داعش کے رکن ہونے کے الزام میں گرفتار عبید حامد متل کی  این آئی اے عدالت نے ضمانت منظور کی

167

ملزم کو جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی نے امداد فراہم کی
نئی دہلی 21/ نومبر .ممنوع دہشت گرد تنظیم داعش کے رکن ہونے اور جہادی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت گرفتار عبید حامد متل نامی شخص کو آج دہلی کی پٹیالہ ہاؤس عدالت میں قائم خصوصی این آئی اے عدالت نے مشروط ضمانت پر رہاکیئے جانے کا حکم جاری کیا۔

ملزم پر الزام ہیکہ وہ دیگر ملزمین کے ساتھ ملکر مسلم نوجوانوں اور نو مسلم لوگو ں کی ذہین سازی کرتا تھا اور شوشل میڈیا کے ذریعہ مسلم نوجوان کو داعش میں شمولیت اختیار کرنے کے لیئے اکساتا تھاگذشتہ ماہ ہی خصوصی جج دھرمیش شرما نے چارج پر بحث کے بعد حکم دیا تھاکہ دیگر ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 120Bاور یو اے پی قانون کی دفعات 38اور39 کے تحت چار ج فریم کیا جائے جبکہ ملزم عبید حامد کے خلاف صرف یو اے پی قانون کی دفعہ 13کے تحت چارج فریم کیا جائے۔

31/ اکتوبر کو عدالت نے چارج فریم کیئے جانے کا حکم جاری کیا تھا۔چارج پر آرڈر ہونے کے بعد ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء ہند (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کی ہدایت پر ایڈوکیٹ عارف علی اور ایڈوکیٹ مجاہد احمد نے ملزم کی ضمانت عرضداشت این آئی اے عدالت میں داخل کی تھی۔اس مقدمہ میں استغاثہ نے ملزمین کے خلاف 8/ ستمبر 2021 کو چارج شیٹ داخل کی تھی، اس مقدمہ میں عبید حامد پہلاملزم ہے جسے ضمانت حاصل ہوئی ہے۔دوران سماعت ایڈوکیٹ مجاہد احمد نے عدالت کو بتایا کہ ملزم گذشتہ دو سال سے جیل میں مقید ہے اور یو اے پی اے قانون کی دفعہ 13کے مطابق اگر ملزم پر جرم ثابت بھی ہوگیا تو ملزم کو سات سال سے زائد کی سزا نہیں دی جاسکتی ہے لہذا ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جائے

کیونکہ عدالت عظمی کی گائڈلائنس ہے کہ ایسے مقدمات میں جن میں سزائیں سات سال تک ہوسکتی ہے ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جاسکتا ہے۔ملزم عبید حامد کو ضمانت پر رہا کیئے جانے کی این آئی اے نے سخت لفظوں میں مخالفت کی اورعدالت کو بتایا کہ ملزم پر ملک میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کا سنگین الزام ہے اور ملزم مسلم نوجوانوں کی ذہین سازی کرکے انہیں جہاد کرنے پر اکسانے کی کوشش کرتا تھا لہذا ملزم کی ضمانت پر رہائی کی درخواست کو نامنظور کردینا چاہئے کیونکہ اس مقدمہ میں حالانکہ عدالت نے چارج فریم کیئے جانے کا حکم دیا ہے لیکن ابھی تک تمام ملزمین کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

سرکاری وکیل کنچن نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم ماضی میں انڈین آرمس فورسیس پر پتھراؤ کرنے کے مقدمہ کا سامنا کررہا ہے نیز پیلٹ گن کی وجہ سے اس کی سیدھی آنکھ میں زخم بھی آیا تھا اور وہ تب سے ہی ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔فریقین کی بحث کے بعد استغاثہ د کے لائل مسترد کرتے ہوئے خصوصی این آئی اے جج نے ملزم عبید حامد کو مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کا حکم جاری کیا، عدالت کو ملزم کو پچاس ہزار روپئے کہ ذاتی مچلکہ اور ایک ضمانتدار کے عوض جیل سے رہا کیئے جانے کا حکم دیا،عدالت نے اپنے فیصلہ میں یہ بھی تحریر کیا کہ2017 کے مقدمہ کا اس مقدمہ سے کوئی تعلق نہیں ہے لہذااس مقدمہ کی وجہ سے ملزم کی ضمانت پر رہائی کی درخواست نا منظور نہیں کی جاسکتی ہے۔ ملزم 4/ اگست 2021  سے جیل میں مقید ہے لہذا کاغذی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اسے جیل سے رہا کیا جائے، عدالت نے اپنے فیصلہ میں مزید کہا۔