دعا کی درخواست ہے: کہنا ایک فیشن بن گیا ہے

ابونصر فاروق:رابطہ:6287880551-8298104514
قرآن اور حدیث میں دعا کے احکام:
(۱) ”……..(پس اے رجوع کرنے والو!)اللہ ہی کو پکارو اپنے دین کو اس کے لئے خالص کر کے،خواہ تمہارا یہ فعل کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔“ (المومن:۴۱ )
(۲) ”تمہارا رب کہتا ہے مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا، جو لوگ گھمنڈ میں آ کر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں، ضرور وہ ذلیل و خوار ہوکر جہنم میں داخل ہوں گے۔ “ (المومن:۰۶)
(۳) ”اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے، یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ …….. اور خدا ہی کو پکارو خوف کے ساتھ اور امید کے ساتھ، یقینا اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں کے قریب ہے۔“ (اعرف:۵۵-۶۵)
(۴) ”…………جو کچھ مردوں نے کمایا ہے اُس کے مطابق اُن کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اُس کے مطابق اُن کا حصہ ۔ہاں اللہ سے اُس کے فضل کی دعا مانگتے رہو، یقینا اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔“(النسائ:۲۳)
(۵) ”وہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کی دعا قبول کرتا ہے اور اپنے فضل سے اُن کو زیادہ دیتا ہے۔“ (الشوریٰ: ۶۲ )
(۶) ”اور اے نبی میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو اُنہیں بتادو کہ میں اُن سے قریب ہی ہوں۔پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے ، میں اُس کی پکار سنتا اور اُس کا جواب دیتا ہوں۔لہذا اُنہیں چاہئے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں۔یہ بات تم انہیں سنا دو شاید کہ وہ راہ راست پالیں۔“ (البقرہ: ۶۸۱ )
قرآن کی ان چھ آیتوںمیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دعا کرنے کا حکم دے رہا ہے۔ان آیتوں میں دوسروں سے دعا کرانے کی بات بالکل نہیں ہے۔
(۱) حضرت ابوسعید خدریؓ روایت کرتے ہیں رسول اللہﷺنے فرمایا : جب کوئی مسلمان دعا کرتا ہے جس میں کسی گناہ یا قطع تعلق کی بات نہ ہوتواللہ تعالیٰ ایسی دعا کو ضرور قبول کرتا ہے۔ یا تو اس دنیا میں اس کی دعا قبول کر لیتا ہے اور اس کا مقصد پورا ہوجاتا ہے۔یا اس کی دعا کو آخرت کے لیے ذخیرہ بنا دیتا ہے۔یا اس پر کوئی آفت ومصیبت آنے والی ہوتی ہے تو اس دعا کے بدلے اسے ٹال دیتا ہے۔صحابہؓ نے کہا تب تو ہم خوب دعا مانگا کریں گے۔رسول اللہﷺ نے فرمایا : اللہ بھی بہت زیادہ دینے والا ہے۔(مسند احمد)
(۲) حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں رسول اللہﷺنے فرمایا :بندے کی دعا ہمیشہ قبول ہوتی ہے،شرط یہ ہے کہ وہ کسی گناہ یا قطع تعلق کی دعا نہ کرے اور جلد بازی سے کام نہ لے۔لوگوں نے پوچھا اے اللہ کے رسولﷺجلد بازی سے کیا مراد ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: دعا کرنے والا یوں سوچنے لگتا ہے کہ میں نے بہت دعا کی مگر دعا قبول نہیں ہو رہی ہے اور پھر تھک کر دعا کرنا بند کر دیتاہے۔ (مسلم )
(۳) ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:ہر روز اللہ کے حکم سے دو فرشتے زمین پر اترتے ہیں،ایک خرچ کرنے والے بندے کے حق میں دعا کرتا ہے اور دوسرا تنگ دل بخیل کے حق میں بد دعا کرتا ہے۔(بخاری/مسلم)
(۴) رسول اللہﷺ نے فرمایا:دعا عبادت کا مغز ہے۔(ترمذی)
(۵) ابن عمر ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ” دعا ہر اُس مصیبت کو دور کرتی ہے جو آئی ہو یا نہ آئی ہو۔اے اللہ کے بندو! خود پر دعا کو لازم کر لو۔(ترمذی)
(۶) ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ”جو شخص اللہ تعالیٰ سے سوال نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اُس سے ناراض ہوتا ہے۔ (ترمذی)
(۷) سلمانؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: بیشک تمہارا رب حی ّ اور کریم ہے جب بندہ دعا کے لئے اُس کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھاتا ہے تو بندے کو خالی ہاتھ لوٹاتے اُسے شرم آتی ہے۔(ترمذی، ابو داو¿د، بیہقی)
پہلی حدیث میں کہا جارہا ہے کہ بندے کی دعا ہر حال میں قبول ہوتی ہے۔ ہاں کبھی بندہ جو مانگتا ہے اللہ تعالیٰ وہ دے دیتا ہے اور کبھی اُس کے بدلے میں کچھ اور دیتا ہے۔دوسری حدیث میں کہا جارہا ہے کہ گناہ یا رشتوں کے کاٹنے کی دعا کبھی نہیں کرنی چاہئے اور دعا قبول ہونے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہئے۔تیسری حدیث میں کہا جارہا ہے کہ ہر روز فرشتے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے کے لئے دعا بخیل کے لئے بد دعا کرتے ہیں۔ اور یہ بھی کہاجارہا ہے کہ عبادت کی روح دعا یعنی اللہ کو پکارنااور اُس سے مانگنا ہے۔چوتھی حدیث میں کہا جارہا ہے کہ دعا عبادت کی روح ہے۔پانچویں حدیث میں کہا جارہا ہے کہ دعا سے مصیبتیں دور ہو تی ہیں۔چھٹی حدیث میں کہا جارہا ہے کہ دعا نہیں کرنے والے سے اللہ ناراض ہوتا ہے۔ساتویںحدیث میں کہا جارہا ہے کہ دعا کرنے والے کو نامراد لوٹاتے ہوئے اللہ کو شرم آتی ہے۔
ان تمام حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا کرنا اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے۔ہر بندے کو عبادت خود کرنی چاہئے ، دوسروں سے یہ نہیں کہنا چاہئے کہ آپ میرے لئے عبادت کیجئے۔
دعا کے سلسلے میںایک دوسرا پہلو:
(۱) ”…………ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اُس کا ذمہ دار وہ خود ہے، کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا،پھر تم سب کواپنے رب کی طرف پلٹنا ہے،اُس وقت وہ تمہارے اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا۔(انعام: ۴۶۱)
(۲) کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ اور اگر کوئی لدا ہوا نفس اپنا بوجھ اٹھانے کے لئے پکارے گا تو اس کے بارکا ایک ادنیٰ حصہ بھی ہٹانے کے لئے کوئی نہ آئے گا چاہے وہ قریب ترین رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو……..۔(فاطر:آیت۸۱)
(۳) جو کوئی نیک عمل کرے گا اپنے ہی لئے اچھا کرے گا، جو بدی کرے گا اُس کا وبال اسی پر ہوگا۔ اللہ اپنے بندوں کے حق میں ظالم نہیں ہے۔(حم السجدہ:۶۴)
(۴) جو برائی کرے گا اُس کو اتنا بدلہ ملے گا جتنی اُس نے برائی کی ہوگی۔ اور جو نیک عمل کرے گا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت،شرط یہ ہے کہ ہو وہ مومن،ایسے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے،جہاں اُن کو بے حساب رزق دیا جائے گا۔(مومن:۰ ۴)
(۵) یہ اللہ کا حکم ہے جو اُس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے۔جو اللہ ڈرے گا اللہ اُس کی برائیوں کو اُس سے دور کر دے گا اور بڑا اجر دے گا۔(طلاق:آیت۵)
یہاں چار آیتوں میں یہ بات کہی جارہی ہے کہ ہر فرد اپنی نیکی یا بدی کا ذمہ دار خود ہے۔نہ کوئی اپنی نیکی کا فائدہ دوسرے کو پہنچا سکتا ہے اور نہ کوئی اپنی بدی سے دوسرے کا نقصان کر سکتا ہے۔کہا جاسکتا ہے کہ ہر نیک انسان کی دعا کا فائدہ اُسی کو ملے گا ۔ کسی بر ے انسان کو نیک انسان کی دعا کا فائدہ نہیں پہنچ سکتا ہے۔
دعا کے سلسلے میںایک تیسرا پہلو:
عبادت اور دعا میں اتنا فرق ہے کہ عبادت دوسرے کے لئے نہیں کی جاسکتی ہے لیکن دعا دوسرے کے لئے کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ زندہ لوگوں کی سلامتی اور زندہ اور مردہ انسانوں کی فلاح و نجات اور مغفرت کی دعا کرنے کا حکم ہے ۔ اسلامی تہذیب میںسلام او رمصافحہ کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔رسول اللہﷺ نے فرمایا:اے لوگو سلام کو عام کرو۔ (ترمذی) آپس میں سلام کرنے کو رواج دو۔(مسلم)بےشک اللہ سے زیادہ قریب وہ آدمی ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے ۔ (احمد،ترمذی)قتادہ ؓ نے انس ؓ سے دریافت کیا ،کیا رسول اللہ ﷺ کے اصحاب مصافحہ کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں۔ (بخاری) نبی کریم ﷺنے فرمایا :جب دو مسلمان ملاقات کرتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے جدا ہونے سے قبل دونوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ۔(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)لیکن مسلمانوں کی فرقہ پرستی نے اُن کو یہ سکھایا ہے کہ اپنے فرقے والوں کے علاوہ دوسرے فرقے کے لوگو ں کو نہ سلام کرو اور نہ اُن کے سلام کا جواب دو۔اور سارے مسلمان اسی فرقہ پرستی کے شکار ہیں۔
غور کیجئے سلام کرنا اورمصافحہ کرنا عبادت بھی ہے، خیر خواہی بھی ہے اور دعا بھی ہے۔شریعت نے جس دعا کا حکم دیا ہے اُس کی لوگوں کو پروا نہیں ہے اور اپنی شریعت کی پیروی کرتے ہوئے سبھوں سے دعا کی درخواست کرتے چل رہے ہیں۔ایسا کرنا اللہ اور رسولﷺ کی پیروی کرنا ہے یا اپنی بنائی ہوئی شریعت کی پیروی کرنا ہے ؟
دعا کے سلسلے میںایک چوتھا پہلو:
عبادت اور دعا میں اتنا فرق ہے کہ عبادت دوسرے کے لئے نہیں کی جاسکتی ہے لیکن دعا دوسرے کے لئے کی جاسکتی ہے۔ لیکن کن لوگوں کو نیک لوگوں کی دعا کا کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا اس کی تفصیل نیچے پڑھئے۔
(۱) فضول خرچی نہ کرو۔ فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ (بنی اسرائیل: ۷۲)جو لوگ فضول خرچی کرنے کے عادی ہیں اور شیطان کے بھائی بن گئے ہیںکیا اُن کو دعا کا فائدہ پہنچے گا ؟
(۲) حضرت اوس بن شرحبیلؓ روایت کرتے ہیں انہوں نے رسو ل اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے ظالم کا ساتھ دیا ، یہ جانتے ہوئے کہ وہ ظالم ہے ، تو وہ اسلام سے نکل گیا ۔ (بیہقی)مسلمان جان کر یا انجانے میں ظلم کر رہے ہیں اور اس گناہ کے انجام سے بے خبر ہیں۔جو اسلام کے دائرے سے باہر ہوں کیا اُن کو دعا کا فائدہ پہنچے گا ؟
(۳) رسول اللہ ﷺنے فرمایا: رشتہ داری کو کاٹنے کے سوا کوئی گناہ ایسا نہیں ہے جس کے کرنے والے کو اللہ تعالیٰ دنیا میں جلد سزا دے دیتا ہے اور آخرت میں بھی اس کی سزا باقی رہتی ہے۔(ابن ماجہ)کیا آج کے مسلمان رشتہ داری نبھا رہے ہیں ؟ جو لوگ رشتوں کو کاٹ کر دنیا اور آخرت میں سزا کے حقدر ہو گئے کیا اُن کو دعا کا فائدہ پہنچے گا ؟
 (۴) رسول اللہ ﷺنے فرمایا:جس کسی نے ظالمانہ طور پر بالشت بھر زمین لی تو قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق اس کے گلے میں پہنایا جائے گا۔(بخاری مسلم)کیا مسلم خاندانوں میں جائیداد کا بٹوارہ شریعت کے دائرے میں ہوتا ہے ؟ نہیں۔ خاندانوں میں رنجش اور بیگانہ پن اسی جائیداد کے بٹوارے میں بے ایمانی کی وجہ سے پائی جاتی ہے۔جو لوگ آخرت میں سزا پانے والے ہیںکیا اُن کو دعا کا فائدہ پہنچے گا ؟
(۵) رسول اللہﷺکو فرماتے سنا جس نے عیب والی چیز بیچی اور اس کا عیب نہ بتایا تو وہ ہمیشہ اللہ کے غضب میں رہے گا اور فرشتے اس پر سدا لعنت کرتے رہیں گے ۔(ابن ماجہ)کیا آج کے مسلمان دکاندار خریدار کو سامان کا عیب بتاتے ہیں ؟ جن پر اللہ اور فرشتے لعنت کرتے ہوں کیا اُن کو دعا کا فائدہ پہنچے گا ؟
(۶) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:شہید کے سارے گناہ معاف ہو جائیں گے سوائے قرض کے ۔ (مسلم)جس مسلمان نے قرض لیا اور ادا کئے بغیر مر گیا کیا دوسروں کی دعائیں اُس کا گناہ معاف کر ا دیں گی ؟
(۷) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قرآن میں اپنی رائے سے بات کی وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے اور جس نے قرآن میں علم کے بغیر گفتگو کی وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۔(ترمذی)جو لوگ آج دین و شریعت کے متعلق باتیں کرتے ہیں کیا وہ قرآن کا علم رکھتے ہیں ؟ اگرقرآن کا علم نہیں رکھنے کے بعد بھی دین کی باتیں کر رہے ہیں اور جن کا ٹھکانہ جہنم ہے،کیا اُن کو دعا کا فائدہ پہنچے گا ؟
(۸) رسول اللہﷺ نے فرمایا:مسلمانوں کے مسلمانوںپر چھ حق ہیں۔ پوچھا گیا وہ چھ باتیںکون سی ہیں؟نبی ﷺنے فرمایا وہ چھ باتیں یہ ہیں: (۱)جب تو کسی مسلمان سے ملے تو اسے سلام کر۔(۲)اگر وہ دعوت دے تو قبول کر۔ (۳)اگر وہ تجھ سے خیر خواہی کاطالب ہو تو اس کے ساتھ خیر خواہی کر۔(۴)جب اسے چھینک آئے اور وہ الحمدللہ کہے تو تو جواب دے۔(۵)جب وہ بیمار پڑے تو اس کی عیادت کو جا۔(۶)جب وہ مرجائے تو اس کے پیچھے قبرستان جا۔(مسلم)
حق تلفی اور شرک ایسا گناہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ کبھی معاف نہیں کرے گا۔جو لوگ اپنے مسلمان بھائیوں کا حق نہیں کرنے کے ایسے مجرم ہیں جن کو اللہ تعالیٰ معاف کرے گا ہی نہیں،کیا اُن کو دعا کا فائدہ پہنچے گا ؟
او پرنقل کی گئی حدیثوں میں ایسے گناہوںکا ذکر کیا گیاجنہیں اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرے گا، جب تک گناہ کرنے والا سچی توبہ کر کے اُن گناہوں سے چھٹکارا نہ پالے۔کیاآج کے مسلمانوںکو ان گناہوں کی سمجھ ہے اور وہ ان سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں ؟ نہیں ! نہ اُن کو معلوم ہے، نہ وہ ان سے بچنا چاہتے ہیں اور نہ ہی ان گناہوں کی معافی مانگنا چاہتے ہیں۔اگر اللہ کے نیک بندوں کی دعا کا حقدار بننا ہے تو پہلے ہر مسلمان خود نیک بنے اور ہر طرح کے گناہوں سے توبہ کرکے تقویٰ کا پیکر بن جائے۔ پھر کسی سے دعا کی درخواست کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ خود بخود اللہ کے بیشمار نیک بندوں کی پانچ وقت کی نماز میں کی جانے والی دعااُس کے حق میں قبول ہوتی رہے گی۔
ضضضضض

Coming Soon
Who Will Win Bhokar Assembly Constituency?
Indian National Congress
BJP
Coming Soon
Who Will Win Nanded North MLA Seat
D.P Sawant Congress
Feroz Lala AIMIM
VBA
Shiv Sena
Coming Soon
Who will Win Nanded South MLA Seat
Indian National Congress
ShiveSena
AIMIM
Vanchit Bahujan Aghadi
Dilip Kundkurte Independent

chrome_5UcEeDOjV2
اپنی حالت کا خود احساس نہیں ہے مجھ کو
کفار و مشرکین اپنے ظلم سے مسلمانوں کے جسم سے جان نکال سکتے ہیں ایمان نہیں

WARAQU-E-TAZA ONLINE

I am Editor of Urdu Daily Waraqu-E-Taza Nanded Maharashtra Having Experience of more than 20 years in journalism and news reporting. You can contact me via e-mail waraquetazadaily@yahoo.co.in or use facebook button to follow me