اقبال رضوی
کہاں سے شروع کریں، کیا چھوڑیں اور کیا شامل کریں ان کی داستان میں! دراصل دلیپ کمار نے اتنی دلچسپ اور لمبی زندگی گزاری ہے جیسی کوئی دوسرا شاز و نادر ہی گزار پایا ہوگا۔ انہیں دبستان اداکاری کہا جائے یا اداکاری کا بادشاہ! پردے پر وہ شہنشاہِ جذبات یا ٹریجڈی کنگ تھے تو کمیڈین کو حاشیہ پر ڈھکیل دینے والے مسخرے بھی تھے۔ اپنی دسری اننگ میں وہ جیسے اینگری اولڈ مین کے روپ میں نمودار ہوئے، اس کی جھلک امیتابھ کے علاوہ کوئی دوسرا داکار نہیں دکھا پایا۔

راجیش کھنہ کو بالی ووڈ کا پہلا سُپر اسٹار کہا گیا۔ امیتابھ بچن کو عظیم ہیرو کہا گیا اور شاہ رخ خان بالی ووڈ کے بادشاہ کے طور پر مشہور ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ دلیپ صاحب کی بلندی تک ان میں سے کسی کا بھی قد نہیں پہنچ پایا۔

دبلے، پتلے اور بے حد شرمیلے محمد یوسف خان نے نہ جانے کب اور کیوں اداکار بننے کا خواب سجا لیا۔ خواب تو ہر انسان دیکھتا ہے لیکن اس وقت کی فلمی دنیا کی بے حد اثردار اور سب سے زیادہ زیرِ بحث شخصیت دیویکا رانی نے دنیا کو بتایا کہ یوسف نے کوئی عجیب خواب نہیں دیکھا تھا۔ پہلی ملاقات میں ہی دیویکا رانی دلیپ کمار سے حد درجہ متاثر ہو گئی تھیں۔ دیویکا رانی نے یوسف کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنا دیا۔ انہوں نے محمد یوسف خان کا نام دلیپ کمار رکھ کر سال 1944 میں انہیں فلم جوار بھاٹا میں پیش کر دیا۔ فلم نے کوئی کمال نہیں دکھایا لیکن پردے پر دلیپ کمار کمال دکھا چکے تھے، اس وجہ سے انہیں مزید فلمیں حاصل ہوئیں اور سال 1949 میں بنی محبوب خان کی فلم ’انداز‘ سے دلیپ کمار نے بالی ووڈ میں اپنے قدم مضبوطی سے جما لئے۔ اس کے بعد دلیپ کمار کے فلمی سفر کی کہانی سنہری الفاظ میں درج ہے۔

اداکاری کو دلیپ کمار نے اتنی گہرائی سے لیا کہ دیدار، جوگن اور دیوداس سمیت کچھ فلموں میں ٹریجڈی (سانحہ) والے رول اس قدر ڈوب کر نبھائے کہ وہ ذہنی طور پر بیمار ہو گئے۔ ڈاکڑوں کی صلاح پر انہوں نے ’کامک‘ مزاحیہ رول ادا کرنے شروع کیے۔ کامک کرداروں کو بھی انہوں نے انتہائی سنجیدگی سے ادا کیا۔ رام اور شیام، سگینا اور بیراگ میں دلیپ کمار نے اداکاری کا نیا رنگ پیش کیا۔ پھر کچھ سال بعد فلمی پردے سے دور رہ کر انہوں نے دوسری اننگ شروع کی تو مداحوں کو دلیپ کمار کا نیا روپ دیکھنے کو ملا۔

دوسری اننگ میں انہوں نے کرانتی، ودھاتا، دنیا، کرما، مشعل، مزدور، سوداگر اور شکتی کے ذریعے جس اینگری اولڈ مین کا کردار ادا کیا وہ بے مثال تھا۔ لیکن زندگی بھر انہوں نے فلموں کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کیا اور یہی وجہ سے کہ اس عظیم اداکار نے محض 60 کے قریب ہی فلموں میں کام کیا۔ لیکن انہوں نے ہندوستانی سنیما پر اپنے قدموں کے اتنے گہرے نقوش درج کیے کہ کئی نسلیں ان پر چلتی رہیں گی۔

دلیپ کمار کی فلمی زندگی جتنی دلچسپ اور زیر بحث رہی اتنے ہی زیر بحث رہے ان کے معاشقے۔ ان کا دل دھڑکا اور بار بار دھڑکا۔ یہ بدقسمتی رہی کہ کروڑوں دلوں پر بادشاہت کرنے والا یہ شخص سنجیدگی اور ایمانداری سے عشق کرنے کے باوجود بار بار ناکام ہوتا رہا۔ سال 1948 میں ریلیز ہونے والی فلم ندیا کے پار میں فلم کی شادی شدہ ہیروئن کامنی کوشل کو پہلی مرتبہ دلیپ کمار نے دل دے دیا، مگر اس عشق کا انجام جدائی نکلا۔ پہلا زخم ابھی بھرا ہی تھا کہ ان کے جذبات ثریا کے لئے امنڈ پڑے لیکن دیوانند کے عشق میں ڈوبی ثریا ان کے جذبات پر توجہ دینے سے پہلے ہی ان سے ناراض ہو گئیں اور انہوں نے دلیپ کمار کے ساتھ کوئی فلم نہیں کی۔ اس کے بعد دلیپ کمار کی زندگی میں مدھوبالا آئیں۔ قسمت کی بات تھی کہ دلیپ اور مدھوبالا کا ملن کبھی نہیں ہو سکا، لیکن ساٹھ سال کے بعد بھی مدھوبالا سے ان کے عشق کے چرچے بڑی ہی دلچسپی سے بیان کیے جاتے ہیں۔ آگے چل کر دلیپ کمار کا نام وجنتی مالا سے بھی جڑا لیکن اس کے چرچے پانی کے بلبلوں کی طرح ختم ہو گئے۔

پچپن سال کی عمر میں بھی دلیپ کمار کی شخصیت میں ایسا جادو تھا کہ خواتین ان کے نام پر آہیں بھرتی تھیں، انہیں چھو کر دیکھنا چاہتی تھیں اور تقریباً 57 سال کی عمر میں شادی شدہ دلیپ کمار عاصمہ رحمان کے عشق میں گرفتار ہو گئے اور عشق میں اتنا ڈوب گئے کہ دوسری شادی بھی کر لی! کہا گیا کہ دلیپ کمار نے باپ بننے کی چاہت میں ایسا کیا، مگر اس شادی کے حوالہ سے میڈیا میں اتنا شور و غل ہوا کہ دلیپ کمار نے عاصمہ کو طلاق دے دیا۔ دلیپ کمار کے عشق بھلے ہی کامیاب نہ ہوئے ہوں لیکن دلیپ سے عشق کرنے والی سائرہ بانو کا عشق ضرور کامیاب ہو گیا۔ وقت کے تمام نشیب و فراز کے درمیان وہ دلیپ کمار کو دل و جان سے چاہتی رہیں اور ایک طویل مدت تک دلیپ کمار کی ایک ماں کی طرح خدمت کرتی رہیں۔

دلیپ کمار اپنی زندگی میں ہی ایک لیجنڈ بن چکے تھے۔ مشاعروں کی محافل ہوں یا پھر سیاسی یا سماجی جلسے۔ دلیپ کمار کو وہاں ایک اداکار کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک دانشور اور شاندار انسان کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ انہیں راجیہ سبھا کے لئے بھی نامزد کیا گیا۔ سنیما کے سب سے بڑے دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے انہیں نوازا گیا لیکن جس مقام پر وہ پہنچ گئے تھے وہاں انسان کا قد اعزازات سے بڑا ہو جاتا ہے۔

دلیپ کمار محض اداکار یا پھر بہترین انسان بھر نہیں تھے بلکہ دلیپ کمار ایک عہد کا نام ہے۔ وہ عہد جو گزشتہ کچھ سالوں سے خاموش ہو گیا تھا اور اب اس کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ ان کا جسد خاکی بھلے ہی سپرد خاک ہو جائے گا لیکن دلیپ کمار کی کہانی بھلا کیسے ختم ہوگی۔

صدیوں وقت نے چکر کاٹے تب ایسا شاہ کار بنا

صدیوں اس شاہ کار کا چرچہ ہوا کرے گا دنیا میں