دسمبر کے آخر تک تیزی سے پھیلے گا اومیکرون انفکشن:اگروال

4

کانپور:05دسمبر(یواین آئی) عالمی وبا کورونا وائرس کی پہلی اور دوسری لہر کے بارے میں صحیح پیشین گوئی کرچکےآئی آئی ٹی کانپور کے سائنس داں پروفیسر منیندر اگروال نے کورونا کی تیسری لہر کےسال کے آخر تک اثر دکھانے کا انتباہ دیا ہے جبکہ جنوری کے آخر ہفتے تک کورونا کے نئی ویرینٹ اومیکرون کے شباب پر ہونے کے امکان ہیں۔

اومیکرون وائرس سے اب تک سب سے زیادہ جنوبی افریکہ متاثر ہوا۔وہاں درج کئے گئے معاملوں میں ریسرچ کی بنیاد پر پروفیسر اگروال نے نتیجہ نکالا ہے کہ اومیکرون کی شکل میں کورونا کی تیسری لہر دسمبر کے آخری ہفتے تک تیزی سے اپنا اثر دکھانا شروع کردے گی جبکہ جنوری کے آخری ہفتے اور فروری کے پہلے ہفتے کے درمیان ملک میں وائرس کے معاملے شباب پر ہونگے اور اس دوران ہر روز ایک سے ڈیڑھ لاکھ متاثرین اس کی زد میں آسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں ٹیکہ کاری مہم کی وجہ سے اومیکرون دوسری لہر کے دیلٹا وائرس سے زیادہ مہلک نہیں ہوگا ۔ وائرس سے بچاؤ کے لئے ٹیکہ کار اور احتیاط سب سے زیادہ کاریگر ثابت ہوسکتے ہیں۔ ڈیلٹا کے مقابلے اومیکرون کے انفکشن کی شرح ایک تہائی ہوسکتی ہے۔ متاثرہ مریضوں میں عام سردی زکام کے علامات ہونگے۔ ٹیکے کے دونوں خوراک لے چکے یا دوسری لہر میں انفکشن کو جھیل چکے افراد بھی انفکشن سے متاثر ہوسکتے ہیں حالانکہ ان میں جان کا خطرہ نہ کے برابر ہوگا۔
پدم شری پروفیسر اگروال نے کہا کہ ماسک اور جسمانی فاصلہ کو موثر بنانے اور ٹیکے کی دونوں خوراک لینے سے بیمار سے بچاؤ میں مدد مل سکتی ہے۔ بچوں پر یہ وائرس زیادہ اثر نہیں ڈال سکے گا۔