خود کو ہائی کورٹ جج ظاہر کرنا مہنگا پڑا

231

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ کے ایک جج کی تلبیس شخصی کرنے والے ایک شخص کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جس نے رقم وصول کرنے کی کوشش میں پولیس عہدیداروں کو پیامات روانہ کیے تھے۔دہلی پولیس نے اس بات کی توثیق کی ہے۔ ملزم کی دہلی کے آدرش نگر کے ساکن نریندر کمار اگروال کی حیثیت سے شناخت کی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) دیویش کمار مہالا کے مطابق اس بات کی توثیق ہوچکی ہے کہ اگروال نے دہلی ہائی کورٹ کے جج کے نام پر رقم وصول کرنے کی کوشش میں کئی پولیس عہدیداروں کو پیامات روانہ کیے تھے۔

یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (اے سی پی) سب ڈویژن سمے پور بدلی انوراگ دویدی کو جمعہ کے روز اپنے فون پر ایک واٹس ایپ پیام موصول ہوا۔ پیام میں کہا گیا کہ میں جسٹس (نام مخفی) دہلی ہائی کورٹ کا برسرخدمت جج ہوں۔مجھے فوری فون کریں۔ فون کرنے پر پتہ چلا کہ پیام روانہ کرنے والا شخص سمے پور بدلی پولیس اسٹیشن سے متعلق ایک رِٹ درخواست کے سلسلہ میں 5 بجے شام سمے پور بدلی پولیس اسٹیشن کا دورہ کرے گا۔ اے سی پی انوراگ دویدی نے سمے پور بدلی کے ایس ایچ او انسپکٹر سنجے کمار کو اس پیام سے واقف کرایا۔ شام تقریباً 5 بجے تقریباً 60 سال کی عمر کا ایک شخص ایک ٹاٹا نانو کار میں وہاں پہنچا اور دہلی ہائی کورٹ کا جج ہونے کا دعویٰ کیا۔پولیس کے مطابق نام نہاد جج نے انہیں بتایا کہ وہ پولیس اسٹیشن سمے پور بدلی کے حدود میں جاری منظم جرائم کے سلسلہ میں داخل کی گئی رِٹ درخواست کی شخصی جانچ پڑتال کے سلسلہ میں وہاں آیا ہوا ہے۔

اس نے یہ بھی کہا کہ اس نے یہ معاملہ ایک دن پہلے بیٹ کانسٹبل پون کے ساتھ نمٹانے کی کوشش کی تھی لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔بعد ازاں نام نہاد جج نے سمے پور بدلی کے ایس ایچ او سے کہا کہ وہ رِٹ درخواست کو مسترد کرانے کے لیے پانچ لاکھ روپئے ادا کریں ورنہ مصیبت میں پڑجائیں گے اور اپنی ملازمت سے محروم ہوجائیں گے۔ دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے کسی جج کے سمے پور بدلی پولیس اسٹیشن کے دورہ کے بار ے میں کوئی سرکاری مراسلہ نہ ملنے پر انسپکٹر نے کچھ گڑبڑ کا شبہ کیا۔اس نے اپنے آپ کو جج بتانے والے شخص کے بارے میں جانچ پڑتال کی۔

اگروال کے موبائل فون کی جانچ پڑتال پر کئی واٹس ایپ پیامات پائے گئے، جس میں اس نے دہلی ہائی کورٹ کا جج ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور پولیس عہدیداروں کو اپنے مطالبات کی تکمیل کے لیے دھمکایا تھا۔اسی دوران ہیڈ کانسٹبل پون بھی پولیس اسٹیشن پہنچ گیا اور اس بات کی توثیق کی کہ نریندر اگروال نامی شخص نے اس کے موبائل پر فون کیا تھا اور رقم کا مطالبہ کیا تھا۔ اس نے دھمکی دی تھی کہ اگر مطالبہ کی تکمیل نہ کی گئی تو اسے برطرف کردیا جائے گا۔