دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ و کارکنان کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ

0 236

کئی اہم مسائل پر ایک رائے نہ ہونے کے سبب طویل ہوا شوریٰ کااجلاس، کئی حتمی فیصلوں کا انتظار،کارکنان میں خوشی

دیوبند،15؍ اکتوبر(ایس۔چودھری)عالم اسلام کی عظیم دینی دانش گاہ دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کا دوروزہ بجٹ اجلاس تیسرے مرحلہ میں داخل ہوگیاہے، کئی اہم معاملات پر مؤقر اراکین شوریٰ کی ایک رائے نہ ہونے کے سبب شوریٰ کا اجلا س پیر کو بھی دیر رات تک جاری رہا۔ دارالعلوم دیوبند کے مجلس شوری کا دو روزہ اجلاس اتوار کی صبح نو بجے ادارہ کے مہمان خانہ میں شروع ہوا، اس اہم اجلاس میں اراکین شوریٰ کی اکثریت نے شرکت کرکے ادارہ کے ترقی کے سلسلہ میں کئی اہم تجاویز کو منظوری دی،دوسرے روز متعدد شعبہ جات کی رپورٹوں کے علاوہ ادارہ کا بجٹ پیش کیاگیااور ادارہ کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیاہے ۔حالانکہ امید ظاہر کی جارہی ہے اجلاس میں تمام تجاویز کو اتفاق رائے منظور کرلیا جائیگا لیکن کئی اہم مسئلوں پر ایک رائے نہ ہونے کے سبب یہ اجلاس دوسرے دن دیر رات تک جاری ر ہا۔ وہیں کارکنان کی تنخواہوںمیں بالمختہ اطمینان بخش اضافہ کیا گیاہے، جس سے کارکنان میں خوشی کا ماحول ہے۔ذرائع کے مطابق اساتذہ کی تنخواہوںمیں چا رہزار روپیہ، دفتر ی امور انجام دینے والے کارکنان کی تنخواہوں میں تین ہزار روپیہ جبکہ اجیران و دیگر فورتھ گریڈ کی تنخواہوںمیں دو دو ہزا رروپیہ کابالمختہ اضافہ کیاگیاہے۔ عام طوپر تین نشستوں پر مشتمل شوریٰ کا اجلاس اس مرتبہ کافی طویل ہوگیا ہے ۔پیر کے روز بعد نماز مغرب شوریٰ کی پانچویں نشست منعقد ہورہی ہے۔ ذرائع کے مطابق دوروزہ اجلاس میں ہونے والی تمام نشستوںکے علاوہ ایک خصوصی نشست کا بھی اہتمام کیاگیا، بتادیں کہ ملک کے موجودہ نامساعد حالات اور ادارہ کے بجٹ و اساتذہ و کارکنان کی تنخواہوں میں اضافہ جیسے کئی اہم فیصلوں کے سبب اس اہم اجلاس پرعلماء،کارکنان دارالعلوم دیوبند اور میڈیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ حالانکہ تمام فیصلوںکی پوری صورتحال آج بھی واضح نہیں ہوسکی ہے ، مگر بتایا جارہاہے گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی ادارہ کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے، سال گزشتہ ادارہ کے بجٹ میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ کا اضافہ کیاگیا تھا،جبکہ اس مرتبہ تقریباً دو کروڑ کا اضافہ ہونے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ ادارہ میں کئی شعبوں کے نظماء کے خالی عہدوں پر نئی تقرریوں اور ادارہ کے اندرونی مسائل کو لیکر اجلاس میں کافی غوروفکر کیاجارہاہے۔ گزشتہ اگست مہینے میں مولانا محمد سالم قاسمی ؒ سیمینار کے موقع پر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی متضاد تحریروںکا بھی اراکین شوریٰ نے نوٹس لیا ہے۔وہیں مطبخ اورطعام وغیرہ سے متعلق و دیگر امور کے لئے کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔ کئی اراکین شوریٰ نے سیکڑوں طلباء اور درجنوں اساتذہ سے ادارہ سے متعلق مسائل پر گفتگو بھی کی ہے۔اجلاس میں رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل ،مولانا اسماعیل مالیگاؤں، مولانا عبدالعلیم فاروقی،مولانا اشتیاق احمد،مولانا ملک ابراہیم،مولانا حکیم کلیم اللہ،مولانا رحمت اللہ کشمیری،مفتی احمد خانپوری ،مولانا انوارالرحمن،مفتی احمد خانپوری،ماسٹر انظر حسین میاںدیوبندی،مولانامحمود راجستھانی،مفتی نظام الدین خاموش گجرات،مولانا عبدالصمد، اورمہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی و صدر المدرسین مفتی سعید پالنپوری وغیرہ شرکت کررہے ہیں۔