اس تحریر میں کچھ باتیں ایسی ہو سکتی ہیں جو چند قارئین کی طبعیت پر گراں گزر سکتی ہیں۔

’میں ماضی میں اپنے ساتھ پیش آنے والی سفاکی کو بھول کر زندگی میں آگے بڑھ چکی تھی، لیکن پھر ایک پرانے واقعے کی یاد تازہ کر کے مجھ پر قیامت ڈھا دی گئی۔ مجھے ایک بار پھر وہ بربریت یاد دلائی گئی ہے۔ دس برس قبل مجھے جنسی طور پر ہراساں کرتے ہوئے ویڈیو بنائی گئی تھی جو اب ایک دہائی بعد دوبارہ وائرل کر دی گئی ہے۔ اس ویڈیو نے میری شادی شدہ زندگی کو داؤ پر لگا دیا ہے اور اُس زندگی کو جو میں اپنے بچوں کے ساتھ گزار رہی تھی۔‘

صوبہ خیبرپختونخوا کے ایک دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والی خاتون نے اپنی دکھ بھری کتھا کچھ اس انداز میں بی بی سی کو سنانا شروع کی۔

انھوں نے کہا کہ وہ اپنی وائرل ہونے والی پرانی ویڈیو میں ایک مرتبہ پھر اپنے اوپر ہونی والے جنسی تشدد کو نہ صرف دیکھ سکتی ہیں بلکہ محسوس بھی کر سکتی ہیں۔ یہ ویڈیو اس وقت بنائی گئی تھی جب متاثرہ خاتون کم سن لڑکی تھیں اور ان کی عمر 15 برس کے لگ بھگ تھی۔

متاثرہ خاتون کے مطابق ایک دہائی بعد ایک مرتبہ پھر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ان کے شوہر نے انھیں گھر سے نکال دیا ہے۔ ان کے مطابق اس پرانی ویڈیو کی بنیاد پر ناصرف ان کے سسرال والے بلکہ ان کے اپنے خاندان والے اُن کے کردار پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

خاتون کا کہنا ہے کہ ان کی پورے خاندان میں اب صرف ان کے والد ہی ایسی واحد شخصیت بچے ہیں جو اس مشکل میں ان کا سہارا بنے ہوئے ہیں۔ ان خاتون کے والد دیہاڑی دار مزدور ہیں۔

میرے آس پڑوس اور جاننے والوں میں اب ہر کسی کے پاس یہ ویڈیو پہنچ چکی ہے۔ اب میں جہاں بھی جاتی ہوں مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے لوگوں کی معنی خیز نگاہیں میرا پیچھا کر رہی ہیں۔ اب جو بھی یہ ویڈیو دیکھتا ہے وہ یہ کہتا ہے کہ یہ تو وہی ہے جسے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔‘

اُن کا کہنا ہے کہ اس مشکل وقت میں اُن کے والد ہی ان کے مددگار ہیں مگر ان کے خاوند اور سسرال والوں نے انھیں تنہا چھوڑ دیا ہے۔ ’میرے خاوند اس بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ جو کچھ میرے ساتھ ہوا اُس سب میں میرا کوئی قصور نہیں تھا۔ بس اس وقت صرف میرا والد ہی میرے ساتھ ہے۔ وہ کمزور ضرور ہیں مگر وہ میری وجہ سے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔‘

دس برس قبل کیا ہوا تھا؟

متاثرہ خاتون نے بی بی سی کو اپنی روداد سُناتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے پڑوس میں رہنے والی ایک بڑی عمر کی خاتون کی وجہ سے اُس جال میں پھنسی تھیں جس سے وہ اب تک باہر نہیں نکل پائیں۔

ان کے مطابق جس بڑی عمر کی خاتون نے انھیں اپنے جال میں پھنسایا تھا، اُس کا اُن کے گھر آنا جانا رہتا تھا اور وہ متعدد مرتبہ مجھے کہتیں کہ ’تمھیں جب بھی وقت ملے تو ہمارے گھر ضرور چکر لگانا۔‘ اور اپنے گھر مدعو کرنے کی دعوت بہت مرتبہ کی گئی۔ بعد میں پتا چلا کہ یہ ویڈیو سکینڈل کے مرکزی ملزم کی بیوی تھیں۔

’شروع میں تو میں اُن کے گھر جانے سے انکار کرتی رہی مگر پھر ایک دن میں اُن کے گھر چلی گئی۔ اس خاتون نے موبائل سے میری تصاویر بنائیں جو مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگا اور میں واپس اپنے گھر آ گئی۔‘

’اس نے مجھے پھر کہنا شروع کر دیا کہ آپ میرے گھر آئیں۔ ان کے مطابق جب اس کے اصرار پر وہ دوبارہ ان کے گھر گئیں تو وہاں پہلے سے چار افراد موجود تھے اور میرے گھر میں داخل ہونے کے بعد انھوں نے دروازے کو اندر سے کنڈی لگا دی۔‘

ان چاروں نے باری باری مجھے ریپ کا نشانہ بنایا اور اس تمام عمل کی ویڈیو بنائی گئی۔ جب میں چلاتی اور مزاحمت کرتی تو وہ مجھے تھپڑ مارتے۔ جب یہ سب ہو گیا تو انھوں نے اس دھمکی کے ساتھ مجھے میرے گھر بھیج دیا کہ منھ بند رکھنا ورنہ وہ مجھے اور میرے پورے خاندان کو مار دیں گے۔‘

ان کے مطابق یہ ظلم یہیں ختم نہیں ہوا۔

وہ بڑی عمر کی خاتون پھر سے ان کے گھر آنا شروع ہو گئی اور اس نے ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا مجھے جب بھی بلایا جائے تو میں اس کے گھر ہر صورت جاؤں گی۔ وہ بتاتی ہیں کہ اس عرصے کے دوران ان کے والد نے اپنے جیسے خاندانی پس منظر کا رشتہ ڈھونڈ کر ان کی شادی طے کر دی جو بعدازاں انجام پائی۔

’میری شادی کے بعد اسی پڑوسی خاتون نے پھر مجھ سے رابطہ کیا اور اصرار کیا کہ میں دوبارہ اس کے گھر آؤں۔ میں نے اس بار اسے صاف صاف بتا دیا کہ اگر اس نے مجھے پھر مجبور کیا تو میں خود کشی کر لوں گی۔ یہ دھمکی کام کر گئی اور وہ خاتون دوبارہ کبھی نہیں آئیں۔‘

مگر اب اس واقعے کے دس برس بعد دوبارہ وہی پرانا سکینڈل زیر بحث ہے کیونکہ اب وہ ویڈیو وائرل ہے جو دس سال پہلے بنائی گئی تھی۔

وہ کہتی ہیں کہ جب سے یہ ویڈیو منظر عام پر آئی ہے میرے گھر والے شرمندگی اور سوالات کے ڈر سے گھر سے باہر نہیں نکلتے۔ ’میرے بہن بھائی مجھے خودکشی کے اپنے ارادے سے باز رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور حوصلہ دیتے ہیں مگر تنہائی میں وہ خاموشی سے آنسو بہاتے ہیں۔ میں اس سب کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی۔‘

’میرے والد کہتے ہیں کہ مجھے سچ بولنا چاہیے اور لوگوں کو سب کچھ بتا دینا چاہیے۔ میں انھیں راتوں کو روتا ہوا سُن سکتی ہوں اور یہ سب مجھے اندر سے توڑ کر رکھ دیتا ہے۔ مگر اس وقت میرے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ میں سچ بتا دوں اور پھر انصاف کی منتظر رہوں۔‘

پولیس کیا کر رہی ہے؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مانسہرہ کے ضلعی پولیس افسر صادق بلوچ نے بتایا کہ مقامی افراد نے ملزمان کی شناخت میں پولیس کی مدد کی ہے، جس کے بعد پولیس اُن کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

ان کے مطابق پولیس اس کیس سے متعلقہ مزید شواہد اکھٹے کر رہی ہے۔

اس مقدمے کی حساسیت اور اس حقیقت کے پیش نظر کہ جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت متاثرہ لڑکی کی عمر محض 15 سال تھی، اس مقدمے کے تفتیشی افسر سمیت کئی لوگ جو اس معاملے کے بارے میں جانتے ہیں اس بارے میں کھل کر تفصیلات بتانے سے گریز کر رہے ہیں۔

جن افراد نے اس ویڈیو کو دیکھا ہے وہ اس سے متعلق گواہی دینے کے لیے بھی سامنے نہیں آ رہے ہیں۔

اس ویڈیو میں دو متاثرہ لڑکیاں ہیں جن میں سے صرف ایک کی شناحت ہوئی ہے اور یہ وہی لڑکی ہے جس نے اس ریپ کے بارے میں اس آن ریکارڈ سب بتایا تھا جب یہ معاملہ سامنے آیا تھا اور جس کی کوریج ملک بھر کے میڈیا نے بھی کی تھی۔

ایک پولیس افسر نے جس نے یہ ویڈیو دیکھی اس نے بی بی سی سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس ویڈیو میں لڑکی کی عمر یہی کوئی 14 سے 15 سال کے لگ بھگ نظر آتی ہے۔

پولیس افسر کے مطابق اس ویڈیو میں مرکزی ملزم اس لڑکی کو زبردستی برہنہ کرتا ہے اور پھر مزاحمت کرنے پر تھپڑ مارتا ہے۔ اس ویڈیو میں مرکزی ملزم لڑکی کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا بھی نظر آتا ہے۔

تفتیشی افسر کے مطابق مرکزی ملزم اس بات پر مسلسل لڑکی کا مذاق اڑا رہا ہے کہ وہ کیمرے سے اپنا منھ چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔ اس ویڈیو میں لڑکی کی آواز سنی جا سکتی ہے جس میں وہ یہ درخواست کرتی ہے کہ اسے گھر جانے دیا جائے۔

اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزم اس لڑکی کو برہنہ کر کے تصاویر بنوانے کا کہہ رہا ہے۔ جب وہ ایسا نہیں کرتی تو اس پر مزید تشدد کیا جاتا ہے۔

تفتیشی افسر کے مطابق اس ویڈیو میں مرکزی ملزم اس لڑکی کے سامنے قرآن رکھ دیتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ اس ہاتھ رکھ کر حلف اٹھاؤ کے تم اس بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤ گی۔ اس کے بعد وہ اپنا اور اپنے معاون ملزم کا نام بتاتا ہے اور اس لڑکی کو کہتا ہے کہ وہ ان سے دوستی کرے گی اور ویسا ہی کرے گی جو وہ کہیں گے۔

اس لڑکی کے پڑوس میں مقیم لوگوں نے مقامی پولیس تھانے کے سامنے احتجاج کیا کہ وہ اس واقعے کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کریں۔

پولیس نے خاتون کا بیان ریکارڈ کر لیا ہے۔ جو ملزمان اس وقت پولیس نے گرفتار کر رکھے ہیں انھیں اس خاتون کے سامنے پیش کیا گیا اور پولیس کے مطابق اس خاتون نے ان کی شناخت کر لی ہے۔

اپنے بچوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے خاتون نے کہا کہ ’مجھے یہ نہیں پتا کہ میں پھر دوبارہ کبھی اپنے بچوں کو دیکھنے کے قابل ہوں گی یا نہیں کیونکہ میرا خاوند مجھے ساتھ رکھنے سے انکار کر چکا ہے۔‘

خاتون کا کہنا ہے کہ ’دس سال قبل جو ہوا وہ بہت ہی خوفناک تھا۔ مگر اب دس سال بعد نہ صرف میری زندگی بلکہ میرے ساتھ جڑی کئی اور زندگیاں بھی تباہ ہو گئی ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ جس شخص نے یہ ویڈیو وائرل کی ہے اس سے اسے کیا حاصل ہوا ہو گا۔‘

(بہ شکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام)