے۔اب حوصلہ بڑھ گیا، بولے دس سال بعد مکمل انسانی دماغ اپ لوڈ کرنا ممکن ہو گا۔ بچت ہوئی کہ اگلے دو برس میں کمپنی کچھ ڈانوں ڈول ہو گئی اور پروجیکٹ بند کرنا پڑا ورنہ کم پے گیا سی پورا!

خیر کوششیں اب تک جاری ہیں، پراجیکٹ یہ ہو ہی جانا ہے، سوال سائنس دانوں کے آگے بھی دو ہیں؟ کیا کروڑوں دماغی نیوران کاپی کرنے کے بعد عقل یا شعور بھی اپ لوڈ ہو جائے گا؟ کیوں کہ شعور یا کونشسنیس جو ہے وہ بائیولوجی سے باہر کی چیز ہے۔ دماغ کاپی ہو گیا لیکن کونشسنیس نہیں ہے تو بندہ پھر ڈیزل پہ ہی چلے گا، کہ نہیں؟

نہ مانیں، مرضی ہے، لیکن یہ بٹ کوائن کیا ہے؟ کریڈٹ کارڈ، موبائل پے، ایزی پیسہ، کیا ہے یہ؟ نوٹ کدھر گئے؟ سکے کیا ہوئے؟ سب کچھ ورچوئل ہو رہا ہے کہ نہیں؟ بھائی پلاٹ بکنے شروع ہو چکے ہیں ڈیجیٹل سپیس کے اندر۔سینڈ باکس اور ڈی سینٹرل لینڈ، یہ دو کمپنیاں اس وقت بڑی پراپرٹی ڈیلر ہیں اور ٹکا کے غائبانہ زمینیں بیچ رہی ہیں۔ ان کی ملکیت جب آپ اپنے نام کرواتے ہیں تو وہ این ایف ٹی کی صورت میں ہاتھ آتی ہے۔ نان فنجیبل ٹوکن ۔۔۔ سمجھ لیں انٹرنیٹ کا اشٹام پیپر ہوتا ہے یہ۔ بھراوؤ، موڑ شہر دے حلات تے بڑے بدلے کھلوتے ان!

دیکھیں جیسے ڈیفنس یا بحریہ ٹاؤن ترقی کرتے ہیں عین وہی معاملہ زوکربرگ کا ہے۔ فیس بک وغیرہ چوزے ہیں میٹا کے آگے، آپ کا دماغ اپ لوڈ نہ بھی ہو لیکن پورے دن میں کسی بھی سکرین سے کتنی کو دیر آپ کی آنکھیں ہٹتی ہیں؟ بس نہانے یا سونے جاتے ہیں، وہ بھی ادھری ہو جائے یا اندر، کیا فرق پڑتا ہے؟ یہ نگل جائے گا سب کو، دیکھ لیجیے گا۔ جہاں ہماری سوچ ختم ہو رہی ہے وہاں میٹا کا پہلا پلاٹ ہے بابا!

ویسے سوچیں، اگر ہمارے دماغ اپ لوڈ ہو گئے، موت تو پھر بھی آنی ہے۔ وائرس یا کوئی سائبر حملہ ہوا نہیں اور ایک دم پوری آبادی کا دھڑن تختہ! لائٹ گئی اور جب واپس آئی تو 2022 دوبارہ سے شروع ہو گیا۔ پھر ڈیجیٹل ہیومنز رائٹ کا سوال بھی کھڑا ہو گا۔ اس دنیا میں بھی عورت اور مرد کی وراثت میں فرق ہو گا۔ کوئی مجھے مارے گا تو میں اس کی ایسی تیسی اٌس جہان میں جا کے پھیر دوں گا، مطلب ڈیٹا اڑا دوں گا اس کا۔ جج مجرم کو پھانسی کی سزا سنائیں گے تو ساتھ اس کا ڈیجیٹل دماغ بھی شفٹ ڈیلیٹ ہو گا یا نہیں؟ اور جیسے یہ دنیا امریکہ کی ہے، وہ کس کی ہو گی؟ دی زوکر برگ اسٹیٹ، یا کچھ اور؟